نومبر 2015،ریاست مخالف حملوں میں اضافہ ،ہلاکتوں میں کمی

نومبر 2015،ریاست مخالف حملوں میں اضافہ ،ہلاکتوں میں کمی

کراچی (خصوصی رپورٹ)نومبر 2015ء میں ریاست مخالف تشدد کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں غیر معمولی کمی آئی ہے تاہم جنگجو حملوں کی تعداد میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے جنگجو حملوں میں آنے والی مسلسل کمی ایک خاص سطح پر آکر رک گئی ہے ۔ سلامتی کی صورتحال میں مزید بہتری کے لیے سیاسی ‘ سماجی اور معاشی اقدامات کرنے پڑیں گے۔ ‘ جنگجو حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں کمی ‘ عوام کے احساس تحفظ میں بہتری یہ بات اسلام آباد میں قائم آزاد تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز (پکس) نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں کہی ہے۔ پکس کی رپورٹ کے مطابق ماہ نومبر میں ملک بھر میں 52 جنگجو حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں 53 افراد ہلاک اور 74 زخمی ہوئے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے مزید 112 جنگجوؤں کو ہلاک اور 228 مشتبہ جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا۔ اکتوبر 2015 ء کے دوران 41 جنگجو حملوں میں 101 افراد ہلاک اور 110 زخمی ہوئے تھے۔ نومبر میں ہلاکتوں کی شرح گزشتہ کئی سال میں کم ترین رہی ہے۔ تاہم جنگجوؤں کی حکمت عملی میں بھی سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اب وہ بڑے پیمانے پر آسانی کے ساتھ ہائی پروفائل حملوں کے قابل نہیں رہے تو گزشتہ چند ماہ سے شارپ شوٹنگ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو قریب سے چند گولیاں مار کر جنگجو بھاگ جاتے ہیں۔ ماہ نومبر میں کراچی میں چار رییجرز کو اس طرح نشانہ بنایا گیا جبکہ صوابی‘ اور مردان میں پولیس اہلکاروں کو بھی اسی طرح نشابہ بنا کر جنگجو بھاگنے میں کامیاب رہے۔ یکم دسمبر کو کراچی میں ملٹری پولیس کے دو جوانوں کو بھی اسی طرح نشانہ بنایا گیا۔ پکس سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق ماہ نومبر میں سب سے زیادہ جنگجو حملے بلوچستان میں ہوئے جہاں ہلاکتیں بھی سب سے زیادہ ہوئے۔ اس صوبے میں 19 حملوں میں 20 افراد ہلاک اور 38 زخمی ہوئے۔ فاٹا میں 12 حملوں میں 15 افراد مارے گئے۔ خیبر پختونخواہ میں 11 حملوں میں 9 افراد ‘ سندھ میں 9 حملوں میں 9 فراد مارے گئے جبکہ پنجاب میں ایک جنگجو حملے میں دو افراد زخمی ہوئے۔ پکس کی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی فورسز کو سب سے زیادہ نقصان کراچی میں اٹھانا پڑا جہاں جنگجو حملوں میں کل 9 ہلاکتیں ہوئیں جن میں سے 8 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار تھے۔ کراچی کے بعد فاٹا مہلک ترین جگہ رہی جہاں چھ فورسز اہکار مارے گئے۔ گزشتہ چند ماہ سے یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ جنگجو حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کا تناسب کم ہوتا چلا جا رہا ہے جس کی وجہ سے عوام میں تحفظ کا احساس بہتر ہو رہا ہے۔گزشتہ ایک ماہ کے دوران سیکیورٹی فورسز کی جنگجوؤں کے خلاف کاررائیو ں میں تیزی رہی۔ مجموعی طور پر فورسز کی92 کارروائیاں ریکارڈ کی گئیں جن میں108جنگجو ہلاک ہوئے اور 228 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ریاست مخالف جنگجوؤں کے خلاف سب سے زیاد کارروائیاں بلوچستان میں ریکارڈ کی گئیں جہاں 35 کارروائیوں میں 17 جنگجو مارے گئے اور 91 مشتبہ جنگجو گرفتار کیے گئے۔ بلوچستان کے بعد سب سے زیادہ گرفتاریاں خیبر پختونخواہ سے ہوئیں۔ سندھ میں 17 کارروائیوں میں 17 جنگجوؤں کو ہلاک اور 42 کو گرفتار کیا گیا جبکہ پنجاب میں 11 کارروائیوں میں 8 جنگجو مارے گئے جن میں لشکر جھنگوی کا بانی بھی شامل تھا۔ جنگجوؤں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں فاٹا میں ہوئیں جہاں 8 کارروائیوں میں 66 جنگجو مارے گئے۔ گلگت میں فورسز نے ایک کارروائی کی جس میں سیاحوں پر حملے میں ملوث ایک ملزم کو پکڑنے کی کوشش کی تاہم ملزم دس اہلکاروں کو زخمی کرنے کے بعد فرار ہو گیا۔

مزید : کراچی صفحہ آخر