عدالتی کارروائی کی تکمیل سے قبل عمران اور شیخ رشید نے فیصلہ سنا دیا

عدالتی کارروائی کی تکمیل سے قبل عمران اور شیخ رشید نے فیصلہ سنا دیا

تجزیہ:چودھری خادم حسین

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بدستور پاناما لیکس کے حوالے سے اپنے موقف کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کے مطابق پاناما لیکس کیس کی وجہ سے عوام میں کرپشن کے خلاف بیداری اور نفرت بڑھی ہے ان کے بقول وہ اس کی پیروی نہیں چھوڑیں گے۔ عمران خان اور ان کی ٹیم کے علاوہ ’’فرزند راولپنڈی‘‘ شیخ رشید بھی تیز تر ہیں اور وہ پہلے ہی مسلم لیگ (ن) کے مقدمہ ہار جانے کی بات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت میں کیس ہار جائیں گے۔ دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا البتہ جوابی فرائض پر مقرر اراکین نے پھر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عمران خان پر تنقید کی ہے یوں یہ محاذ اپنی جگہ گرم ہے کہ دوسری طرف پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو زرداری اپنے موقف کو آگے بڑھاتے چلے جا رہے ہیں اب انہوں نے چار مطالبات نہ مانے جانے کی صورت میں ’’گو نواز گو‘‘ کا نعرہ بلند کرنے کا ارادہ ظاہر کر دیا ہے وہ پھر کہتے ہیں کہ 27 دسمبر تک ان کے چار مطالبات مان لئے جائیں ورنہ وہ ’’گو نثار گو‘‘ کی جگہ ’’گو نواز گو‘‘ کا نعرہ لگا دیں گے اس حوالے سے بعض ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی دوسری اپوزیشن پارٹیوں سے رابطے کر کے وسیع تر اتحاد بنانے کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ بات چیت جاری بھی ہے جو کسی بھی وقت ظاہر کی جا سکتی ہے۔ تاہم قائد حزب اختلاف سید خورشیدشاہ پھر اپنے انداز ہی سے بات کرنے لگے ہیں ان کے مطابق عمران خان کی غلط حکمت عملی نے وزیر اعظم کو مضبوط کیا ہے انہوں نے قطری شہزادے کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سید خورشیدشاہ کی پالیسی میں تھوڑا فرق ہے کہ بلاول اب تیز دوڑ رہے ہیں جبکہ خورشیدشاہ دھیمے لہجے میں بڑی بات کہہ دیتے ہیں اس لئے تضاد نہیں بنتا۔

اس نئی مہم کے حوالے سے بعض ذرائع نے بتایا ہے کہ سید خورشید شاہ کی بعض سیاسی جماعتوں سے گفتگو ہوئی ہے اور حزب اختلاف کو متحد کرنے کے لئے ہوتی رہے گی۔ اس سلسلے میں شاہ محمود قریشی نے بلاول بھٹو کے چاروں نکات کی تعریف کر دی اور کہا ہے کہ بلاول تحریک چلائیں تحریک انصاف ان کے ساتھ ہو گی۔ اگرچہ تا حال عمران خان کی طرف سے کوئی واضح بات نہیں ہوئی۔ البتہ ان کی جماعت کے اہم حضرات متحدہ اپوزیشن کے حق میں ہیں۔ مستقبل میں یہی اتفاق اپوزیشن کے وسیع تر اتحاد کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ پیپلزپارٹی کا نیا چہرہ تو اب جدوجہد سے عبارت نظر آ رہا ہے جبکہ عمران خان نے عدالت عظمیٰ میں کارروائی کے باعث دوسری ہر نوع کی جدوجہد معطل کر رکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں اب دھرنا کے علاوہ جلسے بھی نہیں ہوں گے۔‘‘ تا حال کنفیوژن بھی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں محو سفر ہے اور اسے اب ’’دوستی‘‘ اور ’’فعالیت‘‘ کے عنوان سے سرگرمیوں میں دلچسپی نہیں بلکہ مزاحمتی عمل شروع کر دیا گیا ہے اور اس طرح پارٹی کے تشخص کو بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے مجموعی طور پر بلاول کے عمل کو پارٹی میں بہت پسند کیا جا رہا ہے، خوشی ہوئی کہ یوم تاسیس کے افتتاحی اجلاس کے بعد ہونے والی ملاقات میں ہماری بات یا مشورے کا اثر لیا گیا اور بلاول نے اس کے بعد تنقیدتو سخت کی ہے لیکن کوئی توہین آمیز یا سوقیانہ جملے نہیں کہے۔ یہ اچھی بات ہے ہمارے نزدیک پارلیمینٹ ایک بڑا اور صحیح فورم ہے۔ حکمران جماعت کو اسے زیادہ سے زیادہ فعال اور معتبر بنانا ہوگا کہ جمہوریت کے لئے یہ بہت ضروری ہے۔

آج بات ختم کرنے سے قبل خادم اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی دو باتوں کا ذکر ضروری ہے ایک تو انہوں نے پرویز مشرف کے اکاؤنٹس کا ذکر کیا اور کہا کہ جب ان کے اکاؤنٹس ظاہر ہو گئے تو وہ کہتے ہیں مجھے بادشاہ نے ڈالر دیئے ہیں اب کئی حضرات نے فون کر کے پوچھا کہ واقعی وزیر اعلیٰ نے یہ کہا ہمارا جواب تھا سب اخباروں میں یہی شائع ہوا ہے تو ایک عمرانیئے نے کہا وزیر اعلیٰ قطری شہزادے کے حوالے سے کیا کہیں گے۔ ہم نے کہا براہ راست سوال کر لیں۔ دوسری بات انہوں نے اشرافیہ کے بارے میں کہی کہ اشرافیہ لوٹ رہی ہے اور یہ بہت غلط ہے کہ ایک طرف یہ صورت حال ہو اور دوسری طرف لوگ بھوکے رہیں اور آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہو۔ خادم اعلیٰ عرصہ سے انقلابی باتیں کر رہے ہیں اور اب زیادہ کھل گئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے طبقے سے بھی نالاں ہیں اور یقین کے ساتھ امتیاز کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ جذبہ اچھا ہے۔

مزید : تجزیہ