’شریکاں نوں اگ لگ گئی‘

’شریکاں نوں اگ لگ گئی‘
 ’شریکاں نوں اگ لگ گئی‘

  

پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف نے ڈونلڈ ٹرمپ کوامریکہ کا صدر منتخب ہونے پر مبارک باد کا فون کیا، اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ یہ تو معمول کی سفارتی کارروائی ہے مگر ڈونلڈ ٹرمپ کاجواب یقینی طور پر معمول کا نہیں تھا۔ وزیراعظم نواز شریف نے مبارک باد دی،مبارک باد دینی چاہئے تھی کہ ٹیلی فون ہی اس کی خاطر کیا تھامگر ڈونلڈ ٹرمپ کا جواب ایسا تھا جیسے وہ ہمارے وزیراعظم کو اپنا جگری یار بنانے کے چکر میں ہو۔ نواز شریف نے ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی،یہ دعوت دی جانی چاہئے تھی کہ ہماری معمول کی بات چیت میں بھی مخاطب کو سلام دعا اورہور کی حال اے کے بعد یہی کہاجاتا ہے کہ جناب کبھی ہماری طرف بھی چکر لگائیں ، کچھ ایسی ہی بات سفارتی مبارکبادی کال میں کہی گئی ہو گی اور جواب میں ڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ ضرور ، کیوں نہیں کہ اس سوال کا جواب کبھی بھی صاف انکار نہیں ہوتا۔ امکان ہے کہ گفتگو کے لئے تیار شدہ ڈرافٹ میں اگلا فقرہ یہی ہو کہ ہمیں امید ہے کہ آپ اس خطے میں موجود دیرینہ تنازعات کو حل کرنے کے لئے اپنا کردارادا کریں گے اور جواب ملا ہوگا، جی جی ضرور کیوں نہیں۔ یہاں تک تو باتیں کافی حد تک کامن سینس کی ہیں مگر ٹرمپ تو ٹرمپ ہے ، اس نے وزیراعظم نواز شریف سے کہا، ’ آپ اچھی شہرت رکھتے ہیں، آپ سے بات کر کے یوں لگا جیسے ہم ایک دوسرے کو طویل عرصے سے جانتے ہوں، پاکستان شاندار لوگو ں کا شاندار ملک ہے، میںآپ سے جلد ملاقات کامتمنی ہوں اور آپ مجھے کسی بھی وقت فون کر سکتے ہیں، وغیرہ وغیرہ اور یہی وہ وغیرہ وغیرہ ہے جس نے شریکوں کو آگ لگا دی ہے۔ان شریکوں میں داخلی اور خارجی دونوں شریکے شامل ہیں، سب سے بڑا شریکابھارت ہے، جو جل گیا ہے، جو مر گیا ہے۔ تکلف اگر برطرف رکھ دیا جائے تو میں بھی اس وقت بہت جلا ، بھنا تھا ،’جب ٹرمپ نے بھارتیوں اور ہندووں کے لئے خوشامدانہ الفاظ بولے تھے۔

مجھے پورا یقین ہے کہ ٹرمپ کی اس گفتگو پر وزیراعظم نواز شریف بھی حیران رہ گئے ہوں گے اور دفتر خارجہ کا وہ عملہ بھی جو اس گفتگو کو سن رہا ہو گا بلکہ چشم تصور سے دیکھا جاسکتا ہے کہ اس عملے کی خوشی کے مارے چیخیں نکل گئی ہوں گی جس پر ایوان وزیراعظم کے بہت سارے لوگ وہاں پہنچے ہوں گے، چیخوں کی وجہ پوچھی ہوگی اور جب انہیں ریکارڈنگ سنائی گئی ہو گی تو وہ بھی خوشی کے مارے اچھلنے لگے ہوں گے۔ دراصل غیر متوقع طور پر ملنے والی خوشی یا دکھ بے پایاں ہوتے ہیں اور اکثر سنبھالے نہیں سنبھلتے۔غالب گمان کے مطابق موقعے پر یہ فیصلہ ہو گیا ہو گا کہ اس بات چیت کو مکمل طورپرمیڈیا کے لئے جاری کر دیا جائے۔ امریکی میڈیا نے ہماری حکومت کی طرف سے جاری ہونے والی تفصیلات پر اسی طرح حیرت کا اظہار کیا جس طرح ہم سب کر رہے ہیں اور طرح طرح کی سرخیاں جما ڈالیں ۔ ہندوستانی اخبارات کی خبریں، کالم اور ادارئیے بتا رہے ہیں کہ ان تفصیلات نے بھارتیوں کی نیندیں اڑا دی ہوں گی، انہوں نے ٹرمپ سے رابطہ کیا ہو گا، پرانی محبتوں اور نئے دور کے تقاضوں کے واسطے دئیے ہوں گے لہذا میرے لئے بہت ہی متوقع طور پراس گفتگوبارے ایک خبر او رایک وضاحت جاری کر دی گئی۔میں نے بی بی سی کی ویب سائیٹ کھولی ، وہاں لکھا ہو اتھا،’ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو سے متعلق بیان پر پاکستان کی چُپ‘ یعنی فارن آفس اس دعوے پر خاموش ہے کہ دوسری طرف سے بات چیت کا کچھ مختلف متن آیا ہے۔ میں نے ارم عباسی نامی خاتون رپورٹر کی سترہ، اٹھارہ فقروں یا چھوٹے پیراگرافوں پر مشتمل خبر میں وہ مختلف متن تلاش کرنے کی پوری کوشش کی، مجھے اپنے وزیراعظم، وزارت خارجہ کے بیانات اور رپورٹر کے تاثرات سے ہٹ کرخبر میں جو کچھ ملا وہ یہ ہے، ’ منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم کے درمیان موثر بات چیت ہوئی ہے جس میں باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے پر بات کی گئی۔‘ اور دوسرے فقرے میں کسی مشیر کے نام کا حوالہ نہ ہونے کی وضاحت دے کر انورٹڈ کوماز میں لکھا گیاِ’ پاکستان کی طرف سے جاری بیان میں ایسی باتیں ڈونلڈ ٹرمپ سے منصوب کی گئیں جو کہنا ان کا مقصد نہیں تھا‘ اور پھر میں پوری خبر چھان ماری کہ مجھے وہ باتیں مل سکیں جو ’منصوب‘ کی گئیں، اب مجھے اردو کی ڈکشنری بھی چیک کرنا پڑے گی کہ شائد لفظ منسوب اور منصوب میں کچھ فرق ہو، ہم تو اردو حرف س کے ساتھ ہی لفظ منسوب پڑھتے اور لکھتے چلے آئے ہیں۔ اب پاکستانیوں کو اصل میں امریکی منتخب صدر کی وضاحت پیش کرنے والی انتقال اقتدار ٹیم سے سوال تویہ کرنا چاہئے کہ امریکی صدر سے کون سی ایسی باتیں منسوب کی گئیں جن کاکہنا ان کا مقصد نہیں تھا۔ وہ چھ، سات برس پہلے ٹوئیٹ کر چکے ہیں کہ پاکستان ہمارا دوست نہیں ہے تو کیا اب وہ وضاحت دے سکتے ہیں کہ وہ پاکستان اور پاکستانیوں کو شاندار قرار نہیں دے رہے تھے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ سے سوال کرنے والوں کوا مریکیوں سے یہ سوال پوچھنے چاہئیں۔

مجھے یہ بات اس وقت زیادہ دلچسپ لگی جب انڈیا ہی نہیں پاکستان میں بھی کچھ شریکوں کو آگ لگی ہوئی دکھائی دی، کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نے ایسی دلچسپ اور غیر روایتی گفتگو کو ظاہر کر کے امریکہ کے صدر سے مینڈیٹ لینے کی کوشش کی، مجھے ہنسی آئی کہ ہمارے فوجی آمر صدور توافغانستان میں اپنے بچوں کو مروا کرامریکہ سے اپناناجائز مینڈیٹ جائز کروانے کی کوششیں کرتے رہے تب کسی کو اعتراض نہیں ہوابلکہ اسے عین قومی مفاد قرار دیا جاتا رہا لیکن اگر ایک جمہوری وزیراعظم اس ٹیلی فون کال کو ہی قومی اور بین الاقوامی سطح پر اعتماد بڑھا دینے والے طریقوں یعنی سی بی ایمز کے طور پراستعمال کر لے جو اسے واقعی کی گئی ہے تو وہ اصولوں اور ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔ ہماری طرف سے ( میں پاکستان کی طرف سے بات کر رہا ہوں) اس گفتگو کو جاری کرنا غلط ہے لیکن دوسری طرف سے ہونے والی ٹرمپ بازیاں کیا غلط نہیں ہیں۔ سیدھا سادہ سوال ہے کہ اگر امریکی منتخب صدر واقعی جھوٹا اور دغاباز نہیں ہے تو پھر اسے اپنی گفتگو کے جاری ہونے پر بھی اعتراض نہیں ہونا چاہئے اور اگر اس کی انتقال اقتدار ٹیم کو کوئی بات قابل اعتراض لگتی ہے تو پھر وہ بات اسے کرنی ہی نہیں چاہئے تھی۔ماہرین کی طرف سے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے منتخب امریکی صدر کو جب سیکورٹی بریفنگز ملیں گی تو ان کے موقف میں فرق آجائے گا کیونکہ امریکہ شخصیات سے کہیں زیادہ اداروں کے ذریعے چلتا ہے، چلیں، مان لیتے ہیں کہ ٹرمپ اپنی باتوں سے پھر جائے گا مگر فرق آنے کے ساتھ ساتھ کچھ نہ کچھ ، کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی کوتھوڑی بہت شرم بھی تو آئے گی یا یہ بات طے شدہ ہے کہ تما م یوٹرن لینے والے بے شرم اور ڈھیٹ ہوتے ہیں۔

چلیں! ہمارے جو دوست اس ٹیلی فون کال کی تفصیلات جاری کرنے پر تنقید کر رہے اور اسے غیر سفارتی اقدام قراردے رہے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ کسی بھی ملک کے مفا د میں سفارتی اصولوں سے کہیں زیادہ ریاستی مفاد اہم ہوتا ہے،ہم ان سے معاملہ الٹ کر کے ڈسکس کر لیتے ہیں کہ یہی ٹیلی فون کال اگر بھارتی وزیراعظم کے نام ہوتی، ڈونلڈ ٹرمپ یہی خوشامدانہ الفاظ نریندرمودی کے لئے استعمال کرتے تو ہمیں کتنی تکلیف ہوتی، یہی تنقیدی ٹولہ چڑھ دوڑتا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ناکام ہو گئی، جس امریکہ کی ساری عمر چاکری کی گئی وہ اس نے اب انڈیا کو گود لے لیا ہے لہذا یہ بات منطقی ہے کہ ہمیں ان مکھیوں کی طرف توجہ نہیں دینی چاہئے جن کا کام ہی پورے جسم میں زخم کو ڈھونڈ کر اس پر بیٹھنا ہے۔ کبھی کبھار باتوں کو ہلکے پھلکے انداز میں انجوائے کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ امریکیوں نے اپنے لئے ایک ایسا صدر چن لیا ہے جو تماشے کرتا رہے گا اور ہم ان سے لطف اندو ز ہوتے رہیں گے۔

مزید : کالم