میرٹ اور عدل کی بالادستی اولین ترجیح ہے،انیسہ زیب

میرٹ اور عدل کی بالادستی اولین ترجیح ہے،انیسہ زیب

پشاور( پاکستان نیوز)خیبرپختونخوا کی وزیر محنت و معدنی ترقی انیسہ زیب طاہر خیلی نے ٹیلی فون انڈسٹری آف پاکستان میں خیبر پختونخوا کے ملازمین کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کے سکالر شپ کی معطلی کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ مذکورہ سکالرشپ کی بحالی کیلئے ہنگامی اقدامات کئے جائیں۔ٹیلی فون انڈسڑی سے کنڑیبیوشن وصول کرنا فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ذمہ داری ہے اس میں ملازمین اور انکے بچوں کا کوئی قصور نہیں لہذ ا زیر تعلیم بچوں کے تعلیمی مستقبل کو بچانے کیلئے سکالرشپ جاری کیا جائے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے پشاورمیں ایک اعلی سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹراظہر جدون ،وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر اکبر ایوب ، ڈائریکٹر ورکرز ویلفےئر بورڈ اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔جبکہ ضلع ہری پور سے متاثرہ ملازمین کا کثیر رکنی وفد بھی اس موقع پر موجود تھا۔صوبائی وزیر انیسہ زیب طاہر خیلی نے موقع پر موجود متعلقہ حکام سے مذکورہ مسئلے کی نوعیت سے متعلق دریافت کیا تو ان کو بتایا گیا کہ ملازمین کے بچوں کی سکالرشپ کے فنڈز کی ذمہ داری وفاقی حکومت کے پاس ہے ۔چونکہ ٹیلی فون انڈسٹری آف پاکستان کا کنڑیبیوشن متعلقہ ادارے کو موصول نہیں ہو رہا اس لئے سکالرشپ روک دی گئی ہے۔صوبائی وزیر انیسہ زیب نے مذکورہ مسئلے کو متعلقہ وفاقی ادارے کے ساتھ سنجیدگی سے اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ بچوں کو درمیان چوراہے میں لاکر کھڑا کر دینا نا انصافی ہے۔ملازمین انڈسٹری کے کنڑیبیوشن کے ذمہ دار نہیں ہیںیہ متعلقہ ادارے کی اپنی ذمہ داری ہے کہ و ہ قواعد و ضوابط کے مطابق کنڑیبیوشن وصول کرے اور جیسے بھی ممکن ہو طلبہ کا سکالرشپ فوری بحال کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ سیکرٹری فنڈسے مل کر مسئلے کو بلاتاخیر حل کیا جائے۔اجلاس میں موجود پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹراظہرجدون نے مذکورہ مسئلے کے پائیدار حل کو یقینی بنانے کیلئے اسے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اٹھانے کے عزم کا اظہارکیا اور کہا کہ مستحقین کو انکا حق ضرورملنا چاہئے۔انڈسٹری انتظامیہ کی غفلت کی سزا معصوم طلبہ کو دیناکسی صورت بھی مناسب نہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر