پارلیمنٹ میں چھ جماعتی حزب اختلاف، حکومت کو سخت تنقید کا سامنا

پارلیمنٹ میں چھ جماعتی حزب اختلاف، حکومت کو سخت تنقید کا سامنا

تجزیہ:چودھری خادم حسین

پارلیمینٹ میں چھ جماعتی مخالف اتحاد بن گیا ہے جس میں دو تین آزاد اراکین بھی شامل ہو گئے ہیں۔ یہ اتحاد قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ ہی کی قیادت میں بنا اس میں پیپلزپارٹی کے ساتھ تحریک انصاف اے این پی ، مسلم لیگ (ق) قومی وطن پارٹی اور عوامی مسلم لیگ بھی شامل ہیں۔ تاہم ایم کیو ایم اس سے باہر ہے یوں قومی اسمبلی میں ایک متحدہ اپوزیشن قائم ہو گئی ہے۔ فرزند راولپنڈی شیخ رشید بھی اپنی اکلوتی جماعت سمیت اس میں موجود ہیں اور انہوں نے سید خورشید شاہ کی قیادت قبول کر لی ہے۔ تاہم وہ اپنے انداز کو بھول نہیں پائے اور ایک مرتبہ پھر حکومت جانے کی تاریخ دے دی بلکہ اس مرتبہ تو یہ کہتے ہیں کہ ان کی عمران خان کے ساتھ شرط بھی لگ گئی ہے کہ اگلے سال مارچ تک یہ حکومت چلی جائے گی۔ فرزند راولپنڈی اس سے پہلے بھی تاریخیں دیتے رہے اور اسی وثوق سے حکومت جانے کی پیش گوئی کرتے رہے ہیں۔ تاہم اس مرتبہ تو وہ عمل میں دکھائی دیتے ہیں۔

متحدہ اپوزیشن کے قیام اور فرزند راولپنڈی کی نئے سرے سے پیش گوئی کا تمام تر کریڈٹ محترم وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو دینا چاہئے کہ یہ اتحاد ان کی طرف سے ٹیکسوں کی بھرمار اور اس سے پیدا ہونے والی مہنگائی ہی کے باعث وجود میں آیا اور اب حکمران جماعت کو قومی اسمبلی میں سخت امتحان سے گزرنا ہوگا، اور باور کیا جاتا ہے کہ وزیر خزانہ ایوان میں اپنے بال نوچنے تک آ جائیں گے اور ان کا تحمل جواب دے جائے گا وہ ٹیکس لگانے کی عجیب تاویلات کر رہے ہیں اور اب انہوں نے یہ کہہ دیا کہ ٹیکس نہ لگاتے تو صوبوں کا حصہ کم ہو جاتا اس کے ساتھ ہی پھر فخر کرتے ہیں کہ معیشت مستحکم کر دی اور زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ یہ نہیں بتاتے کہ روپے کی ڈالر کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے اور مہنگائی بڑھنے کی کیا شرح ہے۔ اب تو ڈالر کھلی مارکیٹ میں 107 روپے سے بھی بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں محترم اسحاق ڈار کو آئی ایم ایف کی شراط کے مطابق ٹیکس نافذ کرنا ضروری تھے؟

اب پارلیمینٹ میں صورت حال یہ ہو گی کہ یہ سب جماعتیں ہر اجلاس سے قبل اپنے اجلاس میں متفقہ اور مشترکہ حکمت عملی طے کر لیا کریں گی۔ ان کا ہدف زیادہ تر مہنگائی ا ور حکومت کی مختلف شعبوں میں ناکامیاں ہوں گی ان میں بجلی کے منصوبوں سے میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین تک بھی زیر بحث آئیں گے کہ ہمارے حکمران اس حوالے سے کوئی اعتراض اور کوئی حکمت کی بات بھی سننے کو تیار نہیں ہیں اورنج ٹرین کا منصوبہ جس انداز سے زیر تعمیر ہے اس نے پورے لاہور کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ چینی فرم نے آگے جو پاکستانی ٹھیکیدار شامل کر کے ان کو کام دیا ہے تو انہوں نے پانی، گیس اور بجلی کی لائنیں کاٹ کر رکھ دی ہیں۔ کئی علاقے بجلی، پانی اور گیس سے کئی روز سے محروم چلے آ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پلوں کے پلر بنانے کے لئے جو گہری کھدائی کی جا رہی ہے اس سے زیر زمین پانی ابلنا شروع ہے۔ پانی پائپوں کے علاوہ اس پانی کے ضیاع سے لاہور کے زیر زمین پانی کی سطح مزید کم ہونے کا خدشہ ہے جو پہلے ہی کافی نیچے جا چکی ہے۔

حزب اختلاف لوڈشیڈنگ کو خصوصی موضوع بنائے گی کہ یہ حکومت تمام تر دعوؤں کے باوجود اب تک لوڈشیڈنگ میں کمی نہیں کر سکی اور بجلی کے منصوبوں کی روشنی میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی جو تاریخیں دی جا رہی ہیں ان میں بھی تضاد ہے۔ ایک ذمہ دار 2017ء کہہ رہے ہیں۔ دوسرے 2018ء کہتے ہیں جبکہ ایک معتبر صاحب تو 2016ء بھی کہہ دیتے ہیں صورت حال یہ ہے کہ لاہور جیسے شہر میں دس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ شروع ہو گئی اور گیس کی قلت بھی پیدا ہو گئی ہے یوں بھی وزیر قدرتی وسائل نے اعلان کر دیا تھا کہ سردیوں میں شہریوں کو رات دس بجے سے صبح پانچ بجے تک گیس نہیں ملے گی۔ محترم وزیر خزانہ کے اقدامات کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان آتا جا رہا ہے۔ اب تو ایل پی جی بھی دس روپے فی کلو بڑھ گئی ہے۔ اگلا وقت حکومت کے لئے سخت ہے۔ سینٹ میں تو پہلے ہی اپوزیشن کا اکٹھ ہے۔

مزید : تجزیہ