دن گننے والی جمہوریت

دن گننے والی جمہوریت
 دن گننے والی جمہوریت

  

یہ اخبار والے بھی کمال کرتے ہیں۔ ایسے الفاظ اورجملے تراشتے ہیں کہ پھر وہ لوگوں کا تکیہ کلام بن جاتے ہیں مثلاً ’’قانون کی دھجیاں اڑانے‘‘ یا ’’دن گنے جا چکے ہیں‘‘ جیسے جملے اب زبان زد عام ہیں خاص طور پر آج کل دو چار ایسے بیانات ٹی وی یا اخبارات میں ضرور مل جاتے ہیں، جن میں کہا گیا ہوتا ہے کہ حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔ کہتے تو تکنیکی طور پر وہ بھی غلط نہیں کیونکہ جمہوریت کے ذریعے منتخب ہونے والی حکومت کے دن تو ہوتے ہی گنے چنے ہیں، اسے زیادہ سے زیادہ پانچ سال حکومت کرنی ہوتی ہے، یہ تو آمریت میں ہوتا ہے کہ آمرِ مطلق نجانے کب تک حکمرانی کرتا رہے۔ موجودہ حکومت توجب سے اقتدار میں آئی ہے، یہی کہا جاتا رہا ہے کہ اس کے دن گنے جاچکے ہیں۔ شیخ رشید المعروف جیمز بانڈ 007اس کے سب سے بڑے پر چارک ہیں۔ مجھے خدشہ ہے کہ اس حکومت کے دن گنتے گنتے وہ پانچ سال تک لے جائیں گے اور پھر سینہ تان کے کہیں گے، دیکھا میں نے کہا تھا کہ حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔

اسی طرح یہ جملہ بھی اکثر بولا جاتا ہے کہ مجھ پر ایک پیسے کی کرپشن بھی ثابت ہو جائے تو جو چورکی سزا وہ میری، جس ملک میں پیسے کے مقابلے میں پانچ ہزار کا نوٹ زیادہ استعمال ہوتا ہو، وہاں پیسے کی کرپشن ثابت کرنا کیسے ممکن ہے، کرپشن کے قصے اربوں کھربوں پر محیط ہوں اور شرط ایک پیسے کی کرپشن ثابت کرنا ہو تو یہ ایسا ہی ہے جیسے بھوسے میں سے سوئی تلاش کرنے کا ٹاسک دیا جائے۔ بہر حال جملہ تو جملہ ہے، اسے بولنے میں کیاحرج ہے، یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ہماری سیاست جمہوری ہے نہ آمرانہ بلکہ ’’جملہ سیاست ‘‘ ہے۔ حالی ہی میں عابد شیر علی نے وزیر اعظم نواز شریف سے اسی لئے ڈانٹ کھائی ہے کہ وہ اس جملہ بازی میں بہت آگے نکل گئے تھے۔ پیپلز پارٹی نے جب ان کے بیانات پر سخت رد عمل ظاہر کیا تو وزیر اعظم نے انہیں غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے روک دیا۔

مجھے تو لگتا ہے سیاستدانوں نے یہ سب کچھ ملی بھگت سے جاری رکھا ہوا ہے، اس کا اول و آخر مقصد یہ ہے کہ عوام کو ایسی تفریح فراہم کی جاتی رہے، جو انہیں اصل مسائل پر کڑھنے سے نکالے۔ یہ جلسے اور یہ اخباری کانفرنسیں، سوائے اسٹیج ڈراموں جیسے مسخرے پن اور بڑھک بازی کے اور کچھ بھی نہیں۔ کبھی بلاول کو چاچا خامخواہ کا سکرپٹ دیا جاتا ہے اور کبھی طلال چودھری، دانیال عزیز اور عابد شیر علی اچھے اداکاروں کی طرح میدان میں آجاتے ہیں، شیخ رشید نواز شریف سے کبھی چورن بکواتے ہیں اور کبھی انہیں اداروں کو تباہ کرنے والا ’’مولا جٹ‘‘ قرار دیتے ہیں، ان لوگوں کا مقصد سیاسی ماحول کو گرمانے کے سوا کچھ نہیں، کوئی عوام سے اپنی نااہلی چھپانے کے لئے ماحول گرم رکھتا ہے اور کوئی ان کی نظروں میں رہنے کے لئے یہ کام کرتا ہے۔ عوام کو چاہتا کوئی بھی نہیں، ان کا راگ سب الاپتے ہیں تاکہ سند رہے اور بوقت انتخابات کام آئے۔

ہماری جمہوریت کا کمال یہ ہے کہ اس میں حکومت کے دن گنے جانے کے حوالے سے کبھیمایوسی دیکھنے میں نہیں آئی،ہر وقت ایک امید زندہ رہتی ہے، کبھی آرمی چیف سے اور کبھی چیف جسٹس سے،جنرل راحیل شریف کی رخصتی کے بعد اب دن گننے والوں کی ساری توجہ سپریم کورٹ پر مرکوز ہے، سب کی یہ خواہش ہے کہ چیف جسٹس انورظہیر جمالی 30دسمبر کو اپنی ریٹائر منٹ سے پہلے پانامہ کیس کا فیصلہ سنا کر جائیں۔ گویا وہ اب دسمبر کے آخر تک ایک ایک دن گن کر گزاریں گے۔ ادھر حکمران یہ کہتے ہیں کہ پہلے دھرنے اور اب عدالتی کیسوں کی وجہ سے انہیں کام نہیں کرنے دیا جارہا، وگرنہ تووہ عوام کے لئے دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیتے۔ کام نہ کرنے دینے کی بات بھی عجیب رنگ لئے ہوئے ہے۔ جہاں وزرأ ، ارکان اسمبلی اور سپیکر و ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہیں بڑھانے کا کام درپیش ہو سب مصروفیات اور رکاوٹیں بالائے طاق رکھ کر کابینہ ان کی منظوری دے دیتی ہے۔ مگر ایسا کوئی فیصلہ عوام کے لئے کرنا ہو توسو رکاوٹیں آڑے آجاتی ہیں، اصل دن تو عوام گنتے ہیں۔ جب معاشی حالات کی وجہ سے ان کا ایک ایک دن مشکل سے گزرتا ہے۔

پچھلے دنوں یہ خبر آئی کہ کسی رکن اسمبلی نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ دہائی دی ہے کہ گیس کی لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے، کیونکہ اس کی وجہ سے طلاقوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ مبالغہ آرائی شاید انہیں اس لئے کرنی پڑی کہ عام حالات میں تو یہاں کوئی سنتا ہی نہیں، خبر بھی اچھی نہیں بنتی، چینلوں پر بریکنگ نیوز کے ٹکر بھی نہیں چلتے۔ ماجرا یہ ہے کہ طلاقیں بڑھی ہوں یا ناں، لوگوں کے مسائل ضرور بڑھ گئے ہیں، عموماً تو اخبارات مہنگائی کی وجہ سے یہ سرخی جماتے ہیں کہ غریبوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے، تاہم سردیوں میں تو گیس لوڈشیڈنگ کی وجہ سے واقعی ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔ بڑا شور سنتے تھے کہ ایل این جی آگئی ہے، گیس وافر مقدار میں دستیاب ہوگی، مگر حالات تو پہلے سے بھی دگرگوں ہو چکے ہیں، اگرچہ حاکمان وقت آج کل روزانہ ہی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان میں لوڈشیڈنگ کے دن گنے جا چکے ہیں، مگر یہ دعویٰ بھی اپوزیشن کے اس دعوے کی مانند ہے کہ حکومت جارہی ہے، اس کے دن گنے جاچکے ہیں۔

میں نے تو اپنی زندگی میں یہی دیکھا ہے کہ پاکستانی سیاست میں وعدوں کے سوا کچھ نہیں رکھا۔ بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اگر وعدے نکال دیئے جائیں تو پاکستانی سیاست میں کچھ بھی نہیں رہ جاتا، ذوالفقار علی بھٹو جیسے عظیم سیاسی رہنما کو بھی روٹی،کپڑا اور مکان کے وعدے کا سہارا لینا پڑا۔ یہ وعدہ پورانہ ہوا تو ان کے مخالفین نے اسی کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف تحریک شروع کردی۔ پھر اس میں دیگر عناصر بھی شامل ہوتے گئے اور ایک وقت ایسا آیا کہ وہ مقبول سیمعتوب کردار بن گئے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بعد میں آنے والے ان کے انجام سے سبق سیکھتے۔ مگر اسے وطیرہ بنالیا گیا۔ ایک طرف اپوزیشن کے دن گننے کی عادت اور دوسری طرف حاکمِ وقت کی وعدہ خلافیاں، ’’خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو‘‘ والی کیفیت نے ہماری سیاست میں مستقل جگہ بنالی۔ جس جمہوری نظام میں پہلے دن سے حکومت کو گھر بھیجنے کی مہم شروع کردی جاتی ہے، وہاں عوام کی حالت پر کون نظر ڈالے گا ۔

شریف برادران بھی کچھ غلط نہیں کہتے کہ پہلے دن سے ان کی حکومت کے خلاف مہم جوئی جاری ہے۔ وہ تو ٹانگیں کھینچنے کا محاورہ استعمال کرتے ہیں حالانکہ اپوزیشن انہیں چاروں شانے گرانے کی جدوجہد کررہی ہوتی ہے۔ یہ جدوجہد اب بھی جاری ہے اور آج کل اپوزیشن نے سپریم کورٹ سے امیدیں باندھی ہوئی ہیں۔ اس سے پہلے پیپلز پارٹی بھی یہی کہتے کہتے اپنے پانچ سال پورے کر گئی کہ اسے کام نہیں کرنے دیا جارہا۔ اب ایسی جمہوریت جو ہمیشہ ٹانگیں کھینچے جانے کے خوف میں مبتلا رہے اور جسے یکسوئی سے کام نہ کرنے دیا جائے وہ عوام کو کیا دے سکتی ہے؟ کرکٹ اور فٹ بال کے میچوں میں جب دونوں ٹیمیں برابر رہیں۔ اور زائد وقت میں بھی فیصلہ نہ ہوسکے تو Sudden Endیعنی اچانک اختتام کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کو جونہی کسی ٹیم نے مخالف پر گول کیا، میچ ختم ہو جائے گا۔ہماری جمہوریت بھی انتخابات میں حکومتکو پانچ سال کے لئے منتخب کرتی ہے لیکن وہ حکومت ’’اچانک اختتام‘‘ کے خوف میں مبتلا رہتی ہے۔ مخالفین ہر روز اسی کے دن گنتے ہیں، بھلے یہ دن گنتے گنتے پانچ برس گزر جائیں لیکن حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی ہر دن بڑی مشکل سے گزارتی ہیں۔

اب تو ملک میں اچھی روایات ڈالی جارہی ہیں۔ آرمی چیف نے مقبولیت اور توسیع ملازمت کی پیشکش کے باوجود بروقت سبکدوشی کاراستہ اپنایا، چیف جسٹس سپریم کورٹ بھی اپنی آئینی مدت کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے۔ دوبار اسمبلیاں بھی وقت پر وجود میں آئیں اور وقت پر رخصت ہوئیں، یہ سب باتیں مثبت تبدیلی کو ظاہر کرتی ہیں۔ اب سیاستدانوں کو بھی چاہیے کہ وہ جمہوریت کو مذاق نہ بنائیں۔ پہلے تو انتخابات میں کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں پھر منتخب حکومت کی آئینی مدت کا احترام کریں۔ جب تک جمہوریت سے بے یقینی کا خاتمہ نہیں ہوگا، ملک میں استحکام آئے گا اور نہ گڈ گورننس، کا ش کوئی اس حقیقت کو مانے لیکن موجودہ فضا میں اس کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔

مزید : کالم