4ارب روپے کا نقصان ہو چکا ،گرے ٹرفکنگ میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائیگا ،حکومت

4ارب روپے کا نقصان ہو چکا ،گرے ٹرفکنگ میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائیگا ...

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر مملکت آئی ٹی انوشے رحمان نے کہا ہے کہ حکومت کو ابتک گرے ٹریفکنگ سے 4ارب روپے کا نقصا ن ہو چکا ہے، گرے ٹریفکنگ میں ملوث مافیا بہت مضبوط ہے اس ممنوع کاروبار میں ملوث مافیا دبئی میں بیٹھا ہے ،گرے ٹریفکنگ میں ملوث افراد کو جلد بے نقاب کیا جائے گا،گزشتہ6سالوں میں گرے ٹریفکنگ میں ملوث 401 افراد کیخلاف 268مقدمات درج ہوئے جن میں سے صرف24افراد کو سزا ہوئی۔بعض رجسٹرڈ کمپنیاں بھی اس کاروبار میں ملوث تھیں،ایف آئی اے کی ناقص تفتیش کے باعث ایک بڑی کمپنی گرے ٹریکنگ کیس سے بری ہو ئی، اس کمپنی نے پھر گرے ٹریفکنگ شروع کر دی ہے،سائبر کرائم بل میں گرے ٹریفکنگ کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت سخت سزائیں دی جائیں گی۔2018تک یونیورسل سروس فنڈ کی مدد سے پورے ملک میں موبائل سروس مہیا کر دی جائے گی۔ اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے اکبر ہوتی نے کہا کہ گرے ٹریفکنگ کو دہشت گردوں کی مالی مدد کیلئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے، قانون کی کمزوری کی وجہ سے بھی ملزمان چھوٹ جاتے ہیں، ہمارے اور ملزمان کے وکلاء میں بہت فرق ہوتا ہے، ہمارے انسپکٹر کام کر رہے ہیں انکے وکلاء کروڑ وں روپے لیتے ہیں، جس کی وجہ سے ملزمان چھوٹ جاتے ہیں۔اس موقع پر چےئر مین کمیٹی کیپٹن(ر) صفدر نے کہا کہ یہ انتہائی اہمیت کا معاملہ ہے، ملک بھر میں دہشت گردی کیخلاف جنگ جاری ہے ،دہشت گردوں کی مالی معاونت کیلئے گرے ٹریفکنگ کا سہارا لیا جاتا ہے،اسلئے ایسے افراد کیخلاف سخت سے سخت حکمت عملی اختیار کی جائے ۔ اور آئندہ ایف آئی اے گرے ٹریفکنگ میں ملوث گرفتار ملزما ن کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کرے ،ایف آئی اے اور کمیٹی مل کر انکے خلاف مقدامات لڑے گی۔ جمعرات کو کمیٹی کا اجلاس چےئر مین کیپٹن (ر)صفدر کی زیر صدوارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا ۔اجلاس میں وزیر مملکت برائے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی انوشہ رحمٰن،سیکرٹری وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی، کمیٹی ممبران، ڈی جی ایف آے اکبر ہوتی ،چےئر مین پی ٹی اے اور چیف ایگزیکٹو یونیورسل سروس فنڈفیصل ستار نے شرکت کی ۔ کمیٹی کو موبائل صارفین سے خفیہ چارجز لینے پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری وزارت انفارمیشن نے کہا کہ موبائل صارفین سے خفیہ چارجز لینے کا آڈٹ ہو رہا ہے، اس موقع پر چیئرمین کمیٹی کیپٹن صفدر نے کہا کہ جن موبائل کمپنیوں کیخلاف شکایات ہیں انہیں کمیٹی میں بلائیں گے، اگر وہ کمپنیاں نہ آئیں تو ایف آئی اے کی مدد لی جائے گی،سپیکر قومی اسمبلی کو بھی اس معاملے میں شریک کیا جائے گا، اس موق پر رکن کمیٹی طلال چوہدری نے کہا کہ نجی موبائل کمپنیوں کے مالکان کو بلانے کیلئے ایف آئی اے کی ضرورت نہیں،جو کمیٹی کا حکم نہ مانے اس کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں، اور اس حوالے سے چےئر مین پی ٹی اے کو پابند کیا جائے کہ وہ آئندہ اجلاس میں ان کمپنیوں کے نمائندؤں کو کمیٹی کے سامنے لائیں۔ کمیٹی کو ملک میں گرے ٹریفکنگ کیخلاف کئے جانے والے اقدامات کی بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی ایف آے اکبر ہوتی نے کہا کہ گزشتہ6سالوں میں گرے ٹریفکنگ میں ملوث 401افراد کو گرفتار کیا،اس حوالے سے268مقدمات درج کئے گئے، اور 24افراد کو سزا ہوئی،گرے ٹریفکنگ کے باعث سالانہ3.35ارب روپے کا نقصا ن ہوا،گرے ٹریفکنگ کو دہشتگردوں کی مالی مدد کیلئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے، قانون کی کمزوری کی وجہ سے بھی ملزمان چھوٹ جاتے ہیں، ہمارے اور ملزمان کے وکلاء میں بہت فرق ہوتا ہے، ہمارے انسپکٹر کام کر رہے ہیں انکے وکلاء کروڑ وں روپے لیتے ہیں، جس کی وجہ سے ملزمان چھوٹ جاتے ہیں،گرے ٹریفکنگ مکمل ختم نہیں ہو سکی،مگر کمی ضرور آئی ہے،کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے استعمال سے کئی جرائم ہو رہے ہیں۔اس موقع پر وزیر مملکت آئی ٹی انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ ایف آئی اے کی ناقص تفتیش کے باعث ایک بڑی کمپنی بری ہو ئی، اس کمپنی نے پھر گرے ٹریفکنگ شروع کر دی ہے،ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ اس میں ایف آئی اے کا کوئی قصور نہیں ہے،ہمارا انسپکٹر پیش ہوتا ہے جبکہ کمپنی والے ڈیڑھ کروڑ کا وکیل کرتے ہیں، قانون کی کمزوری سے بھی ملزمان کو فائدہ پہنچتا ہے، وزیر مملکت آئی ٹی انوشے رحمان نے کہا ہے کہ یونیورسل وروس فنڈ میں اس وقت100ارب روپے جمع ہوئے ہیں، جس میں سے42ارب روپے پسماندہ علاقوں ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے پر خرچ ہوئے،2018تک یونیورسل سروس فنڈ کی مدد سے پورے ملک میں موبائل سروس مہیا کر دی جائے گی۔اس موقع پر چےئر مین کمیٹی کیپٹن(ر) صفدر نییونیورسل سروس فنڈ کی نگرانی کیلئے طاہر اقبال کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی بنا دی جو یونیورسل سروس فنڈ کا کم ترقی یافتہ علاقوں میں مواصلات کا نظام بہتر بنانے اور ترقی یافتہ دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے ان علاقوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر نے کیلئے اس فنڈ کے بہترین استعمال پر غور کر ے گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر