زیادہ تر مرد جنسی تعلق قائم نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس ایک چیز کے پیسے دیتے ہیں

زیادہ تر مرد جنسی تعلق قائم نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس ایک چیز کے پیسے دیتے ہیں
 زیادہ تر مرد جنسی تعلق قائم نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس ایک چیز کے پیسے دیتے ہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ایڈنبرا (نیوز ڈیسک) لوگ اپنی محنت کی کمائی کو عموماً اپنے آسائش و آرام اور عزت و وقار میں اضافہ کرنے والے کاموں میں استعمال کرتے ہیں لیکن سکاٹ لینڈ کی ایک خاتون کے پاس دولت مند مرد اپنی بے عزتی کروانے اور حتیٰ کہ خود پر شرمناک انداز میں تشدد کروانے کے لئے آتے ہیں اور اس کے بدلے سینکڑوں پاﺅنڈ نچھاور کرتے ہیں۔

اخبار ڈیلی سٹار کے مطابق 36 سالہ دلکش خاتون ’مسٹرس انکا‘ نے جنسی تشدد اور بے عزتی کی دکان کھول رکھی ہے جس کے گاہک صرف دولت مند مرد ہی بنتے ہیں۔ مسٹرس انکا کہتی ہیں کہ ان کے پاس آنے والے مرد ان کے ہاتھوں ذلیل ہونا اور حتیٰ کہ مار کھانا بھی پسند کرتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ عموماً ایسے مردوں کا مقصد صرف جنسی تسکین نہیں ہوتا بلکہ وہ جنس مخالف کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہونا اور پٹنا پسند کرتے ہیں، لیکن اپنی شریک حیات کے سامنے اس خواہش کا اظہار نہیں کرسکتے کیونکہ انہیں تعلق ٹوٹ جانے کا ڈر ہوتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ایسے مرد ان کے پاس آکر بہت آزادی اور اطمینان محسوس کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کے ساتھ ہونے والے شرمناک سلوک کو ہمیشہ راز رکھتی ہیں۔

مزید جانئے: وہ ایک قسم کے مرد جن پر خواتین اپنی بہترین سہیلیوں سے بھی زیادہ بھروسہ کرتی ہیں، سائنس کا ایسا انکشاف جو زیادہ تر مردوں کو افسردہ کردے گا

مسٹرس انکا کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے گاہکوں کی تسکین کے لئے ایک خصوصی مرکز بنا رکھا ہے جہاں تشدد کے کئی خصوصی آلات بھی دستیاب ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے پاس آنے والے مردوں کا پسندیدہ کام برہنہ ہو کر کوڑے کھانا ہے۔ اسی طرح کچھ مردوں کو باندھ کر یا ان کے گلے میں کتے کی طرح پٹہ ڈال کر بھی ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔ انکا کہتی ہیں کہ ان کے پاس گاہکوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور خصوصاً کرسمس سے پہلے تو گاہکوں کار ش بہت بڑھ جاتا ہے کیونکہ اکثر مرد اپنی بیگمات کو کرسمس کی شاپنگ کا کہہ کر نکلتے ہیں اور سیدھے ان کے پاس پٹنے اور ذلیل ہونے کے لئے چلے آتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس