سرتاج عزیز پاکستان کا دیرینہ موقف آج ٹھوس انداز میں پیش کریں گے

سرتاج عزیز پاکستان کا دیرینہ موقف آج ٹھوس انداز میں پیش کریں گے

امرتسر سے خصوصی تجزیہ:سہیل چوہدری سے

’’زندہ دلان‘‘کے شہر لاہور سے صرف40کلومیٹر کی مسافت پر واقع بھارتی شہر امرتسر میں افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے ایک ایسی کانفرنس ہورہی ہے جسے ہارٹ آف ایشیا کہا جاتا ہے لیکن یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہ کانفرنس ایک ایسے وقت اور ایسے حالات میں ہورہی ہے جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے رویہ پر نہ صرف ہندوستان اور پاکستان کے دلوں میں دوریاں بڑھ چکی ہیں بلکہ ہندوستانیوں کے دلوں جو نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں اس سے پاکستانیوں اور خطے بھر کے پرامن لوگوں کے دل ٹوٹ چکے ہیں،’’ ایشیا کے دل‘‘کی اس کانفرنس کی میزبانی ایسا ملک کررہا ہے جس نے دنیا بھر کے امن پسندوں کے دل تارتارکردیے ہیں آج ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کا دوسرا اور اختتامی دن ہے جس میں باوجود اس کے کہ بھارت نے پاکستان میں طے شدہ سارک سربراہ کانفرنس کا بائیکاٹ کرکے خطے کے اس اہم ترین فورم کو نقصان پہنچایا ،پاکستان ادلہ کا بدلہ کرنے کے بجائے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطے میں قیام امن کی غرض سے اس کانفرنس میں شرکت کررہا ہے جس کیلئے وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے آج پہنچنا تھا مگر ان کے شیڈول میں تبدیلی کی گئی اور وہ ایک روز پہلے ہی امرتسر خصوصی طیارے کے ذریعے پہنچ گئے جس سے لگتا ہے کہ بیک ڈور ڈپلومیسی نے اپنا کام دکھایا ہے،مشیر خارجہ سرتاج عزیز آج ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے پاکستان کی ٹھوس کوششوں سے اقوام عالم کو آگاہ کرینگے اور ضمن میں متفقہ طورپر آئندہ کے لائحہ عمل کیلئے اپنا دست تعاون بڑھائیں گے اگرچہ ہارٹ آف ایشیا میں شامل رکن ممالک افغانستان میں قیام امن کیلئے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن اس بات پریقین نہیں کیا جاسکتا کہ یہ ممالک افغانستان میں قیام امن کیلئے واقعی مخلص اور سنجیدہ ہیں کیونکہ اس میں بیشتر دنیا کی واحد سپرپاور امریکہ کے عالمی مفادات کے نگہبان بھی ہیں جبکہ پاکستان کا معاملہ قدرے مختلف ہے کیونکہ قدرت نے پاکستان اور افغانستان کو جغرافیائی طور پر اس طرح بغل گیر کیا ہوا ہے کہ دونوں کے مفادات قدرتی طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہیں افغانستان کا استحکام پاکستان کے استحکام کی ضمانت ہے اس لیے خطے میں پاکستان افغانستان میں استحکام کے حوالے سے سب سے اہم اسٹیک ہولڈر ہے لیکن حالات کی ستم ظریفی کہ ہمارے حلیفوں اور حریفوں کے بعض نام نہاد مفادات نے انکا گٹھ جوڑ کردیا ہے بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں نئی صف بندیوں نے بھی پاکستان کیلئے مشکلات کھڑی کردی ہیں مخصوص مفادات پر نئی دہلی اور کابل کا گٹھ جوڑ اور کابل کا دیگر افغان دھڑوں کے ساتھ عدم جوڑ نے پاکستان کے چیلنجز میں وقتی طور پر اضافہ کررکھا ہے لیکن افغانستان میں قیام امن کیلئے یہ تمام نام نہاد گٹھ جوڑ پائیدار ثابت نہیں ہوسکتے اور پاکستان کو افغانستان کے مسئلہ پر سائیڈ لائن کرنیکی کوششیں بارآور ثابت ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں افغانستان میں استحکام کیلئے پاکستان کاکردار فیصلہ کن ہے جس کی وجہ سے ہارٹ آف ایشیا میں پاکستان تمام ترترجیحات کے باوجود پراعتماد نظرآرہا ہے جبکہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز پاکستان کا دیرینہ موقف آج ٹھوس انداز میں پیش کرینگے لائن آف کنٹرول پر حالیہ بھارتی اشتعال انگیزیوں اور مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی لہر کے شاخسانہ کی وجہ سے پاک بھارت دلوں کی دوریوں کے کم ہونے کے فوری اشارے نظرنہیں آرہے ،لیکن مشیر خارجہ اپنے طے شدہ شیڈول سے ایک روز پہلے ہی خصوصی طیارے کے ذریعے امرتسر پہنچ گئے ایک تو مشیر خارجہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی بھارتی ہم منصب سشما سوراج بیماری کے حملہ کی بناء پر ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت سے معذورنظرآرہی ہیں جبکہ پہلے سے کوئی سائیڈ لائن میٹنگ بھی طے شدہ نہیں تاہم غیررسمی اور یکایک سائیڈ لائن پر پاک بھارت دوطرفہ سفارتکاری کو بہرحال خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے جبکہ بھارت اس کانفرنس کے موقع پر فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان میں قیام امن کا مسئلہ پاکستان کے سرڈالنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ افغان بھارت ٹریڈ کے حوالہ سے پاکستان کو دباؤ میں ڈالنے کی کوشش کرسکتا ہے بھارت چاہتا ہے کہ افغانستان سے تجارت کے حوالے سے داخلی ترجیحات کو پاکستان واہگہ بارڈر کراس کرنے اور ان ٹرکوں کو بھارتی حامی افغانستان لانے کی اجازت دے دے لیکن پاکستان معروضی حالات میں بھارت کو کسی طورپراس طرح کی کوئی تجارتی رعایت دے گا پاکستان کا بھی اس حوالے سے موقف اصولی اور پختہ ہے پاکستان بھارت کو افغانستان سے ایسی تجارت کی اجازت نہیں دے سکتا جس کا اس پر کنٹرول نہ ہو لیکن پاکستان نے کھلے دل سے افغانستان کو یہ سہولت دے رکھی ہے کہ افغان ٹرانسپورٹ افغانستان کا مال واہگہ بارڈر تک پہنچا دے اس بات کا امکان ہے کہ افغانستان اور بھارت مشترکہ طور پر اس ضمن میں پاکستان سے کوئی مطالبہ کریں جبکہ پاکستان کا بارڈر مینجمنٹ کے حالیہ میکانزم اور افغان مہاجرین کی افغانستان واپسی کے حوالہ سے پاکستان پر تنقیدہوسکتی ہے لیکن دونوں ایشوز پر بھی پاکستان کا موقف اصولی اورواضح ہے ان ایشوز کے اٹھائے جانے کی صورت میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز انکا بھر پور مدلل جواب دیں گے امرتسر پہلوانوں،اکھاڑوں اور مقوی اشیائے خوراک بالخصوص ہریسہ کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے ہارٹ آف ایشیا کے ملاکھڑے میں آج مشیر خارجہ سرتاج عزیز پوری تیاری سے اتریں گے اور آج ہی واپس آجائیں گے جبکہ کانفرنس میں شریک ہونے والےء مہمانوں کو سکھوں کے مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل بھی لے جایا گیا بھارت نے گولڈن ٹیمپل کے دورہ سے یہ تاثردینے کی کوشش کی ہے کہ خالصتا ن کے مسئلہ کی کوئی عملی حیثیت نہیں مشیر خارجہ سرتاج عزیز بھی گولڈن ٹیمپل کے دورہ کی خواہش رکھتے ہیں یہ عجیب اتفاق ہے کہ گولڈن ٹیمپل بھی اسی شہر میں ہے جہاں جلیانوالہ باغ میں برصغیر کے لوگوں نے انگریز راج کی غلامی سے نکلنے کیلئے خون کی قربانی دی انگریز سامراج نے یہاں خون کی ہولی تو کھیلی لیکن بالاآخر برصغیر کے عوام کو آزادی دینا پڑی۔

سرتاج عزیز

مزید : تجزیہ