پاکستان کو خفیہ ملاقاتوں کی نہیں اچھی لیڈر شپ کی ضرورت ہے ،عمران خان

پاکستان کو خفیہ ملاقاتوں کی نہیں اچھی لیڈر شپ کی ضرورت ہے ،عمران خان

لاہور(نمائندہ خصوصی) تحر یک انصاف کے چےئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ کھٹمنڈو میں ’’خفیہ‘‘ ملاقات میں نواز شریف ا سٹیبلشمنٹ سے اور مودی رائٹ ونگ سے ڈرتے رہے ہیں‘ لیڈر ڈرا نہیں کرتا‘ پاکستان کو قیادت کی ضرورت ہے ’’خفیہ ‘‘میٹنگز کی نہیں‘ نوازشر یف نے چھا نگا مانگا اور ججز کو ’’بر یف کیس ‘‘دینے ‘الیکشن کمیشن اور نادراکے لوگوں کو خر یدنے اور سیاست کو ’’کاروبار ‘‘بنا لیا ہے اور ملک میں جمہو ریت کے نام پر ’’بندر بانٹ ‘‘ ہو رہی ہے ‘لیڈر وہ ہوتا ہے جو مشکل وقت میں قوم کو ساتھ لیکر کھڑا ہو جاتا ہے اور پاکستان کو بھی آج لیڈر شپ کی ضرورت ہے ‘لیڈر ڈرتے نہیں جرات کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے وہ نوازشر یف کی طر ح نر نیدری مودی سے ’’خفیہ ‘‘ملاقاتیں نہیں کر تا اور لیڈر کو ’’پر یشر ’’برداشت کر نا ہوتاہے مگر نوازشر یف بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات میں اسٹیبلشمنٹ سے ڈرتے رہے ہیں ‘حکمران ہر روز ’’دھاندلی ‘‘کا کوئی نیا طر یقہ ڈھونڈ لیتے ہیں ‘ کے پی کے جیسی آزاد پو لیس پورے پاکستان میں ہونی چاہیے ‘جب تک خوف پر قابونہیں پائیں گے کبھی کا میاب نہیں ہوسکتے ‘پاکستان میں حکمرانوں کے’’ بچے‘‘’’باریاں‘‘ لینے کیلئے تیار ہو رہے ہیں یہ کیسی لیڈر شپ ہے‘والدہ اور نانا کی تصاویر لگاکر تقر یر کر نے سے کوئی لیڈر نہیں بن سکتا ‘یورپ کے ممالک نے ایک دوسرے کے ہزاروں لوگوں کو قتل کیا مگر آج وہاں تمام بارڈر کھلے ہوئے ہیں مگر جب کچھ عرصہ پہلے واہگہ کے راتے بھارت گیا تو وہاں سنسان بارڈر دیکھنے کے بعد قسم کھا لی کہ آئندہ کبھی اس راستے سے بھارت نہیں جا ؤں گا ۔وہ جمعرات کے روز مقامی ہوٹل میں لیڈر شپ کے حوالے سے منعقدہ تقر یب سے خطاب اور شر کاء کے سوالوں کے جوابات دے رہے تھے تحر یک انصاف کے چےئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ لیڈر چھپ چھپ کر میٹنگز نہیں کرتے اس کی کریڈبیلٹی ہوتی ہے‘ بدقسمتی سے بھارت اور پاکستان میں قیادت نظر نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آج لیڈرشپ کی ضرورت ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان میں قیادت کا فقدان ہے۔ لیڈرشپ کا مشکل وقت میں ہی پتا چلتا ہے۔ لیڈر ایک نظریے پر چلتا ہے اور وژن کیساتھ قوم کی قیادت کرتا ہے اور کسی سے نہیں ڈرتا‘میں نیلسن منڈیلا کو بڑا لیڈر سمجھتا ہوں۔ نیلسن منڈیلا نے اپنی قیادت کی وجہ سے جنوبی افریقا کو بچایا۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت قیادت کی ضرورت ہے خفیہ میٹنگز کی نہیں۔ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں نواز شریف اور نریندر مودی کی خفیہ ملاقات ہوئی تھی‘ نواز شریف اس ملاقات میں سٹیبلشمنٹ سے ڈر رہے تھے لیڈر چھپ کر میٹنگ نہیں کرتے، اس کی کریڈبیلٹی ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے بھارت اور پاکستان میں لیڈرشپ نظر نہیں آئی‘ پاکستان کا سب سے بڑا ایشو غربت ہے۔ غربت کو ختم کرنے کے لیے امن پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین نے سب سے پہلے ملک میں غربت کوختم کیا‘ غربت ختم کرنے سے چین کی گروتھ ریٹ بڑھ گئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں کسی بھی جگہ لیڈر شپ نظر نہیں آتی او ر لیڈر شپ کو کسی بھی موقعہ پر گھبرانے کی ضرورت نہیں ہوتی ‘لیڈر وہ ہوتا ہے جو مشکل وقت میں قوم کو ساتھ لیکر کھڑا ہو جاتا ہے اور پاکستان کو بھی آج لیڈر شپ کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا میں نوازشر یف اور نر یندری مودی کی جگہ ہوتا تو خطے میں امن کے قیام اور غر بت کے خاتمے کیلئے سو چتا مگر غر بت کے خاتمے کیلئے امن ضروری ہے اور اگر میں نوازشر یف اور مودی کی جگہ ہوتا تو اپنی قوم کو اپنے ویژن کے ساتھ لیکر چلتا ‘یورپ کے ممالک نے ایک دوسرے کے ہزاروں لوگوں کو قتل کیا مگر آج وہاں تمام بارڈر کھلے ہوئے ہیں مگر جب کچھ عرصہ پہلے واہگہ کے راتے بھارت گیا تو وہاں سنسان بارڈر دیکھنے کے بعد قسم کھا لی کہ آئندہ کبھی اس راستے سے بھارت نہیں جا ؤں گا ‘لانگ ٹر م خطے کی تر قی اور خوشخالی کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کر یں اور دونوں ا طراف جو لوگ امن کے مخالف ہے وہ خود ہی ناکام ہو جائیں گے اگر لیڈر ویژن کے ساتھ آگے بڑ ھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جب حکمران خود ٹیکس نہیں دیتے تو پھر عام آدمی ٹیکس نہیں دیتا مگر یہاں حکمران سارا بوجھ عوام پر ڈال دیتے ہیں ہم نے کے پی کے خیبر پختونخواہ میں5ریسٹ ہاؤس پر سالانہ2کروڑ خر چ ہوتے ہیں رہے مگر انکو پر ائیوٹ کر نے سے 6ہفتوں میں50لاکھ سے زائد کمائے ہیں اور ہم نے اڑھائی سالوں کی محنت کے بعد خیبر پختونخواہ میں احتساب کا ایسا شفاف ادارہ قائم کیا ہے جس نے آتے ہی تحر یک انصاف کے ایک وزیر کو گر فتار کر لیا لیکن جیسے ہی اس کمیشن نے پیپلزپارٹی کی ایک خاتون سینیٹر کو کر پشن میں پکڑ ا تو اس پر کر پٹ سیاسی جماعتیں جمع ہوگئیں اور شور مچا نا شروع کر دیا میں سمجھتا ہوں کہ احتساب کا نظام صرف کے پی کے ہی نہیں پورے ملک میں ضروری ہے ماضی کی حکومت نے خیبر پختونخواہ میں 5سالوں کے دوران2ارب سے زائد کے درخت چوری کیے ہیں لیکن نے کے پی کے کو ماحولیاتی اثرات سے بچانے کیلئے وہاں پر درخت لگانے کا پر وگرام شر وع کیا ہے جسکے تحت2018تک 1ارب20کروڑ درخت لگائے جائیں گے جس میں سے ہم وہاں پر 10کروڑ درخت ہم وہاں لگا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں صرف 64 کروڑ درخت اگائے گئے لیکن ہم پانچ سال میں ایک ارب 20 کروڑ درخت اگارہے ہیں۔ بین الاقوامی ادارے سے بلین ٹری سونامی کا آڈٹ کرایا گیا تو پودوں کی شرح نمو دنیا میں سب سے زیادہ 80 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کو عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں شرکت کے موقع پر خیبر پختونخوا میں بلین ٹری سونامی کا تذکرہ کرنا چاہیے تھا۔

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) وزیر اعظم کے ترجمان مصدق ملک نے کہا ہے کہ نواز شریف نے کھٹمنڈو میں نریندر مودی سے کوئی ملاقات نہیں کی، بھارتی میڈیا کی جھوٹی خبر کی حکومت کی جانب سے تردید کے باوجود بے بنیاد الزامات لگانے پر عمران خان کو شرم آنی چاہئیے۔ مصدق ملک کا کہنا ہے کہ ملاقات کی جھوٹی اور بے بنیاد خبر دینے والی صحافی برکھا دت بھارت کی نمائندگی کر رہی تھیں، عمران خان بتائیں وہ جھوٹے الزامات کے ذریعے کس کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

مزید : صفحہ اول