مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف 148روز سے جاری ہڑتال میں وقفہ

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف 148روز سے جاری ہڑتال میں وقفہ

سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف 148روز سے جاری ہڑتال میں ہفتے کے روز وقفہ کیا گیا مقبوضہ کشمیر میں اتوار کے روز بھی ہڑتال نہیں ہو گی مقبو ضہ کشمیر کے آزادی پسند قائدین سید علی گیلانی ، میر واعظ اور یاسین ملک کی اپیل پر ہفتے کو کشمیری عوام نے کاروبار زندگی بحال کر دیاسول لائنز کے مائسمہ کو چھوڑ کر باقی علاقوں میں اگرچہ کسی قسم کی ناکہ بندی عمل میں نہیں لائی گئی تھی تاہم ہڑتال سے معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئیں۔سول لائنز علاقوں میں نجی ٹرانسپورٹ چلتا رہا ۔ حریت کانفرنس ع کے چیرمین میرواعظ عمر فاروق نے میرواعظ منزل پر عوام سے خطاب کیا۔ جلسے اختتام پذ یر ہونے کے بعد جب لوگ پرامن طور واپس لوٹنے لگے تو پولیس نے ان کا تعاقب کرنا شروع کیا جس دوران احتجاجی نوجوانوں نے پتھراؤ کیا۔پولیس نے احتجاجی نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے ان پر جوابی پتھراؤ کے ساتھ ساتھ لاٹھی چارج اور شلنگ کی۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے پاؤا شیل اور مرچی گیس کے گولے داغے گئے جس کے بعد طرفین کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے باعث پورا علاقہ اشک آور گولوں سے لرز اٹھا اور ہر طرف دھواں ہی دھواں پھیل گیا۔

اورشلنگ اور مرچی گیس سے علاقہ میں لوگوں کو تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ جھڑ پوں کی وجہ سے ان علاقوں میں پرتناؤ حالات رہے۔فورسز نے خشت باری کررہے نوجوانوں پر زبردست شلنگ کی۔کئی گھنٹوں تک مظاہرین اور فورسز کے درمیان نالہ مار روڑ پر تصادم ہوا جس کے نتیجے میں شہر خاص کے اکثر وبیشتر علاقوں میں خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا اور ٹیر گیس شیلوں کے دھماکوں سے پورا شہر خاص لرزاٹھا۔ عینی شاہدین کے مطابق نوا کدل، کاوڈارہ اور نالہ مارروڑ پر مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جس دوران فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کی جس کے نتیجے میں نالہ مار روڑ پر خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا۔ نالہ مارروڑ اور گوجوارہ میں مشتعل نوجوانوں نے درجنوں نجی گاڑیوں کے شیشے چکنا چور کئے۔سہ پہر پانچ بجے کے بعد گوجوارہ، راجوری کدل اور نوہٹہ میں بھی نوجوانوں اور فورسز کے درمیان پر تشدد جھڑپیں شروع ہوئی جس دوران فورسز نے اشک آور گیس کے ساتھ ساتھ پیپر شیل بھی داغے جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرناپڑا۔ ریکہ چو ک بٹہ مالو میں نماز جمعہ کے بعد جھڑ پیں ہو ئیں۔ پولیس وفورسز اہلکاروں نے سنگ باری کے جواب میں پلٹ گن اور ٹا ئر گیس کے گولے بھی داغے۔اس دوران گاندربل میں ہڑتال جاری رہا تاہم کئی جگہوں پر سڑکوں پر نجی گاڑیون کی نقل وحمل نظر آئی۔

مزید : عالمی منظر