امتحانی پرچہ آؤٹ کرنیوالے غلام فرید کو کنٹرولر لاہور سیکنڈری بورڈ بنانے کا فیصلہ

امتحانی پرچہ آؤٹ کرنیوالے غلام فرید کو کنٹرولر لاہور سیکنڈری بورڈ بنانے کا ...

لاہور(محمد نواز سنگرا) ہائیر ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ کی غفلت یاسیاسی اثرو رسوخ کا نام دیجئے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ساہیوال بورڈ کی طرف سے تعیناتی پر پابندی کے باوجود ہائیر ایجوکیشن نے اسے پنجاب کے سب سے بڑے تعلیمی بورڈ لاہور میں غلام فرید کو کنٹرولر امتحانات لگانے کی منظوری دے دی ہے۔غلام فریدہیڈ ماسٹر گورنمنٹ سی ایم آر ہائی سکو ل اوکاڑہ پر الزامات عائد تھے کہ انہوں نے 5مارچ 2013کو میٹرک کا پیپر آؤٹ کیا۔اس واقعہ کے بعد ساہیوال بورڈ نے تین ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں عبدالمجید پرنسپل گورنمنٹ ہائی سکول کسوال،محمد انصر ٹرپل ایس گورنمنٹ ہائی سکول 91/HLاور پروفیسر عبدالباری پر مشتمل کمیٹی نے واقعہ تحقیقات کیں ۔ جس میں سپرینٹنڈنٹ امتحانی سنٹر سی ایم آر گورنمنٹ ہائی سکول اوکاڑہ کے مطابق صبح 8بج کر35منٹ پر پیپر تقسیم کیا گیا اور 8بج کر 40منٹ پر غلام فرید کمرہ امتحان میں داخل ہوئے جس کے بعد سپریٹنڈنٹ نے پیپروں کی گنتی کی تو ایک پیپر کم پایا گیا جو کہ سکول کے ہیڈ ماسٹر غلام فرید کے دفتر میں پہنچا دیا گیا جبکہ پیپر غائب ہونے سے قبل ایک ہی نگران خالد امتحانی سنٹر میں موجود تھا جس پر الزام لگایا گیا کہ اس نے پیپر ہیڈماسٹر کے دفتر میں پہنچایا۔اس پر جب کمیٹی نے انکوائری کی، تو حتمی رپورٹ پیش کی گئی کہ نگران خالد اور غلام فرید کے بیانات میں صداقت نہیں ہے ۔کمیٹی نے متفقہ طور پر تحریری فیصلہ جاری کیا کہ غلام فرید ہیڈماسٹر ہائی سکول گورنمنٹ ہائی سکول اوکاڑہ کو آئندہ پانچ سال کے کسی بھی بورڈ میں ڈیوٹی پر تعینات نہ کرنے کی سفارش کی گئی۔ جس پر بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ساہیوال نے غلام فرید کے خلاف درج شکایت پر ڈسپلنری کمیٹی نے اسے پانچ سال کیلئے بورڈ کی کسی بھی ڈیوٹی پر پابندی عائد کی جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن ACS-369جاری کیا گیا ۔اس پابندی کے باوجود ہائیر ایجوکیشن نے غلام فرید ہیڈ ماسڑ گورنمنٹ سی آر ایم ہائی سکو ل اوکاڑہ کو پنجاب کے سب سے بڑے تعلیمی بورڈ بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کو کنٹرو لر امتحانات لگانے کی منظوری دی ہے جس کا نوٹیفکیشن آئندہ چند روز میں جاری ہونے کا امکان ہے۔ایک سزا یافتہ افسر کو اعلیٰ عہدے پر تعیناتی ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

مزید : صفحہ اول