پرائمری سکول کے بچوں کو پڑھانے کیلئے لاکھوں پی ایچ ڈی کہاں سے آئینگے ؟

پرائمری سکول کے بچوں کو پڑھانے کیلئے لاکھوں پی ایچ ڈی کہاں سے آئینگے ؟

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے برسر اقتدار آنے کی صورت میں ملک کیلئے ایک بہت ہی دل خوش کن پروگرام پیش کیا ہے۔ اس لیے ہماری دعا ہے کہ ان کی جماعت جلد از جلد برسر اقتدار آئے اور اپنے پروگرام کو عملی جامہ پہنائے۔ ان کو جو بات سب سے زیادہ دل کو لگتی ہے وہ یہ ہے کہ پرائمری سکول کے بچوں کو پڑھانے کیلئے پی ایچ ڈی اساتذہ مقرر کئے جائیں گے۔ پرائمری سکول بنیادی تعلیم کا پہلا زینہ ہے‘ اگر بچے کی مضبوط تعلیمی بنیاد پرائمری سکول میں رکھ دی جائے تو وہ تعلیم کے اگلے مراحل درجہ بدرجہ زیادہ خوش اسلوبی سے طے کرسکتا ہے اور جب ایسے بچے کی تعلیم مکمل ہوگی تو وہ اس میدان میں ہر قسم کے چیلنج کا مقابلہ کرسکے گا۔ سچی بات ہے سراج الحق کے اس منصوبے کی تفصیلات تو ہمارے سامنے نہیں آئیں لیکن ان کے عزم بلند سے یہ اندازہ تو بہرحال ہوگیا کہ اگر انہیں موقعہ مل گیا تو وہ تعلیم کے شعبے میں صحیح معنوں میں انقلاب لائیں گے لیکن جب ہم نے عملی مشکلات پر نظر ڈالی تو ہماری یہ خوشی وقتی ثابت ہوئی کیونکہ اس وقت پورے ملک میں سرکاری و نجی شعبے میں کم و بیش 200 یونیورسٹیاں ہیں‘ ان میں سے اکثر کا معیار تعلیم اگرچہ عالمی معیار سے مطابقت تو نہیں رکھتا تاہم بعض کا پاکستانی معیار بہت اچھا ہے۔ بعض اوسط درجے میں شمار کی جاسکتی ہیں اور ایسی بھی بہت سی ہیں جہاں اساتذہ بھی پورے نہیں۔ اور ہمارے خیال میں پورے ملک میں شاید ہی کوئی ایسی یونیورسٹی ہو جہاں پوری کی پوری فیکلٹی پی ایچ ڈی اساتذہ پر مشتمل ہو۔ کئی پرائیویٹ یونیورسٹیوں نے تو بعض ریٹائرڈ پروفیسروں کی خدمات صرف نام کی حد تک حاصل کر رکھی ہیں‘ یعنی فیکلٹی میں ان کا نام تو درج ہے لیکن وہ درس و تدریس کا کام باقاعدگی سے نہیں کرتے یا کبھی کبھار کرتے ہیں یا پھر اس وقت جب ایچ ای سی کا کوئی نمائندہ معائنے کیلئے آیا ہوا ہو۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو مطمئن کرنے کیلئے ایسے اساتذہ کے نام فہرست میں درج کردیئے جاتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر یونیورسٹیوں کو پی ایچ ڈی اساتذہ میسر نہیں ہیں تو پرائمری سکولوں کیلئے لاکھوں پی ایچ ڈی اساتذہ کہاں سے آئیں گے؟ اور اس کام میں کتنے عشرے لگیں گے۔ سراج الحق کو اس کے متعلق کچھ ہوم ورک بھی کرلینا چاہئے جنہوں نے پرائمری کے بچوں کو پڑھانے کیلئے پی ایچ ڈی اساتذہ مہیا کرنے کا انقلابی پروگرام سوچا ہے، جو آج تک دنیا کے کسی ماہر تعلیم کو نہیں سوجھا۔

دنیا بھر میں پرائمری سکول کے بچوں کو پڑھانے کیلئے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کا تقرر کیا جاتا ہے‘ جو بچوں کو ان کی نفسیات کے مطابق تعلیم دیتے ہیں۔ یہ اساتذہ اس مقصد کیلئے خصوصی تربیت پاتے ہیں۔ پرائمری سکول کی تعلیم کو اہمیت بھی حاصل ہوتی ہے لیکن ہمارے علم کی حد تک دنیا بھر میں شاید ہی کوئی ملک ہوگا جہاں پرائمری سکول کے بچوں کو پڑھانے کیلئے اساتذہ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری کی شرط عائد ہو۔ اس لیے اگر جماعت اسلامی کسی وقت الیکشن جیت کر برسر اقتدار آتی ہے اور اپنے اس شاندار پروگرام پر عمل کرتی ہے تو پاکستان دنیا کا پہلا ایسا ملک ہوگا جہاں پرائمری کے بچے پی ایچ ڈی اساتذہ سے پڑھ رہے ہوں گے‘ لیکن اس شرط پر پورا اترنے کیلئے پہلے یونیورسٹیوں کے طالب علموں کو پی ایچ ڈی کرانے کا کریش پروگرام شروع کرنا ہوگا۔ پوسٹ گریجویشن کے بعد پی ایچ ڈی کیلئے ایک طالب علم کو کم از کم تین سال پی ایچ ڈی کی ڈگری کیلئے درکار ہوتے ہیں۔ مجھے اندازہ نہیں کہ ہم ہر سال پورے ملک کی یونیورسٹیوں میں کتنے پی ایچ ڈی تیار کرتے ہیں لیکن پرائمری سکولوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے جتنے اساتذہ درکار ہوں گے پہلے ایک سروے کرانے کے بعد ان کا ایک تفصیلی شیڈول وضع کرنا ہوگا اور پھر ہر یونیورسٹی کو اس کی حیثیت کے مطابق طالب علموں کو پی ایچ ڈی کرانے کیلئے مرحلہ وار پروگرام شروع کرنے کا پابند بنانا ہوگا۔ بعد میں ہمیں خیال آیا کہ سب کچھ تب ہوگا جب اقتدار جماعت اسلامی کے دروازے پر دستک دے گا۔ کیا اس مشکل کام کے لئے نو من تیل کا انتظام بھی ہو پائے گا یا نہیں؟

ہم یہ لکھ رہے تھے تو ہمارے قریب بیٹھے ایک سیانے پی ایچ ڈی پروفیسر نے ہمیں مشورہ دیا کہ جماعت اسلامی اس وقت خیبر پختونخوا میں شریک اقتدار ہے۔ پورے پاکستان کے اقتدار کا انتظار کرنے کی بجائے ابتدائی طور پر یہ تجربہ خیبر پختونخوا میں کرلیا جائے تو بہتر رہے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ پہلے مرحلے میں خیبر پختونخوا میں معلوم کیا جائے کہ وہاں کتنے پی ایچ ڈی دستیاب ہیں اور کتنے ایسے ہیں جو پرائمری کے بچوں کو پڑھانے کیلئے آمادہ ہوں گے۔ اس وقت جو پی ایچ ڈی اساتذہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پڑھا رہے ہیں‘ وہ تو پرائمری سکولوں میں نہیں جانا چاہیں گے۔ پھر یہ دیکھا جائے کہ مجموعی طور پر کتنے اساتذہ کی خدمات درکار ہوں گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت پریکٹس یہ ہے کہ اساتذہ عام طور پر دیہی سکولوں میں پڑھانے کیلئے نہیں جاتے۔ ان کی ترجیح بڑے شہر ہوتے ہیں‘ تو کیا ایسے اساتذہ دیہی علاقوں میں پڑھانے کیلئے دستیاب ہوں گے۔ اس وقت دیہی سکولوں کی حالت تو یہ ہے کہ وہاں نہ کم تعلیم یافتہ استاد پورے ہیں نہ فرنیچر‘ نہ سائنس لیبارٹری اور لائبریری۔ پی ایچ ڈی اساتذہ ایسے سکولوں میں پڑھانے کیلئے جائیں گے تو انہیں کیا کیا سہولتیں میسر ہوں گی اس کی کوئی تفصیل سراج الحق نے نہیں بتائی۔ لیکن ظاہر ہے اگر انہوں نے ایسا فیصلہ کیا ہے تو اس کے تمام تر مضمرات بھی تو ان کی نگاہ میں ہوں گے۔

جس خیبر پختونخوا حکومت کا سراج الحق حصہ ہیں وہ صوبے میں ایک ارب بیس کروڑ درخت بھی تو لگا رہی ہے جو بظاہر بڑا مشکل کام نظر آتا ہے۔ اس لیے جن حضرات کو سراج الحق کے منصوبے پر اعتراض ہے انہیں چاہئے کہ وہ پہلے جماعت اسلامی کو برسر اقتدار لانے کی راہ ہموار کریں پھر امیر جماعت کے کارنامے دیکھیں۔ اقتدار سونپے بغیر ایسے دل خوش منصوبوں پر نکتہ چینی کوئی بہتر طرز عمل نہیں۔

مزید : تجزیہ