پاکستانی کرکٹ ٹیم کی نیوزی لینڈ میں شرمناک کارکردگی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی نیوزی لینڈ میں شرمناک کارکردگی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی نیوزی لینڈ میں شرمناک کارکردگی گلی محلے کی ناکارہ ٹیم بھی ایسا مظاہرہ نہیں کرتینیوزی لینڈ کی کرکٹ گراؤنڈز میں پاکستانی ٹیم نے جس طرح دونوں ٹیسٹ میچ ہارے ہیں اسے کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی کھلاڑیوں میں جوش و جذبے اور ٹیم سپرٹ کا فقدان رہا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کرکٹ ٹیم بے دلی کے ساتھ میدان میں اتری ہے اور میزبان ٹیم کو ہر وہ موقع دے رہی ہے جس سے جیت اس کا مقدر بنے۔ پاکستان کے دیہاتوں اور گلی محلوں میں کرکٹ کھیلنے والے بچے بھی ایسی بے اعتنائی سے کھیل نہیں کھیلتے جس بے روح کارکردگی کے مظاہرے سے ٹیم نے قوم کو ذہنی اذیت سے ہمکنار کیا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ٹیم اپنی روانگی پر بلند بانگ دعوے کرتی ہے لیکن نتائج وہ پیدا کرتی ہے جو ان دعوں کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان کرکٹ بورڈ لاہور، کرکٹ ٹیم اور اس سے متعلقہ ارباب اختیار میں نہ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی کوئی ربط و واسطہ۔ اس طرح کا کھیل بالآخر کرکٹ ٹیم کو اسی صورتحال سے دو چار کر دے گا جس صورتحال سے قومی ہاکی ٹیم گزر رہی ہے۔جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا اگلا امتحان دورہ آسٹریلیا ہے پی سی بی کی سلیکشن کمیٹی نے آسٹریلیا کے خلاف تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے لئے ٹیم کا اعلان کردیا ۔چیف سلیکٹر نے سلیکشن کمیٹی کے اراکین ،ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور کپتان مصباح الحق سے مشاورت کے بعد ٹیسٹ اسکواڈکا اعلان کیا ۔ ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ۔مصباح الحق کو ٹیم کا کپتان برقرار رکھا گیا ہے ۔ 16رکنی ٹیم میں کپتان مصباح الحق ،نائب کپتان اظہر علی ،سمیع اسلم ،شرجیل خان ،یونس خان ،اسد شفیق ،بابر اعظم ،سرفراز احمد ،محمد رضوان ،یاسر شاہ ،محمد نواز ،محمد عامر ،وہاب ریاض ،راحت علی ،سہیل خان اور عمران خان سینئر شامل ہیں ۔پاکستان ٹیم دورہ آسٹریلیا کے دوران میزبان ٹیم کے خلاف تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلے گی ۔سیریز کا پہلا ٹیسٹ 15سے 19دسمبر تک برسبین کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا ۔دوسر ا ٹیسٹ 26-30دسمبر تک ملبورن کرکٹ گراؤنڈ اور تیسرا ٹیسٹ میچ 3-7جنوری سے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلاجائے گا ۔ محمد حفیظ اور کامران اکمل ٹیم میں جگہ نہ بناسکے۔محمد حفیظ قائد اعظم ٹرافی میں بہتر پرفارمنس نہ دینے اور بولنگ ایکشن کلیئر نہ ہونے کی وجہ سے ٹیم میں شامل نہ ہوسکے ۔ باؤلنگ ایکشن کلیئر کرانے کیلئے حفیظ نے رواں ماہ آسٹریلیا کے شہر برسبین میں آئی سی سی کی منظور شدہ لیبارٹری میں ٹیسٹ کرایا تھا۔36 سالہ محمد حفیظ سوئی ناردرن گیس کمپنی کی نمائندگی کرتے ہوئے سپر ایٹ مرحلے سے قبل صرف 287 رنز بنا سکے ہیں تاہم ایونٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل بھی ٹیم کا حصہ نہ بن سکے ۔کامران اکمل قائد اعظم ٹرافی کے سات میچوں میں چار سنچریوں اور تین نصف سنچریوں کی مدد سے 826 رنز بنا چکے ہیں اور انہوں نے آخری مرتبہ لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں نمائندگی کی تھی۔ جبکہ دوسری جانب سال2016ء کے دوران ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں بہتری نہ آسکی،جیت کی بجائے ہارکاتناسب زیادہ رہاجو پی سی بی میں اہم عہدوں پرتعینات عمررسیدہ افرادکی مینجمنٹ کاثبوت ہے،قومی کرکٹ ٹیم نے صرف آئرلینڈاورویسٹ انڈیزکے خلاف اچھی کارکردگی کامظاہرہ کیا۔قومی کرکٹ ٹیم نے سال2016ء میں4ٹیموں کے خلاف 11ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلے جن میں سے5میچ پاکستان نے جیتے جبکہ6میچوں میں شکست کاسامناکرناپڑا۔قومی کرکٹ ٹیم کی جیت کاتناسب 45.45 اورہارکاتناسب 54.54فیصدرہا۔پاکستان نے انگلینڈکے خلاف5میچ کھیلے جن میں سے صرف ایک میچ میں فتح حاصل کی جبکہ4میچوں میں شکست کاسامناکرناپڑا انگلینڈکے خلاف پاکستان کی کامیابی کاتناسب20فیصدجبکہ شکست کا تناسب 80 فیصد رہا۔ آئر لینڈ کے خلاف ایک میچ کھیلااورجیتاآئرلینڈکے خلاف پاکستان کی کامیابی کاتناسب100فیصدرہا۔نیوزی لینڈکے خلاف2میچ کھیلے اوردونوں میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑانیوزی لینڈکے خلاف پاکستان کی کامیابی کاتناسب صفرفیصداورشکست کاتناسب100فیصدہے۔ویسٹ انڈیزکے خلاف3میچ کھیلے اورتینوں میچ جیتے ویسٹ انڈیزکے خلاف پاکستان کی کامیابی کاتناسب100فیصدہے۔شائقین کرکٹ کاکہناہے کہ جب سے پاکستان کرکٹ بورڈمیں عمررسیدہ افرادکواہم عہدوں سے نوازنے کاسلسلہ شروع ہواہے تب سے قومی کرکٹ ٹیم مسلسل زوال کاشکارہے۔جن افرادکی عمراللہ اللہ کرنے کی ہے وہ اس وقت کرکٹ بورڈکوچلارہے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1