روگ ہی روگ ہے

روگ ہی روگ ہے
روگ ہی روگ ہے

  

مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت نے313 درآمدی اشیاء پر5 سے10فیصد اضافی ڈیوٹی لگا کر اپنے تئیں اندازہ کر لیا کہ اضافے سے حکومت کو محصولات میں 40 ارب روپے کی اضافی آمدن ہوگی جو محصولات کی وصولی کی کمی کو پورا کرنے میں معاون ہوگی۔

فیصلے کے مطابق61 بقول وزیر خزانہ لگژری اشیاء کی درآمد پر5سے10فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی اور289 لگژری اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے اور لگثرری درآمدی اشیاء پر ایک فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی لگانے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ مژدہ بھی سنایا ہے کہ بعض اشیاء ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ کن کن اشیاء کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہوں گے، سرکار کی جانب سے جاری فہرست لے کر بازاروں میں گھومیں تو اندازہ ہوگا کہ ہر چیر خصوصا اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ پر تعیش تو کیا، ضرورت کی تمام چیزیں مہنگی ہو گئی ہیں۔ 40ارب محصولات کے ہدف کی کمی کو پورا کرنے کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ سول آرمڈ فورسز کی صلاحیتوں کو بڑھانے، آپریشن ضرب عضب اور متاثرہ آبادی کی بحالی کے لئے اضافی100ارب درکارتھے اورعالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پر تعیش اشیاء کی درآمد میں اضافہ کی وجہ سے محصولات میں40ارب کی کمی ہوئی جن کو نیا ٹیکس لگا کر پوراکیا جارہاہے۔واہ واہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار ، جواب نہیں ہے آپ کا۔ آ پ کہتے ہیں کہ ان اقدامات سے عام آدمی پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔ آپ بازار گئے ہوں تو آپ کو حقیقی بھیانک صورت حال کا اندازہ ہو سکے۔ وزیر خزانہ کی تاویلات ایک طرف، دوسری طرف فیڈرل بورڈ آٖ ف ریونیو کے ترجمان کا بیان بھی اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس وصولیوں کے لئے نومبر کا ہدف حاصل کرلیا گیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں نومبر 2015 ء کے دوران 27.22 فیصد سے زائد ٹیکس وصولیاں کی گئی ہیں جو 229 ارب روپے ہیں جبکہ نومبر 2014ء کے دوران 180 ارب روپے کے ٹیکس محصولات وصول ہوئے تھے ۔

ساتھ ہی ساتھ حکومت کی جانب سے نیشنل سیونگ سکیموں میں شرح منافع میں ایک بار پھر کمی کرنے کا اعلان بھی ایسے لوگوں کے لئے مشکل کی وجہ بنے گا جن کا انحصار ہی سرکاری سکیموں میں لگائے ہوئے ان کے پیسے کے منافع پر ہوتا ہے۔ ان کے گھروں کے اخرا جات ہی ان رقموں سے حاصل کردہ منافع سے پورے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ قومی بچت کی اسکیموں کا انتخابات اس لئے بھی کرتے ہیں کہ ان کی رقمیں محفوظ رہیں گی۔ حکومت کی طرف سے بار بار منافع میں کمی کا اقدام لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ اپنی رقمیں نجی لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیں جہاں سے انہیں زیادہ منافع مل سکے ، لیکن اس طرح تو یہ لوگ اپنی رقمیں کھو بیٹھتے ہیں، جس کی لاتعداد مثالیں موجود ہیں۔ وزیر خزانہ کا یہ اعتراف بھی پریشان کن ہے کہ وسیع پیمانے پر رقم کو بیرون ملک منتقل کیا جارہا ہے ۔ پھر ایوان صنعت و تجارت لاہور کے سربراہ کا یہ کہنا کہ سمگلنگ ہماری معاشی نشوونما کے لئے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے، افغانستان، ایران، چین اور بھارت سے سمگل شدہ اشیاء ایک سیلاب کی طرح آرہی ہیں ، چونکہ ان پر کوئی ڈیوٹی یا ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا لہذا سستی ہونے کی وجہ سے صارفین انہیں مقامی اشیاء پر ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی مارکیٹیں سمگل شدہ اشیا سے بھری پڑی ہیں، جس کی وجہ سے مقامی صنعتیں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔

پاکستان میں ہر حکومت کے پاس ایک ہی نسخہ ہے کہ اخراجات کو پورا کرنے کے لئے ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا جائے ۔ دیگر قابل عمل اقدامات کے بارے عملی اقدامات تو درکنار، غور و فکر بھی نہیں کرنا ہے۔ اگر اس میں ناکامی ہو تو کشکول اٹھا کر آئی ایم ایف سے رجوع کر لینا ہے۔ آخر اس طرح اس ملک کی معیشت کو کیسے سنوارا جا سکے گا ؟ ٹیکسوں کی وصولی کا نظام فرسودہ ہے۔ ٹیکس آمدنی کو ظاہر کرنے کے طریقہ کار کو ہر آنے والے سال مشکل سے مشکل بنایا جارہا ہے۔ ٹیکس دینے کے قابل نئے لوگوں سے ٹیکس وصول نہیں ہو پارہا ہے۔ کسٹم میں عملے کی بھاری اکثریت اپنی اسی روش پر قائم ہے کہ جو ہوگا دیکھا جائے گا ، ابھی تو جیب بھرو۔ نتیجہ سامنے ہے کہ ملکی مصنوعات تیار کرنے والے ادارے چیخ رہے ہیں کہ سمگلنگ کی بہتات کی وجہ سے ان کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ صنعتیں بند ہو جائیں گی تو بے روز گاری کا ایسا طوفان ہوگا جسے کوئی حکومت بھی تھام نہیں سکے گی۔ چین ہمار دوست ضرور ہے، لیکن ہمیں بھی تو اپنا وجود بچانا ہے۔ ہر کیل کانٹے کے لئے چینی مصنوعات پر انحصار کہاں کی عقل مندی کا سودا ہے۔ بھارت کے ساتھ کشیدگی نئی بات نہیں اور بھارت کی پاکستان کے اندر مداخلت بھی ڈھکی چھپی کہانی نہیں ہے، لیکن پاکستان کے سب ہی بڑے اور چھوٹے شہروں میں بھارت کی مصنوعات کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔ دوکاندار کسی خوف کے بغیر یہ اشیاء دوکان میں سجا کر رکھتے ہیں اور خریدار اپنا ہاتھ بھی نہیں روکتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں کہتا ہے کہ مجھے پاکستان میں بنا ہوا سامان درکار ہے۔ رقم کی بیروں ملک غیر قانونی ترسیل کا ا عتراف تو وزیر خزانہ نے خود ہی کیا ہے۔ یہ اعتراف کرنے کی بجائے انہیں قوم کو یہ بتانا چاہئے تھا کہ حکومت نے کتنے ارب روپے ملک سے باہر لے جانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا تو بات بنتی۔ کیا وزیر خزانہ کے علم میں نہیں ہے کہ پاکستان میں کتنی ایان علی جیسی خواتین موجود ہیں جو اس کاروبار میں ملوث ہیں۔ یہ کھیپئے کون لوگ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ہی تو ہیں جو بار بار بیرون ملک آتے اور جاتے ہیں۔ غیر قانونی طور پر بھاری بھاری رقمیں غیر ملکی کرنسی کی صورت میں لے جاتے ہیں اور واپسی پر مختلف سامان اسمگل کر کے لاتے ہیں۔ ایان کے بارے میں عدالت کو بتایا گیا کہ وہ اکتالیس بار بیرون ملک دورے کر چکی ہے۔ کیا کبھی کسی نے اس سے یا اس طرح آنے اور جانے والوں سے تفتیش کی کہ آخر اس تواتر کے ساتھ ان کے بیرون ملک دوروں کا مقصد کیا ہوتا ہے اور ان کی کیا سرگرمیاں ہیں۔ یہ کہنا کیا معنی رکھتا ہے کہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ عملی اقدامات سے گریز کو غور کرنا کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے جو ملک کے لئے ایک روگ بن گیا ہے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں سرے سے ہی ناکام ہیں کہ اسمگلنگ کے سامان کی خرید و فروخت کے خلاف ہی کارروائی کرتیں۔ کیا در آمدی فہرست کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے ؟ انتہائی اہمیت کا سامان منگانے کی اجازت دی جائے ، باقی سامان کسی قیمت پر برآمد نہ کیا جائے ۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ بلا شبہ روتے ہیں کہ حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے اور ہر تین ماہ بعد بجٹ پیش کیا جارہا ہے۔ سیاسی اور سماجی رہنما کچھ ہی کہتے رہیں ، حکومت پر کوئی اثر نہیں ہوتا ہے۔ وزیر خزانہ کا یہ استدلال کیوں کام کرے گا کہ چاکلیٹ صرف امیروں کے بچے کھاتے ہیں ۔ وہ دانستہ اس طرح کا تبصرہ کر کے غریب لوگوں کے غصہ کو کم کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ مسلہ چاکلیٹ کا نہیں ہے، پیٹ بھر روٹی کا ہے ۔ غریب کو ایسی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے جو ہر حکومت کی اہم ترین ذمہ داری تصور کی جاتی ہے کہ جس ملک پر وہ حکمرانی کر رہے ہیں اس کے عوام کو فراہم کریں گے۔ کیا اس میں صداقت نہیں ہے کہ پاکستان میں حکومتیں تسلسل کے ساتھ عوام کی محرومیوں میں اضافہ کا سبب ہی بنی ہیں۔ ٹیکسوں کی بھر مار کے باوجود عام لوگوں کی محرومیوں میں کمی کا امکاں تو درکنار، اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ اس تماش گاہ میں یہ خبر بھی دی گئی ہے کہ بڑھتی مہنگائی، نئے ٹیکسوں اور دیگر امور پر قومی اسمبلی میں چھ جماعتیں متحدہ اپوزیشن کے لئے متحد ہو گئی ہیں۔ یہ طفل تسلی کے سوا کچھ اور نہیں ۔

مزید : کالم