تشخص سے تشدد تک

تشخص سے تشدد تک
تشخص سے تشدد تک

  

تحریر: محمد وقاص

تشخص کے لیے انگریزی کا لفظ Identityاستعمال کیا جاتا ہے۔ جورنگ، نسل، مذہب یا علاقے کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر میں اپنے تشخص کے لیے پاکستانی، مسلمان، پنجابی وغیرہ کا لفظ استعمال کرسکتا ہوں۔

اکثر کے ذہن میں سوال اٹھ رہا ہوگا کہ آخر اس غیر ضروری انفارمیشن کو بنیاد بنا کر کیوں ایک مضمون لکھا جا رہا ہے۔ تو لیجئے،اسکا جواب ۔

چند دن قبل ہمارے کچھ دوست اس بات پر نہ صرف غور و خوض کر رہے تھے بلکہ انہوں نے دیگر افراد کے لیے بھی یہ اوپن ڈسکشن چھوڑا تھا کہ کیا تشخص تشدد کی وجہ بنتا ہے؟ جس پر غور و فکر کے بعد ہم اس نقطے پر پہنچے کہ تشخص نہ صرف تشدد کا باعث بنتا ہے بلکہ لوگوں کو دوسروں کیساتھ امتیازی سلوک کرنے اور اپنی وفاداریاں بدلنے کی وجہ بنتا ہے ۔۔۔اور تو اور۔۔۔ بعض لوگ تو اپنا تشخص تبدیل کرنے کے لیے بھی تشدد کی راہ اپنا لیتے ہیں۔تاریخ میں اکثر مثالیں موجود ہیں۔

عام طور پر تشخص جب تشدد کا باعث بنتا ہے تو اس کی بنیادی طور پر دو وجوہات ہوتی ہیں۔ اوّل جب تو فرد یا قوم اپنے تشخص کو توسیع دینا چاہتی ہے تو اس مقصد کے حصول کی خاطر تشدد آمیز کارروائیوں کا اکثر سہارا لے لیتی ہے ۔دوئم جب کوئی فرد یا افراد کا گروہ اپنے تشخص کی بقاء کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے اپنے مخالفین کے خلاف صف آرا ہونا پڑتا ہے جس سیتشدد کو ہوا ملتی ہے۔

یہاں تک تو یہ بات ماننے میں بھی آتی ہے لیکن مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً کون سا تشخص زیادہ اس سلسلے میں کردار ادا کرتا ہے تو ہم میں سے اکثر افراد بغیر کسی تاخیر کے مذہبی تشخص کو قرار دیں گے۔ یعنی وہ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ مذہبی تشخص تشدد کا زیادہ باعث بنتا ہے؟ ۔یہ انسانوں کو قوموں میں بانٹ دیتا ہے۔اس بات کو آپ اس واقعہ کی روشنی میں دیکھ سکتے ہیں۔

1990ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے سفارتی سطح کا ایک وفد ماسکو بھیجا گیا جس میں بانو قدسیہ صاحبہ بھی شریک تھیں۔ وہ کہتی ہیں ’’جب ہم ماسکو پہنچ گئے تو روسی حکام نے ہمیں کوئی سی ایک جگہ منتخب کرنے کا کہا جس کی ہم سیر کرنا چاہتے ہیں تو میں نے بغیر کسی توقف کے ماسکو کے ہی ایک ملحقہ علاقے کا نام ان کو بتایا جہاں پر مسلمانوں کی اکثریت سکونت پذیر تھی تو وہ میری طرف عجیب سی نظروں سے گھورنے لگے ۔پھر ان میں سے ایک نے کہا کہ وہ علاقہ تو آپ کے لیے مناسب نہیں ۔آپ وہاں پر غیر محفوظ ہوں گی۔ لیکن میں اپنی بات پر مُصر رہی ۔ ہمارے درمیان کافی دیر بحث جاری رہی اور میں ان کے لیے کافی کوفت کا باعث بھی بنی کیوں کہ باقی ارکان وفد نے ایسے علاقوں کا انتخاب کیا تھا جن کے بارے میں ماسکو حکام کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ تاہم وہ سب تو مقررہ وقت پر اپنی اپنی منزلوں کی طرف روانہ ہوگئے لیکن میں ابھی تک اس بات پر ضد کیے ہوئے ہوٹل میں موجود تھی کہ اگر کہیں جانا ہے تو صرف اسی علاقے میں جانا ہے ۔آخر کار روسیوں کو میری ضد کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پرے۔

جب ہم وہاں پر پہنچے تو میرے سر پر دوپٹہ دیکھ کر لوگ للچائی نظروں سے میری طرف چھپ چھپ کر دیکھنے لگے۔ آخر میں اس کی وجہ معلوم کرنے کے لیے موقع پاتے ہی ایک گھر میں داخل ہوگئی۔ وہ لوگ ایسے میرے ارد گرد جمع ہوگئے جیسے میں کسی دوسرے سیارے سے آئی ہوئی تھی۔ جب ان سے با ت چیت شروع ہوئی تو میں نے ان کو بتایا کہ میں پاکستان اورمسلم ہوں۔ مسلم اور اسلام کا نام سن کر ان لوگوں کے چہروں کے تاثرات بدلنے لگے۔ وہ کبھی باہر دروازے کی طرف دیکھتے تو کبھی ایک دوسرے کی طرف ۔خیر ہمارا سلسلہ گفتگو جاری رہا تو مجھے بعض ایسی باتیں جاننے کو ملیں جنہوں نے میری کیفیت ہی بدل دی۔ ایک عورت نے بتایا کہ جب ہم نماز پڑھتے ہیں تو دیگر افراد خانہ کھڑکیوں اور دروازوں پر پہرہ دیتے ہیں‘‘

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ روسیوں نے کس طرح سے اپنے کیمونسٹ تشخص کو توسیع دینے کے لیے کس قدر تشدد کا راستہ اپنایا تھا کہ دیگر مذہبی تشخص والوں کو جبر کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور جبر و استبداد سے ان کی انفرادی identityکو ختم کیا جا رہا تھا جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ کیمونسٹوں نے اپنے تشخص کو پھیلانے کے لیے تشدد کا بھرپور سہارا لیا تھا اور اب بھی شاید ایسا ہی ہے؟

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

مزید : بلاگ