سٹیٹ بینک سے کلیئرنس کے بغیر نیشنل بینک میں نئی بھرتیوں اور کنٹریکٹ میں توسیع پر پابندی

سٹیٹ بینک سے کلیئرنس کے بغیر نیشنل بینک میں نئی بھرتیوں اور کنٹریکٹ میں ...

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سٹیٹ بینک کے گورنر کی طرف سے نیشنل بینک انتظامیہ کے نام لکھا جانے والے خط نے قومی بنک کے ملازمین میں کھلبلی مچادی،نیشنل بینک میں سٹیٹ بنک سے کلئیرنس لئے بغیر کسی بھی نئی بھرتی یا اعلیٰ عہدے پر کوئی تعیناتی نہ کرنے کی ہدایت۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل بنک آف پاکستان میں بڑھتی ہوئی بد انتظامی،بڑی تعداد میں میرٹ کے خلاف کی جانے والی بھرتیوں اور نا اہل افراد کی اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کی خبروں پر سٹیٹ بینک نے سخت نوٹس لیتے ہوئے نیشنل بینک آف پاکستان کی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ مزید اعلی عہدے داروں کی تعیناتی،بھرتی یا ٹرانسفر سے اجتناب بھرتے۔سٹیٹ بینک کے گورنر کی طرف سے نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر سید اقبال اشرف کے نام لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ نیشنل بینک میں’’ ایس ای وی پی‘‘ اور’’ اے وی پی‘‘ سمیت تمام اعلیٰ عہدوں پر کی جانے والی تعیناتیاں فوری طور پر روکی جائیں اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والے بینک ملازمین اور اعلیٰ عہدوں پر تعینات افسران کے کنٹریکٹ میں مزید توسیع نہ کی جائے ،خط میں سٹیٹ بینک نے واضح الفاظ میں نیشنل بینک کی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ بینک میں پہلے سے تعینات ملازمین کی اسناد اور تعلیمی قابلیت کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اور ایف پی ٹی رپورٹ سٹیٹ بینک کو فراہم کی جائے ،نیشنل بینک انتظامیہ کو وارننگ دیتے ہوئے سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اگر حکم پر فوری عمل درآمد نہ ہوا اور رپورٹ جمع نہ کرائی تو سخت ایکشن لیا جائے گا۔اس سے قبل نیشنل بینک میں کسی بھی ملازم کی بھرتی یا کسی بھی اعلیٰ عہدے پر تعیناتی کرنے سے قبل نیشنل بینک خود ڈگری چیک کرتاتھا اور کلئیرنس رپورٹ بنا کر سٹیٹ بنک میں جمع کرا دی جاتی تھی ،بینک کے سینئر ترین لوگوں کو نظر انداز کر کے من پسند ،سفارش پر بھاری تنخواہوں اور مراعات کے عوض لوگوں کی بھرتیاں اور اعلی عہدوں پر کی جانے والی تعیناتیوں کی خبریں عام ہو رہی تھیں۔ سٹیٹ بنک نے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ نیشنل بینک میں کسی بھی بھرتی یا اعلیٰ عہدے پر تعیناتی سے قبل سٹیٹ بینک خود جس کی کلئیرنس دے گا وہی بندہ نیشنل بینک میں جاب یا کسی اعلیٰ عہدے پر تعینات ہو نے کا اہل ہو گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سٹیٹ بینک گورننس ٹھیک نہ ہو نے پرکسی بھی بینک پرپابندی لگا سکتا ہے یا بورڈ آف گورنر اورمینجمنٹ کوبھی ہٹا سکتا ہے، سٹیٹ بینک کی جانب سے قومی بینک کو لکھا جانے والا یہ خط نیشنل بنک کی انتظامیہ کے خلاف عدم اعتماد ہے اور اس سے قبل سٹیٹ بینک کی جانب سے اس طرز کا خط پہلے صرف ایک نجی بینک KASBکو لکھا گیا تھا جس کے کچھ عرصہ بعد سٹیٹ بینک نے KASBبینک کے انتظامی امور اپنے ہاتھ میں لے لئے تھے ۔

مزید : صفحہ اول