اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل

اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل

وزیر اعظم نواز شریف نے اس امر کا اعادہ کیا ہے ہمیں مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کو نہیں بھولنا چاہیے جو اپنے حقِ خودارادیت کے حصول کے لئے بھارتی ظلم و جبر کا مقابلہ کررہے ہیں ہم مقبوضہ کشمیر کے نہتے اور معصوم عوام کی جدوجہد آزادی کی تحریک کی ہر سطح پر اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے اُدھر مقبوضہ کشمیر سے آنے والی خبروں کے مطابق گزشتہ روز وادی کے شمال و جنوب میں ہڑتال رہی جس کے دوران دکانیں، کاروباری ادارے اور سکول بند رہے، اس دن کو کشمیری قیدیوں سے یکجہتی کا دن بھی قرار دیا گیا تھا۔ کپواڑہ میں پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی جارحیت کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی وحشیانہ کارروائیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے لائن آف کنٹرول کے دورے کے دوران آرمی چیف نے وہاں متعین فوجی دستوں کی چوکسی کو سراہا انہیں وہاں سیکیورٹی کی صورتِ حال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اوربھارت کی فائرنگ اور جوابی کارروائی سے بھی آگاہ کیا گیا، انہوں نے افسروں اور جوانوں کو ہردم تیار رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے جنگی کارروائیوں کا بھرپور اور موثر انداز میں جواب دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ہوگا۔

وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کشمیر کے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ پاکستان کا قومی موقف ہے۔ اور پاکستان کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل چاہتا ہے خود کشمیری عوام بھی اسی مقصد کے لئے جدوجہد کررہے ہیں ، کشمیریوں کی اس جدوجہد کا عرصہ عشروں پر محیط ہے اور اسی کے نتیجے میں آزاد کشمیر قائم ہوا تھا، مقبوضہ کشمیر کے عوام نے اپنی جدوجہد کا یہ تازہ مرحلہ بھی آزادی کے لئے شروع کر رکھا ہے، پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

کشمیریوں کی طویل جدوجہد اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے کہ بھارتی فوج کے ظلم و ستم کے تمام حربے ناکام ہوگئے ہیں، بھارت کی سیکیورٹی فورسز نے آٹھ آٹھ دس دس سال کے بچوں پر بھی پیلٹ گنوں سے گولیاں چلائیں اور بچوں سمیت سینکڑوں نوجوانوں کو زندگی بھر کے لئے بینائی سے محروم کردیا، بھارتی اداروں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت یہ سلسلہ شروع کیا ان کا خیال تھا کہ اب کی بار کشمیری نوجوان اس ظلم و ستم کا مقابلہ نہیں کرپائیں گے اور چند ہی روز میں جلسے جلوسوں اور ہڑتالوں کا یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا، طویل کرفیو کے باوجود نوجوانوں نے جلسے کئے اور جلوس نکالے، شہدا کے جنازوں میں بھی شرکت کی اور اس بات سے قطعاً خوفزدہ نہ ہوئے کہ گولیوں سے ان کی جان لے لی جائے گی۔ بر ہان وانی جیسے مجاہد کی شہادت نے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو مہمیز لگا دی ہے، اور ہر روز کسی نہ کسی انداز میں تحریک آزادی کا نیا صفحہ اور نیا باب شہدا، اپنے خون سے تحریر کررہے ہیں۔ کشمیریوں کی اس جدوجہد کو دیکھ کر اب بھارت میں بھی بعض حلقے محسوس کرنے لگے ہیں کہ اس جدوجہد کو دبانا ممکن نہیں رہا۔ چنانچہ یہ حلقے حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ کشمیریوں کی حقیقی قیادت کے ساتھ مذاکرات کرکیحق و انصاف کے تقاضوں کے تحت یہ مسئلہ حل کرے۔

نریندر مودی اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ تاثر دیتے رہے کہ وہ اگر وزیراعظم بن گئے تو وہ کشمیر کو بھارت کامستقل حصہ بنائیں گے اور بھارتی آئین کے اندر کشمیرکی جو خصوصی حیثیت حاصل ہے اس کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔اس بات سے قطع نظر کہ کیا وہ آئینی شق ختم ہو سکتی ہے جو ریاست کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتی ہے، نریندر مودی نے وزیراعظم بننے کے بعد کشمیر کے عوام کوجو لالی پاپ دینے کی کوشش کی وہ انہوں نے لینے سے انکار کر دیا۔ کشمیرکی ترقی کے نام پر انہوں نے جو پیکیج دیا کشمیری عوام نے اسے آزادی کا نعم البدل سمجھنے سے انکار کر دیااور یہ مودی کے منہ پر دے مارا۔ مودی نے ریاستی انتخاب جیتنے کے لئے بھی بزعم خویش ایک فارمولاوضع کیا جس کا نام 1+44رکھا گیا۔اس فارمولے کا مقصد مسلمان اکثریت کی ریاست میں ہندو وزیراعلیٰ بنانا تھا لیکن پوری کوشش کے باوجود بی جے پی کو اکثریت حاصل نہ ہو سکی اور مفتی محمد سعید کی پی ڈی پی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تاہم اس کے پاس بھی اتنی اکثریت نہیں تھی کہ وہ اپنی حکومت بنا سکتی۔ مودی نے مفتی سعید کو یہ دانہ پھینکا کہ اگر وہ بی جے پی کا وزیراعلیٰ مان لیں تو پی ڈی پی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی جا سکتی ہے۔ لیکن مفتی سعید نے یہ فارمولا مسترد کر دیا تو مودی نے رعونت کے ساتھ ریاست میں گورنر راج لگا دیا جس کا مقصد اس دوران تو ڑجوڑ کے ذریعے اکثریت حاصل کرنا تھا لیکن انہیں کامیابی نہ ہوئی تو دو ماہ بعد گورنر راج کی مدت ختم ہونے کے بعد مفتی سعید کو وزیراعلیٰ قبول کرنا پڑا اور بی جے پی ان کی حکومت میں شامل ہو گئی۔ مفتی سعید کے انتقال کے بعد پھر وہی صورت حال پیدا ہوئی اور مودی نے ایک بار پھر کوشش کی کہ وزیراعلیٰ بی جے پی سے بنا دیا جائے لیکن بعد از خرابی بسیار محبوبہ مفتی کو وزیراعلیٰ ماننا پڑا۔

نریندر مودی اگر عوام کے جذبات اور زمینی حقائق کو پیش نظر رکھتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ کشمیری عوام دراصل چاہتے کیا ہیں لیکن انہوں نے کشمیریوں کے جذبات کو پس پشت ڈالتے ہوئے عوام کو طاقت کے استعمال سے دبانا چاہا اور ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔یہ سلسلہ بلا روک ٹوک اب تک جاری ہے اس دوران بھارت نے کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزیاں بھی شروع کر دیں اور سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ بھی رچا دیا۔ مودی کا خیال تھا کہ وہ اس طرح کی حرکتوں سے کشمیری عوام کی جدوجہد سے دنیا کی توجہ ہٹانے میں کامیاب ہو سکیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہوئیں۔ الٹا بھارت میں اب بہت سے سیاسی رہنما یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ بھارت نریندر مودی کی احمقانہ پالیسیوں کی وجہ سے خود تنہا ہو رہا ہے اس دوران مودی نے بڑے نوٹ منسوخ کردیئے جس کے نتیجے میں پورا بھارت انتشار بلکہ خلجان کا شکار ہے۔ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی کھل کر مرکزی حکومت کے خلاف آ گئی ہیں۔ان حالات میں مودی نے اگر کنٹرول لائن پر چھیڑ خانی جاری رکھی تو بھارت کے لئے زیادہ مشکلات پیدا ہو جائیں گی اب بھی بھارت میں یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کنٹرول لائن پر بھارتی فوجی بڑی تعداد میں کیوں مررہے ہیں؟ بھارتی حکومت نے فوجیوں کی اموات کو خفیہ رکھنے کی جو کوششیں کیں وہ بھی ناکام رہی ہیں، ان حالات میں بھارت کے لئے اب اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرے اور کشمیریوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ روک دے۔ خطے کا امن اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے۔

مزید : اداریہ