ڈی پورٹ پاکستانیوں کا لانیوالا یونانی طیارہ 30افراد سمیت واپس بھیج دیا گیا ،19زیر حراست

ڈی پورٹ پاکستانیوں کا لانیوالا یونانی طیارہ 30افراد سمیت واپس بھیج دیا گیا ...

اسلام آباد (آئی این پی، اے این این) حکومت نے یونان سے ڈی پورٹ کیے گئے پاکستانیوں کو لانے والے چارٹرڈ طیارے کے بغیر اجازت بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے کو غیر قانونی قرار دے کر واپس بھجوا دیا۔ 49 مسافروں میں سے 19 کو نادرا سے تصدیق کے بعد طیارے سے اتار کر حراست میں لے لیا گیا جبکہ تصدیق نہ ہونے پر 30 افراد کو اسی طیارے پر واپس یونان بھیج دیا گیا۔ یہ تمام کارروائی وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی ہدایت پر کی گئی اور اس معاملے میں یونانی سفیر کی استدعا قبول نہیں کی گئی جو طیارہ آنے کی اطلاع پر ہوائی اڈے پہنچ گئے تھے۔ چودھری نثار علی خاں نے طیارے کو اترنے کی اجازت دینے پر سول ایوی ایشن کے حکام پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور سے جواب طلبی کرلی ہے۔ ایئرپورٹ پر موجود ایف آئی اے کے حکام کے مطابق یونان سے آنے والے چارٹرڈ طیارے پر 49 پاکستانی سوار تھے جن میں سے صرف 19 ایسے تھے جن کے نام یونانی حکام کی جانب سے ایک روز قبل فراہم کردہ فہرست میں شامل تھے اور ان کے پاکستانی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ایف آئی اے کے حکام نے کہا ہے کہ انھیں وزارت داخلہ کی طرف سے خصوصی ہدایات دی گئی ہیں جب تک دیگر ملکوں اور بالخصوص یورپ سے ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانیوں کے بارے میں ناقابل تردید شواہد پیش نہیں کیے جاتے اس وقت تک انھیں پاکستانی سرزمین پر اترنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یونان کے سفیر وینڈی کٹوس سٹیفلاس بھی ائیرپورٹ پہنچے تاہم جانچ پڑتال کے بعد ثابت ہواکہ طیارے میں تیس ایسے افراد سوار ہیں جن کی پاکستانی شہریت کی تصدیق نہیں ہوسکی ۔ وزیر داخلہ نے سول ایوی ایشن پر بھی برہمی کا اظہار کیا کہ اس نے طیارے کو کیسے اترنے دیا، جبکہ یونانی حکومت کی طرف سے پاکستانیوں کو بے دخل کیے جانے کے کوئی ثبوت حکومت پاکستان کو نہیں دیئے گئے۔ وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق تارکین وطن کے امور کے بارے میں یورپی یونین کے حکام سے حالیہ ملاقات میں یہ طے کیا گیا تھا کہ یورپی یونین اور پاکستانی حکومت کے درمیان 2009ء میں ہونے والے معاہدے کے سقم دور کیے جائیں گے۔ ابھی یہ معاملہ حل نہیں ہوا اور اس سے پہلے ہی یورپی یونین کے رکن ملک کی طرف سے کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی ہے۔وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ جن پاکستانیوں کو یونان سے ڈی پورٹ کیا گیا ہے ان کے بارے میں پاکستانی حکام کو پہلے سے نہ تو کوئی معلومات دی گئیں اور نہ ہی ان افراد کی شہریت کے بارے میں پاکستانی حکام نے کوئی تصدیق کی ہے۔ اس سے پہلے بھی یونان سے کچھ پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا تھا تاہم انھیں جہاز سے اترنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اہلکار کے مطابق یونان میں سینکڑوں پاکستانی جعلی دستاویزات کے الزام میں پکڑے گئے ہیں جنھیں واپس بھجوانے کے لیے یونان کی حکومت نے تمام تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پاکستان میں کینیڈین ہائی کمشنر کو بھی ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا کی سفری دستاویزات پر سفر کرنے والے کسی بھی ڈی پورٹ ہونے والے شخص کو قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ان کے ساتھ آنے والے سرکاری حکام کو امیگریشن کی اجازت دی جائے گی۔وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ کسی پاکستانی شہری کو حکومت پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے ملک کی طرف سے جاری کردہ سفری دستاویزات پر ڈی پورٹ کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سیکیورٹی اداروں نے یونان کے چارٹرڈ طیارے کو گھیرے میں لے لیا ہے، عملے اور مسافروں کو باہر نکلنے سے بھی روک دیا گیا ہے جب اس صورتحال کا علم یونانی سفیر کو ہوا تو وہ فوری طور پر بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچ گئے، انہوں نے پاکستانی حکام سے احتجاج کیا اور کہا کہ مسافروں کو نکلنے کی اجازت دی جائے۔ اس پر پاکستانی حکام نے کہا کہ حکومتی پالیسی کے تحت ایسا ممکن نہیں ہے، طیارے نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، کسی بھی غیر تصدیق شدہ مسافر کو لانے کی اجازت نہیں اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا جس کے بعد یونان کے سفیر نے دفتر خارجہ کے حکام سے بھی رابطہ کیا۔

مزید : صفحہ اول