ڈھائی گز کی زبانیں؟

ڈھائی گز کی زبانیں؟
 ڈھائی گز کی زبانیں؟

  


آخر ایک دن کہ ادھر بس آفتاب ڈوبتا تھا ۔ادھر یہ جھوٹے و جعلی اور بے کس و بے نصیب دعوے کھری چارپائی پر کہ تکیہ نہ بچھونا ۔۔۔تڑپ تڑپ اور سسک سسک کر جاں دیتے تھے۔ نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کے بارے میں دانشوروں اور غالی صحافیوں کے وہ دعوے کیا ہوئے؟ کہنے والوں نے بہت کہا کہ جنرل راحیل مچل جائیں گے اور حکومت کا تخت الٹ پھینک دیں گے۔چاہنے والوں نے بہت چاہا کہ جنرل مشتعل ہوں اور ان بدنصیبوں کی بگڑی بن بن جائے۔پکارنے والوں نے بہت پکارا کہ وہ جمہوریت کو چلتا کر دیں اور اپنے جانے کی باتیں جانے دیں۔ دل پھینک لوگوں سے دوشیزہ کی بیوگی دیکھی اور بین سنے نہیں جاتے۔پر برا ہو با شعوروں اور بالغ نظروں کا کہ جعلی دانشوروں اور جھوٹے صحافیوں کے دعوے دیکھ کر محض مسکرانے پر اکتفا کیا۔

ڈھائی فٹ کی چھڑی محض جنرل راحیل سے جنرل باجوہ کے ہاتھوں میں ہی منتقل ہوئی ہے؟بس؟جی نہیں! آئین کی کبریائی کا بھی اعلان عام ہو ا اور اس نے شیاطین کے جبت و طاغوت کادھڑن تختہ کردیا۔قانون کی فرمانروائی نے انحراف کی روایت پر بھی فاتحہ پڑھ ڈالی ہے۔اب سازشیوں اور مقدر کے ماروں کا حرم ویران ہے ۔مہ جبینوں اور گل انداموں کی جلوہ سامانیاں بھی ٹی وی پر ماند پڑی جاتی ہیں۔بر سبیل تذکرہ نیوز چینلوں پر بیٹھ کر یہ پٹاخہ دانشور ایسے لڑا کئے کہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ ان کی کشتم کشتا نے دھوبنوں اور بھٹارنیوں کو بھی شرمندہ کر دیا۔کیا اس کے باوجود اور اب بھی ان جعلی جگوں کو دانشوری کا دعوی ہے؟گالیوں کی بوچھاڑ برسانے اور کوسنوں کا تار باندھنے میں یہ بلا کے ماہر و مشاق ثابت ہوئے ہیں۔اپنی انا کے گھاٹ اور خود فریبی کے تھان پر بندھے یہ گھوڑے اصل میں تو بھاڑے کے ٹٹو ٹھہرے۔اب انہیں کون سمجھائے کہ اصیل و نسیل عربی گھوڑا بھی اپنے تھان پر بندھے بندھے پانچوں عیب نکال لاتا ہے۔

پاکستان کی تعمیرو تحریک اور ترقی و ارتقا کا راز کس میں مضمر ہے؟عام انتخابات کا تسلسل،اقتدار کی پرامن منتقلی اور عسکری کمان کی آئینی تبدیلی میں۔۔۔اس کے سوا باقی جو کچھ بھی ہے قصے کہانیاں ہیں۔اپنے اپنے تخمینے و جائزے یا پھر مقدس مشن کے امیں صحافیوں کے اپنے مکاشفے یا معاشقے ہیں۔سیاست اور صحافت کا تو خیرشروع سے ہی جنم جنم کا رشتہ استوار رہا ہے۔البتہ پاکستان ایسے عجائب الدھر اور نادرۃالارض میں کچھ غرض مند صحافیوں نے سیاست ، صحافت ،مذہب اور تصوف کو گڈمڈ کر کے جمہوریت و معیشت کا پوراپٹڑا کر دیا۔کمسن طالب علم کو منطق کے متداول مباحث سمجھانا ہو تو سعی لاحاصل۔سطحی و سرسری اذہان میں کلام وفلسفہ کی یکجائی یا مشترک ماخذکا نکتہ سمائے توکیسے۔بیک وقت صحافت اور تصوف سے شغل کرنے والے وہ شائقین۔۔۔جن کے دل لوثِ دنیا سے آلودہ اور دماغ زنگِ اغراض سے تیرہ ہوں تو پھر عقل کی رہنمائی بھی ان کے لئے مطلق بے سود ہوا کئے ۔ان کی فتنہ ساماں دانشوری اور حشرانگیز انشا پردازی سے جمہوریت ،معیشت ،سیاست ،صحافت ،عافیت اور مروت سب غارت ہوئی۔

مغربی ملکوں میں آرمی چیف کی تعیناتی معمول کی کارروائی نہ ہوتی ،اگر ان سرزمینوں پر ہمارے ایسے دانشورپائے جاتے۔کنکر کا پہاڑ ،سنگریزے کا ہیرا اور بے پر کی اڑانے میں جو ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ ہفتہ کی شام جنرل باجوہ کی تقرری کا اعلان ہوا،اندازہ کیجئے یہ قصہ گو جمعہ کی بیتی شب تبصرے فرمایا کئے کہ توسیع کا معاملہ ابھی دبا نہیں۔ان کی باخبری، دانشوری یا شاید درست تر معنوں میں خودفریبی کے کیا کہنے ! کیا کہنے ! عمر بھر سرکاری ملازمت کا مزہ لوٹنے والے غالی صوفی نما صحافی جوآئے روز اپنے مکاشفوں اور خوابوں میں خونی انقلاب ،جنگ وجدل اور پتہ نہیں کیا کیا دیکھا کئے۔ نیوز لیکس پران کی گل فشانیاں،حکومت او رفوج کے تعلقات کی کہانیاں،حکمرانوں کے ٹیکس کی لطیفے بازیاں اور شریف برادران کے اختلافات کی گرم بازاریاں اوران کی انداز بیانیاں۔۔۔ سب سوا ہیں۔اس ستم ظریف کا کون سراغ لگائے جس نے کہا تھا کہ علم سے انسان کے اندر کا شیطان مر نہیں جاتا بلکہ اور پالش ہو جاتا ہے ۔

صحاح ستہ کی روایات پر تو آپ جرح و تعدیل کرتے ہیں۔کبھی راوی کی سچائی شک کے دائرے میں آتی ہے اور کبھی درایت ،روایت کا بھانڈا پھوڑ دیتی ہے۔یوں صدق و کذب اور رطب و یابس الگ الگ چھانٹ دینے کا امکاں و ساماں رہتا ہے۔لیکن مکاشفہ؟ وہ بھی پاکستانی دانشوروں کا مکاشفہ؟اللہ ! اللہ!بھائی یہاں تو کوئی صوفی کسی مقدس ہستی کا نام لیکر صاف اور براہ راست کہتا ہے کہ میں نے خواب میں فلاں دیکھا۔۔۔ایک دوسرااٹھتا ہے اور ادارتی صفحے پر سہرا ٹانکنے لگتا ہے ،عصر رواں کے سب سے بڑے عارف نے بشارت دی۔۔۔۔بقول یاسر پیر زادہ لو کر لو گل۔اب کون ان کے خوابوں ،بشارتوں اور مکاشفوں کو پرکھے اور وہ بھی کس کسوٹی پر ؟دنیا میں ایسا کوئی پیمانہ یا آلہ کہاں جس سے ان کے دعوی باطل کو جانچا جا سکے اِلاَ یہ کہ عقل سے۔ماں نے کون سا لعل جنا ہے جو مقدس خوابوں اور مکاشفوں پر جرح کر کے ان کا تحلیل وتجزیہ کرے۔الہام ہو کہ القا،رویائے صادقہ ہو کہ مکاشفہ۔۔۔یہ وہ چور دروازے ہیں جن سے ماہرین و شناورین حتیٰ کہ شارحین بھی نقب لگاتے آئے ہیں۔ان کی اگر ڈھائی ڈھائی گز کی لمبی زبانیں ہوں تو پھر شیخ رشید کی طرح یہ بھی خوب اشتغال برتا کئے۔

مزید : کالم