روس اور ترکی کیا چھپا رہے ہیں؟

روس اور ترکی کیا چھپا رہے ہیں؟
روس اور ترکی کیا چھپا رہے ہیں؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

توقع تھی کہ نو روز قبل روسی طیارے کو مار گرائے جانے کے بعد ترک اور روس کے مابین ترکی بہ ترکی مشترکہ دوستوں اور بہی خواہوں کی مداخلت سے رفتہ رفتہ ٹھنڈی پڑ جائے گی مگر ماسکو اور انقرہ فی الحال ایک دوسرے کو بخشنے کے موڈ میں نہیں لگتے چنانچہ قصور وار اور بے قصور کی بحث میں نئے نئے فریق شامل ہوتے جا رہے ہیں۔عسکری تجزیہ کاروں کے ساتھ ساتھ اب آسٹرو فزکس کے ماہرین بھی تکنیکی بحث میں کود پڑے ہیں۔ برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق بیلجیئم کی کیتھولک یونیورسٹی سے وابستہ خلائی طبیعات کے دو ماہرین ڈاکٹر ٹام وین ڈورس اور ڈاکٹر گیوانی لاپنتا کا کہنا ہے کہ ترکی اور روس پورا سچ نہیں بتا رہے۔ترکی کا سرکاری موقف ہے کہ روسی طیارہ 17 سیکنڈ تک اس کی فضائی حدود میں رہا اور طیارے کو پانچ منٹ میں دس بار خبردار کیا گیا۔

ڈاکٹر ٹام وین اور ڈاکٹر لاپنتا نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ایک طیارہ 980 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرے تو 80 کلومیٹر چوڑے ترک علاقے سے گزرنے کے لیے اس طیارے کو زیادہ سے زیادہ ایک منٹ 20 سیکنڈ درکار ہیں۔ایسے میں ترک فضائیہ کو پانچ منٹ پہلے کیسے پتہ چل گیا کہ روسی طیارہ لازماً اس کی فضائی حدود میں داخل ہوگا اور اپنا رخ نہیں موڑے گا۔اگر مان لیا جائے کہ روسی طیارہ صرف 17 سیکنڈ ترک فضائی حدود میں رہا تو دنیا کی ایسی کونسی فوجی ہائی کمان ہے جو اس قدر مستعد ہو کہ اسے اتنے قلیل عرصے میں شناخت کر کے، نیت بھانپ کر مار گرانے کا حکم بھی جاری کر دے اور اس حکم کی تعمیل بھی ہو جائے۔یہ تب ہی ممکن ہے جب ایسے احکامات پیشگی جاری کیے جائیں کہ اگر طیارہ فضائی حدود میں داخل ہو تو اسے فوراً مار گرایا جائے۔

دونوں سائنسدانوں نے روس کے اس دعوی کو بھی چیلنج کیا ہے کہ جب طیارے سے میزائل آ کے لگا تو اس وقت روسی طیارہ ترک فضائی حدود میں داخلے سے بچنے کے لیے 90 ڈگری زاویے کا موڑ کاٹ چکا تھا۔ڈاکٹر ٹام وین اور ڈاکٹر لاپنتا کے بقول روسیوں کو کم ازکم اتنی مکینکس تو معلوم ہونی چاہیے کہ 980 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑنے والے ایس یو 24 طیارے کا وزن اور حجم اتنا کم ہے کہ اسے دو سیکنڈ میں 90 کے زاویے پر مڑتے ہوئے اپنا توازن برقرار رکھنے کی خاطر دوگنی رفتار اور دگنا وزن درکار ہے۔روس کا دعوی ہے کہ دراصل ترک ایف 16 طیارے نے شامی فضائی حدود میں ایک کلومیٹر اندر گھس کے طیارے کو نشانہ بنایا اسی لیے طیارے کا ملبہ سرحد سے چار کلومیٹر اندر شامی علاقے میں گرا۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی ایک رپورٹ میں ایک نیٹو اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا کہ ترکوں نے دس بار نہیں بلکہ دو بار روسی طیارے کو وارننگ دی۔ اس بابت ترکی نے جو ریکارڈنگ جاری کی ہے وہ مبہم لگتی ہے۔

امریکی فضائیہ کے ایک سابق وائس چیف آف اسٹاف لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ ٹوم میکلینری نے فوکس نیوز پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فضائیہ کا عمومی آپریشنل پروسیجر یہ ہے کہ جب کوئی اجنبی طیارہ فضائی حدود میں داخل ہوتا ہے تو پہلے یہ اطمینان کیا جاتا ہے کہ آیا یہ کوئی غلطی ہے یا طیارہ حملے کی نیت سے داخل ہوا ہے، پھر ضروری وارننگز دی جاتی ہیں اور پھر اسے نشانہ بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔جنرل ٹوم میکلینری کے مطابق بادی النظر میں لگتا ہے کہ ترکوں نے عجلت میں نچلے لیول پر آخری فیصلہ کر لیا اور اب اس پر ڈٹ جانا ایک سیاسی مجبوری ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جس وقت روسی طیارے پر میزائل لگا اس وقت وہ ترک فضائی حدود سے واپس ہو رہا تھا۔ اگر اس کا ارادہ جارحانہ ہوتا تو پھر اسے اور اندر آنا چاہیے تھا اور ملبہ بھی ترکی کی حدود میں ہی گرنا چاہیے تھا۔گذشتہ اکتوبر میں ایک روسی جنگی طیارہ ترک فضائی حدود میں داخل ہوا۔ روس نے معذرت کرتے ہوئے وجہ یہ بتائی کہ دراصل ایک ترک ایف 16 نے روسی طیارے کو اپنے نشانے پر رکھ لیا تھا لہذا روسی طیارے نے اپنے بچاؤ کے لیے ترک حدود میں غوطہ لگا لیا۔ ترکی نے روس کی معذرت تسلیم کر لی اور معاملہ رفع دفع ہوگیا۔

اس سائنسی ، تکنیکی و عسکری بحث سے قطع نظر غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے مگر غلطی کا جواب غلطی کی سنگینی کے اعتبار سے ہونا چاہیے۔امریکی سفارتی و دفاعی ذرائع کی وکی لیکس کے ذریعے افشا تفصیلات کے مطابق ترک فضائیہ نے دو ہزار پانچ میں یونانی فضائی حدود کی 1017 مرتبہ خلاف ورزی کی۔یونان اور ترکی روایتی حریف ہوتے ہوئے بھی نیٹو اتحادی بھی ہیں لہذا یونانی ردِعمل احتجاج سے آگے نہیں بڑھا۔ 2012ء میں شامی حدود میں داخل ہونے والے ترک ایف سیون فینٹم کو مار گرایا گیا تو صدر رجب طیب اردوان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ایک معمولی سی سرحدی خلاف ورزی کا اتنا سنگین ردِ عمل بلاجواز ہے۔آج روس بعینہِہ یہی کہہ رہا ہے مگر ترکی کا وہی جواب ہے جو 2012ء میں شامی حکومت کا تھا یعنی شام اپنی فضائی حدود کی کسی بھی نوعیت کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا۔

مزید : کالم