کراچی کے عوام آج تک کوٹہ سسٹم کا عذاب بھگت رہے ہیں، وسیم اختر

کراچی کے عوام آج تک کوٹہ سسٹم کا عذاب بھگت رہے ہیں، وسیم اختر

کراچی(اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ کے زیر اہتمام بلدیاتی انتخابات 2015ء کے سلسلے میں سوسائٹی اور لائنز ایریا میں علیحدہ علیحدہ کارنر میٹنگز کا اہتمام کیا گیاجس میں سینٹرل ایگزیکٹیو کونسل کے انچارج وسیم اختر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے ساتھ زیادتی کی انتہاء یہ ہے کہ آخری بار مردم شماری 1998ء میں کرائی گئی اور اسی کے حساب سے کراچی کو سندھ اور وفاق میں نمائندگی اور وسائل دئے گئے لیکن آج جب کراچی کی آبادی کئی گناہ بڑھ چکی ہے لیکن اب بھی کراچی کو 1998ء کے حساب سے وسائل اور نمائندگی دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں سندھ کے دیہی علاقے کے لوگوں کو شہری علاقے کے لوگوں کے برابر لانے کیلئے چند سال کیلئے کوٹہ سسٹم نافذ کیا گیا تھا لیکن آج کئی برس گزر جانے کے باوجود کراچی کے عوام اس کوٹہ سسٹم کے عذاب کو سہہ رہے ہیں، جس کی وجہ سے کراچی کی عوام کی حکومتی اداروں اور جامعات میں نمائندگی آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت عجیب سیاست دیکھنے کو مل رہی ہے جہاں کراچی پر قبضے کے خاطر دو انتہائی مختلف سیاسی جماعتوں نے اتحاد کرلیا لیکن ان کے اس اتحاد نے کراچی کے عوام پر یہ حقیقت آشکار کردی ہے کہ یہ دونوں ہی طالبان حمایتی اور ان کے سیاسی ونگ ہیں۔ اس موقع پر کارنر میٹنگ میں مارواری، چھیپا، گجر، تیلی، خلجی اور مختلف برادریوں کے عمائدین سمیت بڑی تعداد میں نوجوان، بزرگوں اور خواتین نے شرکت کی جبکہ اس موقع پر عوام کی جانب سے ایم کیو ایم نامزد بلدیاتی امیداوارن پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور الطاف حسین کے حق میں نعرے بازی بھی کی۔علاوہ ازیں ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن گل فراز خان خٹک اور سی ای سی کے انچارج وسیم اختر و دیگر نے گلشن اقبال کی مختلف یوسیز کا دورہ کیا اور عوام سے ملاقاتیں کی۔

مزید : کراچی صفحہ آخر