مانگا منڈی میں لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی خلافورزی،کوئی پوچھنے والا نہیں

مانگا منڈی میں لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی خلافورزی،کوئی پوچھنے والا نہیں

مانگامنڈی (نمائند خصوصی) مانگا کے علاقہ میں پولیس کی سرپرستی میں لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی ،کوئی پوچھنے والا نہیں۔تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت نے مسجدمیں اذان کے لیے صرف ایک سپیکر چلانے کی اجازت دے رکھی ہے مگر اس کے علاوہ شہر مانگامنڈی کی مسجدوں میں ایک کی بجائے تین تین لاوڈسپیکر لگا رکھے ہیں اور فرقہ واریت پھیلا رہے ہیں ۔ روزانہ شہر مانگا منڈی میں تمام مساجد والے فجر کی نماز کے بعد سرعام لاؤڈسپیکر چلا تے ہیں۔ خطیب حافظ محمد اجمل طاہر نے15پرکال کی تو انہوں نے کہا کہ ہم فوری کارروائی کرتے ہیں مگر تھانہ مانگا منڈی پولیس کا ٹی اے ایس آئی فاروق احمد ایک گھنٹہ بعد مانگا منڈی چوک میں آیا تو اس وقت سپیکر بند ہو چکے تھے جس پر ٹی اے ایس آئی حافظ محمد اجمل طاہر نے فون کرکے کہا کہ آپ نے 15پر جھوٹی کال کی ہے لاؤڈ سپیکر تو کوئی نہیں چل رہا آپ باہر چوک میں آئیں خطیب نہ آیا تو ٹی اے ایس آئی فاروق نے بداخلاقی کرتے ہوئے کہنے لگا کہ آئندہ 15پر کال مت کرنا جس پر مرکزی مسجد اہلحدیث کے نمازیوں ملک ممتاز حسین ، چوہدری عبدالمجید،عبیداللہ ،محمد عرفان،عبدالغفار،محمد مصطفی،حاجی مشتاق احمد،اور خطیب حافظ محمد اجمل طاہر نے ڈی آئی جی اپریشن ،سی سی پی اولاہور سے مطالبہ کیا ہے کہ فرقہ واریت پھیلانے والے لاؤڈسپیکرز کو فوری بند کروا کر خطیب کے ساتھ بداخلاقی کرنے والے ٹی اے ایس آئی فاروق کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔تھانہ مانگا منڈی کے ایس ایچ او سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے کو ئی واقعہ کا کوئی علم نہیں اگر کوئی لاؤڈ سپیکر چلائے تو اس کے خلاف کارروائی کروں گا

مزید : میٹروپولیٹن 1