جنوبی کیلیفورنیا میں فائرنگ کا حالیہ واقعہ ممکن ہے دہشت گردی ہو ،اوبامہ

جنوبی کیلیفورنیا میں فائرنگ کا حالیہ واقعہ ممکن ہے دہشت گردی ہو ،اوبامہ

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) صدر بارک اوبامہ نے کہا ہے کہ جنوبی کیلیفورنیا میں شوٹنگ کا حالیہ واقعہ ممکن ہے دہشت گردی ہو۔ بدھ کے روز سان برنارڈینو میں معذور افراد کیلئے ایک سرکاری ادارے میں ہونے والی ایک پارٹی پر دو مسلح افراد نے شوٹنگ کرکے 14 افراد کو ہلاک اور 17 کو زخمی کردیا تھا۔ اس واقعے کے چند گھنٹے بعد پولیس نے حملہ آوروں کو تلاش کرکے گولی مار کر ہلاک کردیا۔ ان مشتبہ افراد کی شناخت ہوگئی ہے۔ یہ حملہ آور مسلمان امریکی میاں بیوی 28 سالہ سید فاروق اور 27 سالہ تاشفین ملک کے بارے میں ان کے پاکستانی اوریجن کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ اگرچہ اس بات کے شواہد مل گئے ہیں کہ سید فاروق نے حال ہی میں مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا تھا تاہم اس واقعے کو دہشت گردی قرار دینے میں سرکاری حکام ابھی احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔ صدر اوبامہ نے کہا ’’ممکن ہے یہ دہشت گردی کا واقعہ ہو‘ ممکن ہے اس ادارے سے حملہ آوروں کا کوئی مسئلہ ہو۔ ہم نہیں جانتے کہ ایسا کیوں ہوا ہے‘‘۔ جمعرات کے روز وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صدر اوبامہ جس وقت میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز بی کومی اور اٹارنی جنرل لوریٹا لینچ ان کے ساتھ موجود تھے۔ صدر اوبامہ نے امریکی کانگریس اور عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ابھی وقت ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے گن کنٹرول کی حمایت کریں کیونکہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے کیلئے گن استعمال کرنا چاہتا ہے تو ہم اسے روکنے کیلئے کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ اسے گن رکھنے کی اجازت ہے۔ میڈیا کی ا طلاع کے مطابق سید فاروق مسلمان تھا اور اسی ادارے کا ملازم تھا جس پر اس نے حملہ کیا تھا۔ اس کے ایک ساتھی ملازم نے بتایا کہ اس نے حال ہی میں سعودی عرب کا سفر کیا تھا۔ اس نے آن لائن تشفین ملک نامی خاتون کو دریافت کیا اور پھر سعودی عرب جاکر اس سے شادی کی تھی۔ صدر اوبامہ نے سکیورٹی حکام سے بریفنگ لینے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ کچھ شواہد ایسے مل رہے ہیں کہ ان کا تعلق داعش سے ہوسکتا ہے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور خاتون پاکستانی پاسپورٹ پر امریکہ آئی تھی جبکہ سید فاروق کے بارے میں بھی خیال یہ ہے کہ اس کا اوریجن پاکستانی ہے جس کی تفتیش جاری ہے۔

مزید : علاقائی