روس کے بعد ترکی نے امریکا کو بھی صاف انکار کردیا، واضح اعلان کردیا

روس کے بعد ترکی نے امریکا کو بھی صاف انکار کردیا، واضح اعلان کردیا
روس کے بعد ترکی نے امریکا کو بھی صاف انکار کردیا، واضح اعلان کردیا

  

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) پیرس حملوں کے بعد امریکہ نے ترکی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنا شام کے ساتھ ملحقہ بارڈر سیل کر دے مگر ترکی نے امریکہ کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ ترک اخبار حریت ڈیلی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے وزیراعظم احمد داﺅد اوگلو نے امریکی مطالبے کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قدر طویل بارڈر سیل نہیں کیا جا سکتا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”اگر ہم کسی طرح بارڈر سیل کر دیتے ہیں تو پھر شام سے جان بچا کر آنے والے پناہ گزینوں کا کیا ہو گا اور وہ کہاں سے گزریں گے؟ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھیں۔“

مزید جانئے: ترکی اور داعش کے تعلقات، روس نے دھماکہ کردیا، ’ثبوت‘ دنیا کے سامنے رکھ دئیے

رپورٹ کے مطابق ترک وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ”ہماری ایک سٹریٹجک ذمہ داری بھی ہے کہ ہم بارڈر سکیورٹی کو یقینی بنائیں اور کسی طرح دہشت گردوں کو سرحد کے اس طرف نہ آنے دیں۔ہم یہ ذمہ داری بھی پوری طرح نبھا رہے ہیں۔“انہوں نے کہا کہ ”بارڈر سے دہشت گردوں کی آمدورفت کو روکنا اور سرحدی علاقے میں کوئی منفی سرگرمی نہ ہونے دینا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ہم نے داعش کی شدت پسندانہ کارروائیوں کی اب تک بھاری قیمت چکائی ہے، اس لیے ہم اسے روکنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے، مگر امریکی مطالبے کے مطابق ہم شام کے ساتھ اپنے 911کلومیٹر طویل بارڈر کو مکمل طور پر سیل نہیں کر سکتے۔“

احمد داﺅد اوگلو نے کہا کہ ”دنیا میں ایسے کسی بھی بارڈر کو سیل کرنا ناممکن ہے جہاں بارڈر کی دوسری طرف کوئی سیاسی حکومت قائم نہ ہو۔ہمارے ساتھ ملحقہ شامی بارڈر کے اس پار کوئی ریاستی نظام موجود نہیں ہے اور وہاں ہمارے کوئی ہم منصب نہیں ہیں جن سے ہم اس معاملے پر بات کر سکیں۔“ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ ”اس وقت ہمارا 98کلومیٹر بارڈر داعش کے قبضے میں ہے اور ہم اس کے قبضے سے بارڈر کا یہ حصہ چھڑوانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔ہم نے بارڈر پر مضبوط بیریئر لگانے کا وعدہ کیا تھا اور ہم وہ بیریئر لگا رہے ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ روس شام میں جو کارروائیاں کر رہا ہے وہ داعش کے خلاف نہیں کی جا رہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمیں سرحدی علاقوں سے داعش کو ختم کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔“

مزید : بین الاقوامی