بلدیاتی نظام آے کے باوجود شہری آبادیاں مسائل کی دلد سے نہ نکل سکیں

بلدیاتی نظام آے کے باوجود شہری آبادیاں مسائل کی دلد سے نہ نکل سکیں

 پشاور (کرائمز رپورٹر)بلدیاتی نظام آنے کے باوجود پشاور کے متعدد علاقے مسائل کے گرداب سے نہ نکل سکے ،سکول ہے نہ کوئی طبی مرکز ،صفائی کا نظام اور گندگی کو ٹھکانے لگانے کا انتظام نہیں ،گلیاں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ،بجلی نظام درہم ،جھولتی بجلی کی تاریں حادثات کا سبب بن رہی ہیں،شام ہوتے ہی علاقہ تاریکی میں ڈوب جاتا ہے ،رہزنوں کی چاندی ،پولیس گشت نہ ہونے کے برابر ہے ٹاؤن فور کی یونین کونسل 28میں واقع گنجان آباد علاقوں طور بابا،عثمانیہ ٹاؤن،گڑھی عطاء محمد اور تاج آباد کے عوام کو اپنے بنیادی مسائل حل ہونے کی کوئی نوید نہ مل سکی یہ علاقے سرکاری سکولز ،مراکز صحت ،سٹریٹ لائٹس سے محروم ہین جبکہ صفائی اور گندگی کو ٹھکانے لگانے کا کوئی بندوبست نہیں ہے نالیاں اور سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جبکہ سٹریٹ کرائمز میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے نیبر ہوڈ 79طور بابا کے ناظم تاج محمد مہمند ،جنرل کونسلر شہباز علاقہ عمائدین مالک شاہ،نگار علی ،حسن آیاز ،ممتاز خان،محمد زمان،محبت خان ،گوہر ایوب ،رحمان خان ،خان زادہ مہمند و دیگر نے روز نامہ پاکستان کے زیراہتمام کئے جانیوالے فورم میں مسائل کے انبار لگا دیئے انہوں نے کہا کہ گنجان آباد علاقے میں لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے کوئی سکول موجود نہیں تعلم کے حصول کے لئے بچے اور بچیوں کو دور دراز علاقے جا نا پڑتا ہے علاقے میں سکول نہ ہونے کی وجہ سے علاقے کے بچے باالخصوص لڑکیاں زیور تعلیم سے محروم ہورہی ہیں انہوں نے تبدیلی کے نام پر اقتدار میں آنیوالی صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد علاقے میں بوائز اور گرلز سکولوں کی تعمیری کی منظوری دیں تاکہ یہاں کے رہائشیوں کے بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچ سکے پسماندگی کی مثال بنے اس علاقے کے مکینوں نے دیگر مسائل بنان کرتے ہوئے کہ کہ تاج آباد میں واقع گندے پانی کے نالے کے باعث مقامی آبادی اور مسجد کے منہدم ہونے کا شدید خدشہ ہے جس کیلئے صوبائی و ضلعی حکومتیں فوری اقدامات اٹھائیں بصورت دیگر کسی قسم کے جانی و مالی نقصان کی ذمہ داری ان پر عائد ہوگی انہوں نے کہا کہ علاقے میں بجلی کے کھمبوں اور ٹرانسفارمر ز کی بھی کمی ہے جبکہ بجلی کی گھنٹوں لوڈشیڈنگ بھی معمول بن چکا ہے علاوہ ازیں علاقے میں کوئی کوڑا دان موجود نہ ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ گندگی کے دھیر لگے ہوئے ہیں جس سے اہل علاقہ باالخصوص گلی محلوں میں کھیلنے والے بچے مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہین جبکہ صاف شفاف اور سر سبز پشاور بنانے کے دعویدار حکومت نے تاحال اس علاقے کو عملہ صفائی تک مہیا نہیں کیا ۔بارش ہوتے ہی سڑکیں اور گلیاں جھیل یاتالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں جہاں سے پیدل چلنا تو درکنار بلکہ اکثر رکشے اور گاڑیاں بھی پھنس جاتی ہیں علاقے میں کوئی ڈسپنسری یا خواتین کیلئے کوئی ہسپتال موجود نہیں حاملہ خواتین کو بیماری کے دوران شہر کے ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے جہاں پر رش کے باعث ان کے مسائل میں اضافہ اور خواتین مریضوں کی حالت مزید بگڑ جاتی ہے علاقے میں اراضی ہے مگر کوئی پلے گراؤنڈ موجود نہیں انہوں نے وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک ،وزیر بلدیات عنایت اللہ ،ضلعی ناظم محمد عاصم خان اور ٹاؤن فور کے ناظم ہارون صفت اور نائب ناظم ارباب کمال سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ علاقے کے مسائل کے حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں۔

مزید : پشاورصفحہ اول