لاکھوں ایرانی عراق میں داخل ،دونوں ممالک کے درمیان صورتحال گھمبیر ہو گئی

لاکھوں ایرانی عراق میں داخل ،دونوں ممالک کے درمیان صورتحال گھمبیر ہو گئی

جدہ (محمد اکرم اسد) عراقی اور ایرانی حکومتوں کے درمیان 15 لاکھ افراد کے غیر قانونی طریقے سے عراق میں گھس آنے کے معاملے نے گھمبیر صورتحال اختیار کرلی ہے۔ صورتحال دھماکہ خیز ہوگئی ہے، عراقی حکومت نے ایرانی حکام پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے پیشگی ویزے لئے بغیر 15 لاکھ سے زیادہ ایرانیوں کو عراق بھجوادیا، ان کے پاس نہ پاسپورٹ ہے اور نہ ہی سرکاری دستاویزات، ویزے لئے بغیر یہ لوگ عراق گھس آئے، عراقی وزارت داخلہ نیا علامیہ جاری کرتے بتایا کہ ایران نے سرحدی علاقے میں بدامنی کا ماحول جان بوجھ کر برپا کیا تھا۔ اسی وجہ سے چہلم کے موقع پر اتنی بڑی تعداد میں ایرانی عراق میں گھس آئے۔ جریدے ’عکاظ‘ نے اپنی رپورٹ میں تفصیلات دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ ایرانیوں کے جم غفیر سرحدی چیک پوسٹ کو توڑ کر عراق میں جاگھسے، ایرانی پاسداران انقلاب ان کی حفاظت کے لئے موجود تھے۔ عراقی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں پہنچنے والے ایرانیوں کی مجموعی تعداد 30 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ سابق نائب صدر اسامہ البخشیفی اور متحدون محاذ کے سربراہ نے دونوں ملکوں کی حکومتوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ عراقی حکومت نے اس پورے معاملے پر شروع میں خاموشی سادھے رکھی، اندر ایسا تھا کہ کچھ ہوا ہی نہیں جبکہ ایرانی حکومت نے سب کچھ اس انداز میں کیا کہ جسے ایسے قوانین کا کوئی پاس نہیں اور عراق کی خود مختاری اس کی نظر میں کوئی وقعت نہیں رکھتی، ایرانی حکومت نے یہ تاثر دیا کہ گویا عراقی شہر ایران کا اٹوٹ حصہ ہے۔ دوسری جانب عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے واضح کیا کہ ان کے ملک کو غیر ملکی افواج کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے یہ وضاحت امریکا کی جانب سے داعش کے انسداد میں مدد کے لئے سپیشل فورس بھیجنے کے اعلان کے بعد دی، تیسری جانب عراق کے مسلح گروپوں نے عراق میں امریکی افواج کی تعیناتی مسترد کرتے ہوئے دھمکی دی کہ وہ امریکی افواج کی مزاحمت کریں گے۔

مزید : علاقائی