ہوتی پولیس نے طلباء پر مبینہ طور پر تشدد کیا ،اقتدار خان

ہوتی پولیس نے طلباء پر مبینہ طور پر تشدد کیا ،اقتدار خان

مردان (بیورورپورٹ ) ہوتی پولیس نے آئی ایس ایف اور آئی جے ٹی کے طلباء کو آوار ہ گردی کے الزامات میں گرفتار کرکے مبینہ طورپر تشدد کا نشانہ بنادیا اور کپڑے اتارکر رات بھر حوالات میں پنکھے کے نیچے بٹھادیاگیا واقعے کے خلاف شہریوں میں شدید اشتعال پھیل گیا ،معمولی الزام میں گرفتار طلباء کی رہائی کے لئے ڈسٹرکٹ ممبر کی سفارش بھی کام نہ آئی ،پولیس نے انہیں بھی کھری کھری سناکر تھانے سے رخصت کردیا، علاقے کے عوام کا واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ملوث پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے اورقرارواقعی سزا دلوانے کا مطالبہ کردیا بصورت دیگر پیر کے روز احتجاج کیاجائے گا تفصیلات کے مطابق ہفتہ کی شام ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے ضلع کونسل کے رکن اقتدار خان اورمسلم لیگ (ن) ڈپٹی سیکرٹری سعید اکبر نے متاثرہ طلباء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایاکہ گذشتہ رات کینال روڈ مستری آباد کے رہائشی آئی ایس ایف اورآئی جے ٹی کے طلباء شہباز ،عباس ، محمد عباس ،محمد طاہر ، احتراز اورعابد علی کے ہمراہ ایک دوست کی شادی میں کھانے کے بعد چنگ چی رکشہ میں واپس جارہے تھے کہ راستے میں پولیس حوالدار خان زیب اپنے دیگر اہلکاروں جو کچھ وردی اور بعض سفید کپڑوں میں ملبوس تھے نے انہیں روک کر تلاشی لی اوربعدازاں تھانہ ہوتی لے کر جاکروہاں ایس ایچ او نے کہاکہ اب آپ تمام گرفتار طلباء ایک دوسرے کو تھپڑ رسید کرو اس کے بعد ہماری قمیصیں نکال کر حوالات میں پھنکے کے نیچے بٹھایاگیا انہوں نے الزام عائد کیاکہ پولیس نے رات بھر ہم پر جسمانی تشددکیا اور جسم کے نازک اعضاء پر مارمار کر ادھ مواکردیئے گئے انہوں نے کہاکہ پولیس نے طلباء سے ایک لائنس یافتہ انگریزی پستول بھی لے کر غائب کردی ہے اس موقع پر ضلع کونسل کے رکن نے کہاکہ وہ طلباء کی رہائی کے لئے تھانہ گئے لیکن ایس ایچ او نے معمولی مقدمے میں ملوث طلباء کو مچلکے پر رہائی سے انکا رکردیا اورالٹا انہیں کھری کھری سنادی انہوں نے آئی جی پی ،ڈی آئی مردان اور ڈی پی او مردان سے مطالبہ کیاکہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کئے جائیں اور واقعے میں ملوث اہلکاروں کے معطل کرکے قرارواقعی سزادی جائے انہوں نے دھمکی دی کہ اگر کل تک ان کے مطالبات پورے نہ کئے گئے تو پیر کے روز واقعے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی جائے گی اور مردان نوشہرہ روڈ کو بلا ک کیاجائے گا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر