چیف الیکشن کمشنر کی حکم امتناعیوں کے خلاف دہائی

چیف الیکشن کمشنر کی حکم امتناعیوں کے خلاف دہائی
چیف الیکشن کمشنر کی حکم امتناعیوں کے خلاف دہائی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

چیف الیکشن کمشنر سردار رضا نے برملا شکوہ کیا ہے کہ عدالتیں حکم امتناعی کے ذریعے ان کے کام میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن بیس مقدمات کا فیصلہ کرتا ہے اور عدالتیں ان بیس مقدمات کے خلاف بیس حکم امتناعی جاری کر دیتی ہیں۔ جناب چیف الیکشن کمشنر خود بھی اعلیٰ عدلیہ کے کئی سال جج رہے ہیں۔ انہوں نے اسی نظام عدل میں کئی سال کامیابی سے گزارے۔ درجنوں نہیں سینکڑوں حکم امتناعی جاری کئے۔ کئی مقدمات کی سماعت کئی کئی سال تک کی۔

جب عدلیہ کے نمائندوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد اس نظام انصاف سے انصاف نہیں ملتا۔ تو مجھے بہت تسکین ہوتی ہے۔ لیکن افسوس یہی ہے کہ ہمارے ملک میں اہم عہدوں پر رہنے والے لوگوں کو سسٹم کی خرابیوں کا احساس ریٹائرمنٹ کے بعد ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح جس طرح سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کو ہتک عزت کے مقدمات میں انصاف نہیں مل رہا ۔ وہ بھی قابل تسکین ہے کیونکہ انہوں نے بھی اپنے دور چیف جسٹس میں سو موٹو کے علاوہ عام آدمی کو جلد انصاف کی فراہمی کے لئے کچھ نہیں کیا۔

ویسے تو موجودہ چیف جسٹس پاکستان نے بھی اپنی حالیہ تقریر میں یہ بات مان لی ہے کہ عدلیہ کی حالت بھی باقی محکموں سے مختلف نہیں۔ وہ صاف کہہ رہے ہیں کہ حالات ٹھیک کرنے کے لئے کوئی مسیحا نہیں آئے گا۔ یعنی انہیں احساس ہے کہ عدلیہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے کام انہیں خود ہی کرنا ہو گا۔ کوئی باہر سے آکر اس کو ٹھیک نہیں کر ے گا۔

لیکن ایسا لگ رہاہے کہ عدلیہ کے مسائل کے حوالہ سے سب کو احساس ہے۔ لیکن شاید کسی کو اس کا کوئی حل نہیں مل رہا۔ چیف جسٹس پاکستان کی باتوں سے اندازہ ہے کہ انہیں عوام کی نظا م عدل سے بیزاری کا احساس ہے ۔ مقدمات کا کئی کئی سال تک زیر التوا رہنا ہی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اگر چیف جسٹس پاکستان کسی طرح ماتحت عدلیہ کو اس بات کا پابند بنا دیں کہ وہ چاہے مقدمہ کی تاریخ تین ماہ کی دیں لیکن جو بھی تاریخ دیں اس پر کارروائی ہو۔ بغیر کارروائی کے سماعت ہی دراصل نظام عدل کا استحصال ہے۔ اس لئے جب تک عدلیہ اس بات کو یقینی نہیں بنائے گی کہ بغیر پیش رفت کے سماعت ملتوی نہیں ہو گی تب تک نظام عدل پر عوام کا اعتماد بحال ہونا مشکل ہے۔

اسی طرح حکم امتناعی بھی ایک ایسی چیز ہے جس نے نظام عدل کو عملاً مفلوج کر دیا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ صرف ایک پیشی کے لئے د یا جانے والا یک طرفہ حکم امتناعی کئی کئی سال چلتا ہے۔ جس فریق کو حکم امتناعی مل جا تا ہے وہ مقدمہ کی مزید سماعت میں دلچسپی نہیں رکھتا بلکہ اس کی ساری کوشش اس حکم امتناعی کو لمبا چلانے میں لگی رہتی ہیں۔ جبکہ دوسرا فریق بھی حکم امتناعی ختم کروانے میں ہی ساری توانائی لگا دیتا ہے۔

میرے ایک دوست نے اپنا مکان گروی رکھا ہوا تھا مذکورہ شخص نے مکان گروی پر حاصل کرنے کے بعد اس کا ایک جعلی بیع نامہ تیار کیا اور ایک سول کورٹ سے اس پر حکم امتناعی حاصل کر لیا۔ یہ حکم امتناعی ایک جعلی بیع نامہ پر یک طرفہ کارروائی کے دوران حاصل کیا گیا تھا۔ میرے دوست کو جب اس کارروائی کا پتہ چلا تو اس نے عدالت کو درخواست دی کہ عدالت نے جس بیع نامہ کی بنیاد پر حکم امتناعی دیا ہے۔ اس کا فرانزک ٹیسٹ کروا یا جائے کیونکہ اس پر اس کے جعلی دستخط ہیں۔ آجکل تو فرانزک سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے۔ اس لئے عام فہم انصاف کے تقاضوں کے مطابق تو یہ درخواست درست ہی لگتی تھی کہ عدالت نے جس دستاویز کی بنیاد پر حکم امتناعی جاری کیا ہے۔ اس کا فرانزک ٹیسٹ تو کروا لیا جائے کہ درست بھی ہے کہ نہیں۔ لیکن مذکورہ عدالت نے یہ کہ کر فوری فرانزک ٹیسٹ کروانے سے انکار کر دیا کہ یہ فرانزک ٹیسٹ اس وقت ہو سکتا ہے جب مقدمہ میں شہادت کا موقع آئے گا۔ اگر عدلیہ کے موجودہ نظام کو سامنے رکھا جائے تو شہادتوں کا موقع تو کئی سال بعد ہی آنا تھا۔ اس طرح ایک جعلی دستاویز پر ایک حکم امتناعی کئی سال چل سکتا ہے۔

عدلیہ کو یک طرفہ حکم امتناعی کے حوالہ سے نئے رولز بنانے ہو نگے۔چیف الیکشن کمشنر کی بھی حکم امتناعی پر تشویش بے جا نہیں ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ خود اعلیٰ عدلیہ کے ذمہ داران کو بھی اب عدالتی نظام پر تشویش کا احساس ہے۔ لیکن ابھی کوئی ایکشن شروع نہیں ہوا۔ تھوڑی تھوڑی خبریں عدلیہ میں احتساب کے حوالہ سے باہر آئی تھیں۔ لیکن یہ بہت کم ہے۔ جب تک عدلیہ اپنے اندر مقدمات کے بے جا التوا پر احتساب کا ازخو د نظام نہیں بناتی۔ یک طرفہ حکم امتناعی کی لامتناہی طوالت کے خاتمہ کا کوئی نظام نہیں بنتا۔ تب تک عدلیہ میں بہتری کا سفر شروع نہیں ہو سکتا۔چیف الیکشن کمشنر کی دہائی کو اعلیٰ عدلیہ کو غور سے سنناچاہئے۔ یہ صرف الیکشن کمیشن نہیں بلکہ سب کا مسئلہ ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے کہہ دیا ۔ باقی کہنے سے ڈرتے ہیں۔

مزید : کالم