معذور افراد کا عالمی دن اور اس کے تقاضے

معذور افراد کا عالمی دن اور اس کے تقاضے
معذور افراد کا عالمی دن اور اس کے تقاضے

  


پاکستان سمیت پوری دنیا میں معذور افراد کا عالمی دن گزشتہ روز منایا گیا۔ اس دن کومنانے کا مقصد دنیا بھر میں موجود 65کروڑ سے زائد معذور افراد سے اظہار یکجہتی کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان میں معذور افراد کی تعداد ڈیڑھ سے پونے دوکروڑ کے لگ بھگ ہے جو مختلف نوعیت کے مسائل سے دو چار ہیں، جن میں بیروزگاری، قانون ساز اداروں میں نمائندگی کا نہ ہونا، سفری مسائل، مفت علاج معالجے کی عدم دستیابی، انتہائی حساس معذور افراد کے لئے وظائف کا نہ ہونا، قابل ذکر ہیں۔ اگرچہ حکومتوں نے وقتاً فوقتاً ان افراد کی بحالی کے لئے کچھ اقدامات اٹھائے، لیکن ان افراد کی حالت جوں کی توں رہی، کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان افراد کی بحالی کے لئے جن اقدامات کا اعلان کیا گیا، وہ اس نوعیت کے نہیں تھے جن سے ان کی زندگیوں میں انقلاب آ جاتا، دوسرے ان اعلانات پر بھی (ایک دو کے علاوہ) سرے سے عملدرآمد نہیں ہوا، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں مقیم معذور افراد انتہائی کسمپسری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آج جب ہم اپنے معذور بہن بھائیوں کو اتنی کسمپرسی کی زندگی گزارتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہمارے لئے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے، کیونکہ جب وفاقی اور صوبائی بجٹ میں معذور افراد کے لئے ایک دھیلا بھی نہیں رکھا جائے گا تو ان کی زندگیوں میں بہتری کیسے آسکتی ہے؟ لہٰذا معذور افراد کے عالمی دن کے موقع پر چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس انور ظہیر جمالی اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جناب سید منصور علی شاہ سے اپیل کروں گا کہ حکومت سے پوچھیں کہ معذور افراد کی بحالی کے لئے اس کی کیا پلاننگ ہے؟ خصوصاً چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ سے معذور افراد نے بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔

جہاں تک حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے اس اشتہار کا تعلق ہے جو الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر مسلسل دیا جارہا ہے اور جس سے یہ تاثر ابھارا جارہا ہے کہ حکومت نے معذور افراد کے مسائل کافی حد تک حل کردیئے ہیں، مثلاً اس میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پنجاب میں اب تک 3600معذور افراد بھرتی کئے گئے ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معذور افراد حکومت نے نہیں کئے، بلکہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم سے بھرتی کئے گئے ہیں جس کا سارا کریڈٹ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ اور معروف قانون دان اظہر صدیق کو جاتا ہے، جنہوں نے یہ کیس دائر کیا اور بعدازاں ہم بھی اس کیس میں پارٹی بن گئے ،پھر یہ حکومتی دعویٰ کہ معذور افراد کے لئے دو ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے تو ہم یہاں یہ عرض کرتے چلیں کہ یہ رقم حکومت نے اس وقت مختص کی جب پولیس نے نابینا افراد پر تشدد کر کے ظلم کی انتہا کردی تھی، جس سے پوری دنیا میں ہماری بدنامی ہوئی، مگر صرف دو ارب روپے کی امداد اونٹ کے منہ میں زیرے سے بھی کم ہے۔ جہاں تک معذور افراد کے لئے علاج معالجے کی بات ہے تو کسی سرکاری ہسپتال میں معذور افراد کے لئے مفت علاج معالجہ تودور کی بات، ان کے لئے الگ کاؤنٹر تک نہیں بنائے گئے۔کرایوں میں رعایت بھی صرف ریلوے اور ہوائی جہازوں میں دی جارہی ہے۔ یہ سہولت معذور افراد کو 2010ء سے ہی میسر ہے۔ جب معذور افراد کے لئے سپیشل کارڈ کا اجراء کیا گیا، جبکہ باقی ٹرانسپورٹ میں کسی قسم کی رعایت کسی معذور کو حاصل نہیں ہے۔ رہی بات حکومت کے خدمت کارڈ کی تو پہلی بات تو یہ کہ یہ وظیفہ بھی محدود افراد کو ہی مل رہا ہے، اگر یہ وظیفہ ہر معذور فرد کو دے بھی دیا جائے تو اس دور میں محض 1200روپے کی رقم کو امداد نہیں، بلکہ گداگری کی جدید شکل ہی کہا جاسکتا ہے۔ ان تمام تر اقدامات کے باوجود ہمیں وزیر اعلیٰ پنجاب کی نیت پر کوئی شک نہیں ۔ ہم وزیر اعلیٰ سے اپیل کرتے ہیں کہ معذور افراد کی بحالی کے لئے معذوروں سے مشاورت کرتے ہوئے ان کے لئے پالیسیاں تشکیل دی جائیں اور بجٹ میں خطیر رقم مختص کی جائے جس کے لئے ہر صوبہ کم از کم تیس ارب اور وفاق پچاس ارب روپے رکھے، اس طرح ممکن ہے کہ معذور افراد کی بحالی کا خواب کسی حد تک پورا ہو سکے۔ ہم حکومت پاکستان سے یہ بھی اپیل کرتے ہیں کہ خاتون محتسب کی طرز پر معذور افراد کے لئے بھی ایک علیحدہ محتسب کا تقرر کیا جائے جو صرف معذور افراد کے مسائل کو سنے اور اس کی شاخیں تمام اضلاع اور تحصیلوں تک پھیلائی جائیں تاکہ ہر معذور آسانی کے ساتھ اپنا مسئلہ محتسب تک پہنچا سکے۔ جس کو محتسب بنایا جائے، اس کی قابلیت یا تو ہائی کورٹ کے جج کے برابر ہو یا وہ ہائی کورٹ کا ریٹائرڈ جج ہو۔ معذورافراد کی بحالی ملک کی خوشحالی ہے اور ان کے مسائل کا حل وقت کا شدید تقاضا ہے ، اس کے لئے حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے کوسبھی اپنا کردار بخوبی ادا کرنا ہوگا۔

مزید : کالم