وہ آدمی جس نے تاج محل کو ایک نہیں۔۔۔ بلکہ 3مرتبہ بیچ ڈالا، زندگی کی ایسی کہانی جسے جان کر آپ کیلئے ہنسی روکنا مشکل ہوجائے گا

وہ آدمی جس نے تاج محل کو ایک نہیں۔۔۔ بلکہ 3مرتبہ بیچ ڈالا، زندگی کی ایسی کہانی ...
وہ آدمی جس نے تاج محل کو ایک نہیں۔۔۔ بلکہ 3مرتبہ بیچ ڈالا، زندگی کی ایسی کہانی جسے جان کر آپ کیلئے ہنسی روکنا مشکل ہوجائے گا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیودہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے شہر آگرہ میں موجود تاج محل کے حسن و جمال اور شان و شوکت کے متعلق تو آپ نے سن رکھا ہو گا مگر آپ یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ ایک شخص نے تاج محل کو ایک نہیں بلکہ تین بار فروخت کر ڈالا تھا۔ یہ انتہائی مضحکہ خیز کہانی ہے جسے سن کر آپ بھی لطف اندوز ہوں گے۔اس شخص کا نام میتھلیش کمار سری واستو ہے اور پیشے کے اعتبار سے یہ ایک وکیل تھا۔اس شخص میں دوسروں کے دستخط کی نقل کرنے کی حیران کن صلاحیت تھی۔ اس نے پہلی بار کسی کے جعلی دستخط کرکے 1ہزار روپے کا فراڈ کیا تھا جس سے اسے اس کام کا چسکا پڑ گیا۔ اس کے بعد اس نے کئی بھارتی سیاسی و کاروباری شخصیات کے دستخط کرکے عوام کو چونا لگایا۔حتیٰ کہ اس دھوکے باز شخص نے سابق بھارتی صدر ڈاکٹر راجندر پرساد اور بزنس مین دھیروبھائی امبانی کے جعلی دستخط کرکے بھی رقم ہتھیائی۔

مزیدجانئے: یورپ کا وہ ملک جہاں لڑکی کی عزت کی قیمت ایک روٹی سے بھی کم ہوگئی، خستہ حالی دنیا کیلئے عبرت کا نشان بن گئی

وہ ہر دھوکے میں اپنا نام بھی تبدیل کرتا تھا، اس نے کم و بیش اپنے 50نام تبدیل کیے۔اس نے تین بار سرکاری عہدیدار بن کر غیرملکی سیاحوں کو بے وقوف بنایا اور انہیں تاج محل فروخت کر دیا۔یہیں پر بس نہیں، یہ نوسرباز بھارت کا وزیراعظم ہاﺅس، بھارتی پارلیمنٹ بمعہ اراکین اور لال قلعہ بھی فروخت کر چکا ہے۔اسے اس کے گھناﺅنے جرائم کی 113سال قید کی سزا بھی دی گئی مگر وہ محض 20سال جیل میں رہا اورفرار ہو گیا۔ وہ قید سے 1996ءمیں اس وقت فرار ہوا جب اسے کان پور جیل سے علاج کے لیے ایک ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا۔اس وقت اس کی عمر 84برس تھی۔

اس کے بعد اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا کہ وہ کہاں گیا۔ اس کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ 2009ءتک زندہ رہا۔ وکیل کے مطابق اس نے 97سال عمر پائی۔وہ اپنے گاﺅں والوں کے لیے رابن ہڈ کی حیثیت رکھتا تھا اور وہ اس سے بہت محبت کرتے تھے، آج بھی وہ اسے یاد کرتے ہیں، کیونکہ وہ فراڈ سے حاصل کی جانے والی رقم اپنے گاﺅں کے غریب باشندوں میں بانٹ دیا کرتا تھا۔ گاﺅں والوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کا مجسمہ بنوا کر گاﺅں میں نصب کروائیں گے۔ بالی ووڈ کی کئی فلمیں بھی اس شخص سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہیں۔ ان فلموں میں امیتابھ بچن کی ”مسٹر نٹورلعل“ بھی شامل ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس