افواج پاکستان کی طرح عدلیہ نے بھی حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا: اکان اسمبلی وکلاء رہنما

افواج پاکستان کی طرح عدلیہ نے بھی حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا: ...

لاہور(جاوید اقبال /شہزاد ملک ) سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں،ارکان اسمبلی، سول سوسائٹی اور وکلاء رہنماؤں نے کہا ہے کہ افواج پاکستان کے بعدعدلیہ نے بھی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے یہ پورے پاکستان کی آواز ہے کہ ملک کے اندر طرز حکمرانی عوامی نہیں ہے اور نہ ہی عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے جس محکمے میں بھی چلے جائیں اس میں بد عنوانی اور کرپشن عام ہے پولیس بے لگام ہو چکی ہے اور کہیں پر بھی مظلوم کو انصاف نہیں مل رہا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت کی آنکھیں کھل جانی چاہئے۔ مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے کہا کہ حکومت ہر محاز پر ناکام اور فیل ہو چکی ہے پہلے ملک میں مستقل امن قائم کرنے کے لئے اور سرحدوں کی حفاظت پر مامور افواج پاکستان نے حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشانہ لگایا جس پر اب مہر عدلیہ نے لگا دی ہے چیف جسٹس آف پاکستان نے حکومت کے بارے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی ہے یہ بات سچ ہے کہ جب سے یہ حکومت آئی ہے اس کی کوئی بھی کل سیدھی نہیں ہے اور اس وقت ملک کے اندر لا قانونیت بد عونانی ظلم و کرپشن اور لوٹ مار اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے غریب عوام پر ٹیکس پر ٹیکس لگایا جارہا ہے جبکہ ان سے روٹی کا آخری نوالہ بھی چھینا جارہا ہے ہسپتالوں میں مریض ادویات کے بغیر ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مررہے ہیں لیکن حکومت کو سڑکیں بنانے سے ہی فرصت نہیں ہے وزیراعظم چیف جسٹس آف پاکستان کے بیان کی وضاحت کریں ۔ تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری جہانگیرترین نے کہا کہ عدلیہ کو سیلوٹ پیش کرتے ہیں کہ وہ حکومت کا اصل چہرہ سامنے لانے میں عوام کی مدد کی ہے چیف جسٹس نے ملک کے اندر لا قانونیت اور کرپشن کے عام ہونے کی جو بات کی ہے یہ عمران خان کے موقف کی تائید ہے ہم شروع سے کہہ رہے ہیں کہ حکومت ہر میدان میں فیل ہو چکی ہے اور اس کے ماتحت محکمے کارپوریشنیں پولیس ‘ریونیو سمیت ہر محکمہ لوٹ مار کررہا ہے اور حکومت نے خاموشی اختیار کررکھی ہے عدلیہ آگے بڑھے اور عوام کو کسی بھی سطح پر ریلیف فراہم نے کرنیو الی حکومت کو چلتا کرے۔جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے ملک کے حالات دیکھتے ہوئے بالکل ٹھیک تجزیہ کیا ہے کیونکہ سرکاری اداروں میں کرپشن اقربا پروری لوٹ مار اور غیر ذمہ درانہ رویہ عروج پر ہے حکومت کی کوئی ترجیحات عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی نہیں ہے اس لئے تمام اداروں کو اپنی اپنی اصلاح کرنی چاہئے اور خود عدلیہ کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اپنی ماتحت عدلیہ کو بھی دیکھے ایک کیس جو دادا عدالت میں دائر کرتا ہے اور اس کا فیصلہ پوتوں سے بھی آگے چلاجاتا ہے عوام کو انصاف لینے کے لئے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے اس لئے انہیں بھی اس معاملے کو دیکھنا ہو گا۔سابق وزیراعلی اور پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو نے کہا کہ حکومتی کارکردگی سب کے سامنے ہے گڈ گورنینس نام کی کوئی چیز کہیں پر بھی نظر نہیں آ رہی ہے شائد ہی پنجاب کا کوئی ضلع ایسا ہو گا کہ جہاں پر چوری ‘ڈکیتی ‘راہزانی اور خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات نہ ہو رہے ہوں غریبوں کو انصاف لینے کے لئے خودکشی یا پھر خود سوزی کا سہارا لینا پڑتا ہے اور ان کے مرنے کے بعد ان کی ایف آئی درج ہوتی ہے اور پھر سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے وزیراعلی ان نے گھروں کو تو جاتے ہیں لیکن کسی کے ساتھ کوئی انصاف نہیں ملتا ہے اب حکومتی کارکردگی کے متعلق چیف جسٹس نے جو بیان دیا ہے حکومت کو اسے اپنے اوپر ایک چارج شیٹ سمجھنا چاہئے۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ حکمرانوں کے نزدیک عوامی خدمت صرف سڑکیں اور پل بنانا ہے تو اس کو خدمت نہیں کہتے اور نہ ہی گڈ گورننس کہتے ہیں اتفاق سے وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف خود یہ بات مان چکے ہیں کہ سڑکیں پل بنانے سے گڈ گورنینس نہیں آئے گی تو ہم ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خود صوبے کے سربراہ ہیں کیوں گڈ گورننس رائج نہیں کررہے ہیں ایسا کرنے سے آپکو کس نے روک رکھا ہے سالہا سال سے آپ صوبے میں حکمرانی کررہے ہیں اس کے باوجود اس صوبے میں امن و امان کی جو حالت ہے وہ سب کے سامنے ہے اور اب تو لاہور جیسے شہر میں لوگ دن دہیاڑے لٹ رہے ہیں گاؤں اور دور دراز کے علاقوں کی صورت حال کا اندازہ یاہں سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے چیرمین راجہ ظفرالحق نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے مختصر ترین عرصہ اقتدار میں ہر شعبہ کے اندر عوامی خدمت کے نئے ریکارڈ پیدا کئے ہیں کوئی ایسا شعبہ نہیں جہاں حکومت کی عوام دوستی کی جھلک نظر نہ آتی ہو ملک کے اندر ایک آزاد عدلیہ ہے جس کا احترام حکومت دل و جان سے کرتی ہے ملک میں ماضی کے مقابلے میں طرز حکمرانی سو فیصد بہتر ہے ہر بندے کی نظر اور سوچ الگ ہے۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے قانونی اور آئینی ماہرین احمد اویس ایڈووکیٹ ‘ آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ اور عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ عوام کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرنا حکومت اور عدلیہ دوونوں کی ہی ذمے داری ہے اداروں کو چاہئے کہ وہ اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں یہی قانون اور آئین کا بھی تقاضہ ہے ہر ادارے کاقانون نے کردار متعین کیا ہے اگر کسی جگہ پر خرابی ہے تو اس کی نشاندہی ہونی چاہئے یہی جمہوریت کا حسن ہے مسائل کی نشاندہی سے ہی ان کا کوئی حل نکلے گا جن جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ ان کا حل بھی نکالے۔

مزید : صفحہ آخر