دنیا کا وہ انوکھا ترین قبیلہ، جہاں خواتین جانوروں کو بھی اپنا دودھ پلا کر زندہ رکھتی ہیں

دنیا کا وہ انوکھا ترین قبیلہ، جہاں خواتین جانوروں کو بھی اپنا دودھ پلا کر ...
دنیا کا وہ انوکھا ترین قبیلہ، جہاں خواتین جانوروں کو بھی اپنا دودھ پلا کر زندہ رکھتی ہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

برازیلیا (نیوز ڈیسک) جدید دنیا سے ہزاروں میل دور ایمازون کے گھنے جنگلات میں بسنے والے ’آوا‘ قبیلے کی شکل میں اکیسویں صدی کا انسان آج سے ہزاروں سال قبل کے انسان کو اس دنیا میں دیکھ سکتا ہے۔ پانچ صدیاں قبل مشرقی برازیل کے جنگلات میں یہ قبائلی لاکھوں کی تعداد میں آباد تھے مگر اب ان کی تعداد صرف 300 رہ گئی ہے۔ جدید دور کی سہولیات، گاڑیوں، بجلی، پکے مکانات اور حتیٰ کہ لباس سے بھی بے خبر یہ قبائلی آج بھی فطرت کے انتہائی قریب ہیں۔

جریدے ڈیلی میل کے مطابق ان لوگوں کی زندگی جنگلی جانوروں کی زندگی کے اس قدر قریب ہے کہ انہیں جانوروں سے الگ دیکھنا ممکن نہیں۔ فوٹوگرافر دومینکو پوگیلیز ان چند خوش قسمت افراد میں سے ایک ہیں جو اس قبیلے تک پہنچ پائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آوا قبیلے کے لوگوں کی زندگی جنگل کے ساتھ مکمل طور پر گھل مل چکی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ پہلی دفعہ اس قبیلے کے قریب پہنچے تو اس کے افراد انہیں دیکھ کر بے اختیار قہقہے لگانے لگے۔ ان کے لئے کسی اور دنیا کے فرد کو دیکھنا کافی تعجب اور تفنن کا باعث تھا۔

مزید جانئے: یورپ کا وہ ملک جہاں گھوڑوں کیلئے اپنی عزت بچانا مشکل ہو گیا، ایسا جنون کہ پولیس چکرا کر رہ گئی

ڈومینکو کہتے ہیں کہ یہ لوگ جدید دور کے انسان سے بالکل مختلف زندگی ضرور گزارتے ہیں لیکن ان میں جانوروں سے محبت کا جذبہ حیرت انگیز ہے۔ ان کے ننھے بچے ناصرف ہر طرح کے جانوروں کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں بلکہ ان کی خواتین بھی جنگلی جانوروں کے بے سہارا بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں اور یوں آوا قبیلے کے افراد اور جنگلی جانوروں میں انتہائی قریبی رشتہ استوار ہوجاتا ہے۔

اس قبیلے کے دوست جانوروں میں جنگلی سور، گلہریاں اور خصوصاً بندر شامل ہیں جن کے بچے قبیلے کی خواتین کے ساتھ بہت مانوس ہیں۔ ڈومینکو کہتے ہیں کہ وہ قبیلے کی خواتین کو بندروں کے بچوں کو دودھ پلاتے دیکھ کر سخت حیران ہوئے۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ اس قبیلے کی خواتین جانوروں کے بے سہارا بچوں کو اپنے بچوں کی طرح پالتی ہیں، اور جانوروں کے یہ بچے بھی بڑے ہو کر قبیلے کے ساتھ رہتے ہیں اور بلند درختوں سے پھل توڑنے اور دیگر مشکل کاموں میں ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔

تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ ایمازون کے جنگلات میں بسنے والے لاکھوں آوا قبائلیوں کو سولہویں اور سترہویں صدی میں یورپی سامراجی طاقتوں نے اپنا غلام بنانے کی کوشش کی۔ انیسویں صدی کے نصف میں اسی کوشش میں ایک لاکھ سے زائد قبائلیوں کو ہلاک کردیا گیا، جبکہ یورپی لوگوں سے ان قبائلیوں میں طرح طرح کی بیماریاں بھی پھیل گئی، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج یہ صفحہ ہستی سے مٹنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس