ڈاکٹر عاصم کیس، رؤف صدیقی کی 7دسمبر تک ضمانت میں توسیع

ڈاکٹر عاصم کیس، رؤف صدیقی کی 7دسمبر تک ضمانت میں توسیع

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے ایم کیوایم کے رہنما رؤف صدیقی کی ڈاکٹر عاصم کیس میں 7دسمبر تک عبوری حفاطتی ضمانت میں توسیع کردی ہے۔جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ میں سندھ کے سابق وزیررؤف صدیقی کی جانب سے ڈاکٹرعاصم حسین کے مبینہ اعترافی بیان کے بعددائردرخواست کی سماعت جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو اور جسٹس عبد المالک گدی پرمشتمل دورکنی بینچ نے کی سماعت کے موقع پررؤف صدیقی بھی پیش ہوئے۔سندھ ہائی کورٹ میں ایم کیوایم کے رہنما روف صدیقی نے درخواست ضمانت دائر کی تھی کہ نارتھ ناظم آباد میں ڈاکٹر عاصم کے خلاف دہشت گردوں کے علاج کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور اس میں ان کا نام بھی شامل ہے لیکن ان کا اس سارے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے انہوں نے کبھی کسی کے علاج کے لیے ڈاکٹر عاصم کو کو فون نہیں کیا وہ اس مقدمہ کا سامنا کرنا چاہتے ہیں لیکن خدشہ ہے کہ ان کو گرفتار کرلیا جائے گا عدالت نے ان کو موقف سننے کے بعد دولاکھ روپے کے عوض عبوری حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کو ٹرائل کورٹ میں پیش ہونیکا حکم دیا تھا،۔بعدازاں میڈیا سے عدالت کے باہر گفتگو کرتے ہوئے اپنے اوپرقائم مقدمات پرشعری تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’سچائی شہید ہوتے تو دیکھی ہے ہمیشہ اب جھوٹ سرِ دارِ گلستان بھی تو دیکھوں‘‘۔انہوں نے کہا کہ اگرمجھے اس جھوٹے، بے بنیاد، لغو اورنا انصافی پر قائم مقدمے کیلئے سپریم کورٹ تک بھی جانا پڑا توجاؤں گا ۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ دو ڈھائی ماہ سے مجھے تنگ کرنے اور پریشان کرنے کیلئے مجھ پر مقدمات کی بھرمارکردی گئی ہے۔ رؤف صدیقی نے کہا کہ مجھ پر قائم جھوٹے اور سیاسی بدنیتی پر مبنی مقدمات پر پوری دنیا کے اہلِ علم اور اہلِ نظر نے لمحہ بہ لمحہ توجہ مرکوز کی ہوئی ہے ۔انہوں میری طاقت اور قوت میری سچائی ہے ۔ سچائی کی قیمت اگر میرا سر ہے تو میں سر دے دوں گا ، جھوٹ کے آگے میں سرنگوں نہیں ہونگا۔

مزید : کراچی صفحہ آخر