او سجنا! برکھا بہار آئی۔۔۔؟

او سجنا! برکھا بہار آئی۔۔۔؟
او سجنا! برکھا بہار آئی۔۔۔؟

  

کافی دنوں بعد کل رات ٹی وی کا ریموٹ پکڑا۔ رات کے آٹھ بج رہے تھے۔ خیال آیا دیکھیں ہمارے نیوز چینل کیا خبر سناتے اور کیا منظر دکھاتے ہیں۔ ویسے گزشتہ روز سے طبیعت اداس تھی۔ کراچی میں ملٹری پولیس کے دو جوان شہید ہو گئے تھے، اس سے پہلے رینجرز کے کئی جوان بھی جامِ شہادت نوش کرکے پاکستان کے سوادِ اعظم کو ایک بار پھر دو برس پہلے والے کراچی کی فضائیں یاد دلا رہے تھے جب ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا اور بینک ڈکیتیاں وغیرہ ایک معمول تھیں۔ پھر جب سے فوج نے آپریشن شروع کیا تھا، کراچی میں سکون و اطمینان کا ماحول پھر سے لوٹ آیا تھا، لوگ باگ بلاجھجک باہر نکلنے لگے تھے کہ اچانک یکے بعد دیگرے رینجرز اور ریگولر آرمی کے جوانوں کی شہادت بہت سے اندیشوں کو جنم دینے لگی۔ ہمارے میڈیا ہاؤسز نے حکم لگانا شروع کر دیا کہ وابستہ مفادات، آپریشن ضربِ عضب کو ناکام ثابت کرنے کا عزم کر چکے ہیں اور یہ مار دھاڑ اسی مہم کا حصہ ہے۔۔۔ لیکن جب ’’دنیا نیوز‘‘ آن کیا تو ’’آن دی فرنٹ‘‘ ٹاک شو میں کامران شاہد حسبِ معمول موضوعِ امروز پر گفتگو کررہے تھے۔ ان کے مبصروں کے پینل میں ہارون الرشید صاحب، سلیم بخاری صاحب اور ایئر مارشل شاہد لطیف صاحب موجود تھے۔ موضوع تھا کہ بھارت کی ایک خاتون اینکر اور معروف ٹیلی ویژن صحافیہ نے اپنی ایک کتاب میں پاک بھارت تعلقات کی فالٹ لائنوں کا ذکر کیا ہوا تھا۔ ابلاغیات کی دنیا میں عام دستور ہے کہ کتاب کے بعض متنازعہ فیہ حصوں اور موضوعات پر میڈیا کو سرگرم کر دیا جاتا ہے۔پھر ان پر مبصروں اور تجزیہ کرنے والوں کی طبع آزمائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ کتاب ’’گرم کیکوں‘‘ کی طرح ہاتھوں ہاتھ بک جائے۔ خاتون اینکر کا نام برکھادت تھا اور کتاب کا نام تھا:

This Unquiet Land: Stories Form India`s Fault Lines

اگر آپ بھی میری طرح NDTVکے ریگولر ناظر ہیں تو جانتے ہوں گے کہ برکھا دت کون ہیں۔ NDTV بھارت سرکار کا سرکاری چینل بھی شمار کیا جاتا ہے۔ مسٹر نریندر مودی کی انتخابی مہم میں جو بھرپور اور زبردست رول اس ٹی وی چینل نے ادا کیا وہ کسی بھی باخبر ٹیلی ویژن ناظر سے پوشیدہ نہیں ہوگا۔ ایک عرصے سے برکھادت اس چینل سے وابستہ ہیں اور اب تو اس کے شعبہ ء خبر کی سربراہ بھی بن چکی ہیں۔۔۔ بڑی تیز زبان اور تیزفہم خاتون ہیں۔ ایک عرصے سے حالاتِ حاضرہ کا ایک پروگرام کر رہی ہیں جس کا عنوان The Buck Stops Here ہے۔ برکھادت نے سینٹ سٹیفن کالج دہلی سے انگریزی زبان و ادب میں ماسٹر کیا اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے ابلاغیات کی ڈگری لی۔ عمر کوئی 44 برس کے لگ بھگ ہے۔ اطلاعات (یا افواہوں) کے مطابق دو کشمیری شوہروں سے رشتہ ء ازدواج میں منسلک ہوئیں لیکن پھر دونوں سے علیحدگی ہو گئی۔ انگریزی زبان میں کسی موضوع پر جب گفتگو کرتی ہیں تو معلوم ہوتا ہے نیا گرا بہہ رہی ہے اور جب اردو میں بات کرتی ہیں تو گنگ و جمن کی روانی ماند پڑتی نظر آتی ہے۔ پنجابی میں بھی رواں بلکہ دواں ہیں۔ بڑے کمال کی خاتون ہیں۔ اپنے ساتھ بچپن میں ایک جنسی زیادتی کا ذکر ایک کتاب میں اس طرح کیا ہے کہ قاری کی آنکھیں ’’کھل‘‘ جاتی ہیں۔ جب 2013ء کے انتخابات میں نوازشریف صاحب کی مسلم لیگ جیت گئی تھی تو اس روز وہ رائے ونڈ میں تھیں اور نون لیگ کی اس جیت پر میاں صاحب کو مبارکباد دی تھی۔ کئی بین الاقوامی واقعات و سانحات کی TV کوریج کر چکی ہیں۔ عراق، شام اور افغانستان کی جنگوں میں جا کر اس دھڑلے کی رپورٹنگ کی کہ بڑے بڑے جغادری ٹی وی مبصر اور رپورٹر ان کے سامنے بونے نظر آنے لگے۔

’’دنیا نیوز‘‘ پر جو موضوع اس شب زیر بحث تھا وہ ایک سنسنی خیز سکینڈل بنا کر پیش کیا جا رہا تھا۔ موضوع یہ تھا کہ 2014ء میں نیپال کے شہر کھٹمنڈو میں جو سارک کانفرنس منعقد ہوئی تھی اس میں ہمارے وزیراعظم محمد نوازشریف اور بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے ایک گھنٹے تک آپس میں ایک علیحدہ خفیہ ملاقات کی تھی جو اب تک منظر عام پر نہیں لائی گئی۔ برکھادت نے اپنی ایک کتاب میں اس ملاقات کا انکشاف گویا ’’بریکنگ نیوز‘‘ کے طور پر کیا ہے۔ اس خفیہ ملاقات کا اہتمام جس شخصیت نے کیا تھا اس کا نام سجن جندل (Sajjan Jindal) ہے جن کا لوہے اور سٹیل کا لمبا چوڑا بین الاقوامی بزنس نیٹ ورک ہے ۔اس کاروباری حوالے سے ان کے تعلقات پاکستان کی شریف فیملی سے بھی نہایت پُرتپاک ہیں۔ جندل ہی نے اس خفیہ ملاقات کا انتظام و انصرام کیا تھا۔ برکھادت کی اس کتاب میں اب اس خفیہ ملاقات کا جو ذکر کیا گیا ہے تو اس نے گویا بدگمانیوں اور شکوک و شبہات کی ایک پوری کتھا کھول کر سامنے رکھ دی ہے۔ جو سوال کامران شاہد بار بار شرکائے مباحثہ سے پوچھے جا رہے تھے وہ یہ تھا کہ اس ملاقات کی خبر پاکستانی ملٹری کو کیوں نہیں دی گئی؟۔۔۔ دوسرا شگوفہ جو اس کتاب میں چھوڑا گیا وہ وزیراعظم پاکستان کی وہ مبینہ ’’فریاد‘‘ تھی جو انہوں نے بھارتی وزیراعظم کو پیش کی اور کہا کہ پاکستانی فوج پر ان کا کوئی بس نہیں چلتا۔ اس لئے وہ پاک بھارت تنازعات کے اساسی مسائل (مسئلہ کشمیر اور ایل او سی / ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ وغیرہ) پر کوئی حتمی بات کرنے سے قاصر ہیں۔

اس قسم کے گرما گرم موضوعات تو پاکستان کے نیوز چینلوں کو اللہ دے اور پھر بندہ لے۔ ہمارا میڈیا یہ نہیں دیکھتا کہ اس میں پاکستان کی کتنی سبکی ہے اور بحیثیت قوم ہمیں ایسا کرنے میں کیا خسارہ ہے۔ ہمارے اکثر چینل صرف اپنے ’’تھری آر‘ (3R) Rating،Revenue اور Recognition پر ساری توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔۔۔۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے بہت اچھا کیا کہ کل ہی اس خبر کی تردید کر دی اور برکھادت کی سٹوری کو بے سروپا اور بے بنیاد قرار دے کر وضاحت کر دی کہ کھٹمنڈو(نیپال) کی سارک کانفرنس2014ء میں دونوں وزرائے اعظم کی جو مختصر ملاقات ہوئی تھی وہ سارک کے سارے رہنماؤں کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

پھر کل شب نو، پونے نو بجے جب ’’دُنیا نیوز‘‘ کا یہ ٹاک شو ختم ہوا تو مَیں نےNDTV آن کیا۔ وہاں بھی ازراہ اتفاقThe Buck Stops Here آن ائر تھا اور موضوع بھی وہی تھا جو پاکستانی چینل کے پروگرام On The Front پر ڈسکس ہو رہا تھا۔ اس بھارتی ٹاک شو میں برکھادت بطور اینکر خود موجود تھیں۔ شو کے مہمانوں میں سلمان خورشید (سابق وزیر خارجہ بھارت)، مانی شنکرآئر، پارتھا سارتھی(سابق سفیر) نائلن کوہلی ،اے کے سنگھ سابق آئی جی پولیس اور ایک نوجوان صحافی شامل تھے جن کا نام میں بھول رہا ہوں۔ ان سب کا خیال بھی تقریباً انہی خطوط پر استوار تھا جو پاکستانی میڈیا پر ڈسکس ہو رہے تھے۔مسٹر کوہلی،جن کا تعلق بی جے پی سے تھا وہ کہہ رہے تھے کہ جب تک کوئی ٹھوس ثبوت مہیا نہ کیا جائے، کوئی معتبر شہادت موجود نہ ہو اور کوئی ایسا ناقابلِ تردید قرینہ سامنے نہ آئے جو اس’’سٹوری‘‘ کی تائید کر سکے،اس وقت تک اس خفیہ ملاقات کو ایک اخباری سٹوری ہی سمجھا جائے گا۔ اس سے زیادہ اسے کوئی وقعت نہیں دی جا سکتی۔۔۔یہ کتاب انڈیا میں ابھی لانچ نہیں ہوئی۔ صرفAmazon پر دستیاب ہے۔ اس کے بعض حصے انٹرنیٹ پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

میرے نزدیک اس نواز۔ مودی خفیہ ملاقات سے زیادہ اس کتاب کا وہ حصہ اہم ہے جس میں برکھادت نے کارگل وار(1999ء) کا ذکر کیا ہے اور ’’انکشاف‘‘ کیا ہے کہ اس جنگ کا دائرہ پھیل کر جوہری جنگ تک جانے ہی والا تھا کہ اسے صدر امریکہ اورپاکستانی وزیراعظم کی بصیرت نے روک دیا۔۔۔۔ مزید بتایا گیا ہے کہ جب مئی اور جون 1999ء میں پاکستانی ٹروپس کارگل دراس کی چوٹیوں سے واپس نہ ہوئے تو اس وقت کے انڈین آرمی چیف جنرل وی پی مالک(یا ملک) کا پیمانہء صبر لبریز ہونے لگا۔ انہوں نے اپنے وزیراعظم (اٹل بہاری واجپائی) کو جا کر صاف صاف بتایا کہ جنگ کا دائرہ مزید پھیلنے والا ہے۔۔۔ اب مزید انتظار نہیں کیا جا سکتا!

برکھادت لکھتی ہیں کہ اس کا سادا مطلب یہ تھا کہ انڈین ملٹری بین الاقوامی سرحد عبور کر کے پاکستان پر حملہ کرنے کے لئے تیار تھی اور اس کے بعد یہ روایتی جنگ، جوہری جنگ میں تبدیل ہونے والی تھی۔۔۔ اگر صدر امریکہ مداخلت نہ کرتے تو کون جانے آج کیا ہوتا!۔۔۔

اب تک برکھادت کی کتاب کی اس سٹوری کے معیار کی سٹوریاں لکھنے کا ’’اعزاز‘‘ غیر ملکی خواتین کو حاصل رہا ہے۔ بھارت یا پاکستان کی کسی مصنفہ نے ان موضوعات پر شاذ ہی قلم اٹھایا، جن پر برکھادت نے اٹھایا ہے۔ پاکستان میں تو جنگ و جدال، سٹرٹیجی اور ٹیکٹکس کے ’’محکمے‘‘ اور موضوعات مرد صحافیوں اور لکھاریوں کے لئے بھی ’’ممنوع‘‘ ہیں چہ چائیکہ کوئی خاتون یہ کام کرے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو برکھادت کو اس قبیلے میں شامل کیا جا سکتا ہے جس کے بارے میں کسی فارسی شاعر نے کہا تھا:

گریزد از صفِ ما ہر کہ مردِ غوغا نیست

کسے کہ کشتہ نہ شد از قبیل�ۂ ما نیست

(ایسا شخص جو جنگ کے شورو غل سے گھبراتا ہو، ہماری صفوں سے بھاگ جائے۔ اور جو قتل ہونا نہ جانتا ہو وہ ہمارے قبیلے کا فرد نہیں کہلا سکتا!)

برکھادت ایک مسلمہ قوم پرست صحافی ہیں۔ کئی بار انہوں نے جنرل(ر) پرویز مشرف کو اپنے کسی پروگرام میں آن ائر لیا اور پھر دونوں کا جوڑ پڑ گیا۔۔۔ میرا خیال ہے کہ صرف مشرف ہی برکھا کو چپ کرا سکتے تھے۔ کوئی اور ہوتا تو برکھا کی شعلہ نوائی اور زور بیان کا سامنا نہ کر سکتا۔ پرویز مشرف کے علاوہ اور بھی کئی پاکستانی صحافیوں کوNDTV کے پروگرامThe Buck Stops Here میں شرکت کرتے مَیں نے کئی بار دیکھا اور سنا ہے۔ لیکن برکھا اپنے موقف پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتیں۔ہماری چند اینکر خواتین بھی اسی قبیلے میں شامل کی جا سکتی ہیں لیکن خواہ مخواہ بولے چلے جانا، دوسروں کی بات نہ سننا اور اردگرد کے ماحول سے بے نیاز ہو کر کان بند کر لینا، بڑا ’’دل گردے‘‘ کا کام ہے۔

مَیں نے کئی سال پہلے جب برکھا کو پہلی بار ٹیلی ویژن پر بولتے سنا تھا تو کسی پرانی بلیک اینڈ وائٹ بھارتی فلم کے گانے کے وہ بول یاد آئے تھے جو ’’برکھا‘‘ کے لغوی معانی کے ساتھ مخصوص سمجھے جاتے تھے۔ہندی زبان میں برکھا، برسات کو کہتے ہیں۔ لیکن ان کا پروگرام دیکھ اور سُن کر سخت تعجب ہو اتھا کہ والدین نے ان دونوں بہنوں کا نام نجانے کس پنڈت سے پوچھ کر رکھا تھا( ان کی چھوٹی بہن کا نام ’’بہار دت‘‘ ہے۔ اور خیر سے وہ بھی ٹیلی ویژن صحافت سے منسلک ہیں۔)کہ دونوں سراپا برکھا اور سراپا بہار بن گئیں!

بقول چودھری شجاعت ’’مٹی پاؤ‘‘ اس جھگڑے پر۔۔۔ آیئے لتا کی لطافت اور نغمگی کا لطف اٹھاتے ہیں جو اس گیت کے بولوں میں کہیں رچی ہوئی ہے:

او سجنا۔۔۔

برکھا بہار آئی۔

رَس کی پھوار لائی

بتیوں میں پیار لائی

او سجنا۔۔۔

برکھا بہار آئی

مزید : کالم