مرا یقیں ہے خواہش،مرا گماں خواہش

مرا یقیں ہے خواہش،مرا گماں خواہش
مرا یقیں ہے خواہش،مرا گماں خواہش

  


اردو کے افق پر بہت سارے لکھنے والے چاند ،سورج اور ستارے بن کر جگمگا رہے ہیں۔ان جگمگاتے ستاروں میں ایک اور ستارہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ افروز ہوا ہے اور اپنے قلم کی تابانی،خیالات کی فراوانی،احساسات کی جولانی،مشاہدات کی طولانی اور جدت کی ارزانی سے آسمانِ اردو کی ضو فشانی میں مسلسل اضافے کا سبب بن رہا ہے۔آسمانِ ادب کے اس درخشاں ستارے کا نام ڈاکٹر وقار خان ہے۔ڈاکٹر وقار خان کوٹ سلطان ضلع لیہ میں پیدا ہوئے۔ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں اور ان دِنوں نشتر ہسپتال ملتان میں ’’مسیحائی‘‘ کر رہے ہیں۔حیرت کی بات یہ کہ ان مشکل اور کل وقتی سرگرمیوں کے باوجودانہوں نے اپنی قوتِ مشاہدہ اوراحساسات کے نتیجے میں جنم لینے والے اپنے خیالات کو سپردِ’’قضا‘‘ نہیں ہونے دیا،بلکہ قلم وقرطاس کے ذریعے ان کو بقا بخشی ہے۔ڈاکٹر وقار خان نے اپنے خیالات،احساسات اور مشاہدات کی حیات کے لئے نثر کی بجائے نظم کو منتخب کیا ہے،یوں ان کا پہلا مجموعہِ کلام ’’اِنایا‘‘ کے نام سے اردو ادب کے وسیع دامن میں جگہ پا چکا ہے۔

’’اِنایا‘‘کو عصرِ حاضر کے نامور اصحابِ سخن اور اربابِ فن کی طرف سے سندِ قبولیت ملنا بلا شبہ ڈاکٹر وقار خان کے علمی اور ادبی وقار میں اضافے کا سبب ہے۔اولین مجموعہِ کلام کے ذریعے ہی اس سطح پرپذیرائی حاصل کر لینا نظر انداز کر دینے والی بات نہیں ہے۔نامور اصحابِ علم ودانش ڈاکٹر افتخاراحمد عارف، پروفیسر ڈاکٹرقاسم پیر زادہ اور ڈاکٹر ستیاپال آنند کی طرف سے سندِ قبولیت جہاں ڈاکٹر وقار خان کے ادبی وقار میں اضافے کی دلیل ہے، وہیں اس بات کی گواہی بھی ہے کہ ان کے خیالات، احساسات اور مشاہدات جو منصہ شہود پر آئے ہیں، وہ ہماری اردو شاعری کے ان تمام سانچوں کے عین مطابق ہیں جن سے گزارنے کے بعد ہم کسی کے بھی خیالات کو کلام قرار دیتے ہیں۔مذکور شعرائے کرام اور اصحابِ علم وفن نے یقینی طور پر ڈاکٹر وقار خان کے کلام کو اردو شاعری کے مروجہ سانچوں سے گزارا ہوگا، انہیں علم البیان کی شاخوں کے ذریعے پرکھا ہوگا اور تب ہی اپنی قیمتی آرا کا اظہار کیا ہوگا۔ڈاکٹر وقار خان کی اولین تخلیق’’اِنایا‘‘ کی اہمیت اور اس کے خالق کے ادبی قد کاٹھ کا حتمی جائزہ ابھی سے لینے بیٹھ جانا سراسر نا انصافی ہے۔’’اِنایا‘‘ ان کے ادبی سفر کا آغاز ہے،سفر کا شباب یا بزرگی نہیں،لہٰذا ’’ اِنایا‘‘ کا دِیوانِ غالب سے تقابل کر کے فنی محاسن کا جائزہ لینا مناسب بات نہیں۔ ہم ابھی ڈاکٹر وقار خان کوان کا ادبی سفر کرنے دیں۔ان کے اس شوقِ سفر کو اور بھی مہمیز کریں۔ان کی حوصلہ افزائی کریں،سازگار ماحول مہیا کریں اور جب وہ خود’’ منزل ‘‘ پر پہنچنے کا اعلان کر دیں، تب ٹھہرے ہوئے ’’پہیے‘‘ کے تار گِن کر حتمی فیصلہ یا رائے دیں،کیونکہ تب ’’پہیے‘‘ کے تار گننا آسان ہوگا اور ہم اپنی ناکامی اور جھنجھلاہٹ کی سزا ڈاکٹر وقار خان کو نہیں دیں گے۔

ڈاکٹر وقار خان کے اولین مجموعہِ کلام کا مطالعہ ہمیں ایک ایسے شخص سے متعارف کرواتا ہے جوعزم ،جوش اور ولولے کی دولت سے مالا مال ہے۔اسے اپنی قوتِ بازو پر اعتماد ہے،کچھ کر گزرنے کا حوصلہ اور عزم اس کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ڈاکٹر وقار خان کی شاعری کا مطالعہ کر کے مجھے ذاتی طور پر لگا کہ وہ اپنے محبوب سے زیادہ اپنی ذات سے محبت کرتے ہیں،بلکہ یہ کہنا زیادہ موزوں ہوگا کہ ان کا محبوب در اصل ان کی اپنی ذات ہے۔وہ اپنی خوبصورتی اور اپنی خوبیوں پر جان چھڑکتے ہیں۔انہیں اپنی ادائیں زیادہ دلفریب لگتی ہیں۔خدا معلوم آپ ان کی اس ’’صفت‘‘ کو خوبی قرار دیں گے یا ان کی خامی سمجھیں گے۔بہرکیف مَیں نے ان کے کلام اور ان کے لکھے پیشِ لفظ کو پڑھنے کے بعد جو نتیجہ اخذ کیا ہے، وہ پوری دیانتداری کے ساتھ آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔ میرے نزدیک یہ صفت ایک خوبی بھی ہے۔۔۔اگر اس کا مثبت اور بے ضرر استعمال کیا جاسکے تو۔ورنہ یہی خوبی ایک ’’مرض‘‘ کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور اس کا شکار خود بھی یہ نہیں جان پاتا کہ وہ اَنا کا مارا ہوا وہ مور ہے جو اپنے پروں کے رنگوں کے ارژنگ کے سحر میں کھو چکا ہے اور اس کی آنکھیں اب کائنات کی دیگر خوبصورتیوں کو دیکھنے اور ان سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں۔مجھے یقینِ کامل ہے کہ ڈاکٹر وقار خان اپنے اس وصف سے نہ صرف خود بھی آگاہ ہیں، بلکہ وہ اس ’’خوبی‘‘ کا مثبت اور بے ضرر استعمال بھی لازمی کرتے ہوں گے۔

ڈاکٹر وقار خان کی شاعری میں بڑا جوش ہے،ولولہ ہے،بڑا سپارک ہے۔ان کی شاعری کسی بڑی ریاضت یا مجادلے کا ردِ عمل تو نہیں، مگر یہ ذاتی مشاہدے اور تجربے کا نچوڑ ضرور ہے۔وہ دوسروں کے تجربات سے ا ستفادہ کرتے تو ضرورنظر آتے، مگر انہیں خود نئے راستے بنا کر چلنا اور نئی دنیا دریافت کرنا اچھا لگتا ہے۔بنے بنائے راستوں پر چل کر پہلے سے آباد بستیوں میں جا بسنا ان کی سرشت میں شامل نہیں۔وہ جہانِ تازہ کی تلاش میں سرگرداں اور اس کی آباد کا ری کی منصوبہ بندی میں مگن نظر آتے ہیں۔ان کی شاعری میں حوصلہ ہے، امنگ ہے، جینے کا جذبہ اور ترنگ ہے۔وہ نہ تو خود مایوس ہیں اور نہ ہی دوسروں کو مایوس ہونے دیتے ہیں۔وہ جینے کے ایک سو ایک ہنر جانتے ہیں اور دوسروں کو بھی سکھاتے نظر آتے ہیں۔وہ خود کو ایک رہبر اور ’’ہیرو‘‘ کی شکل میں پیش کرتے ہیں۔ڈاکٹر وقار خان خود اعتمادی کی دولت سے مالا مال ہی نہیں، اس کا عملی اظہار بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ان کے کلام میں بہت کچھ ایسا ہے جو مَیں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تھا۔ جگہ کی قلت کے پیشِ نظر چند اشعار کے ساتھ اجازت :

وہ جب بھی اپنی اداؤں کی بات کرتے ہیں

تو ہم بہشت کی چھاؤں کی بات کرتے ہیں

وہ جن کی ذات کے اندر بھی قفس ہے وقارؔ

وہ ہم سے تازہ ہواؤں کی بات کرتے ہیں

ٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌَََََََََََٓاور

ہے میرے صبر کی راہوں کا امتحاں خواہش

مرا یقیں ہے خواہش،مرا گماں خواہش

یہ کیا پڑی ہے تجھے مجھ کو چھوڑ جانے کی

ابھی تو ہونے لگی تھی جواں خواہش

مزید : کالم