پولیتھین بیگز یونٹس کے خلاف کریک ڈاؤن

پولیتھین بیگز یونٹس کے خلاف کریک ڈاؤن
پولیتھین بیگز یونٹس کے خلاف کریک ڈاؤن

  


تحریر:شکیل احمد شاہین

پلاسٹک کے شاپر بیگز80کی دھائی میں شروع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے پاکستان میں مشہور ہو گئے۔ اب تو دودھ اور دہی تک پولیتھین کے لفافوں میں بیچا جاتا ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے کھجور کی ٹوکریوں کو ختم کر دیا اور پولیتھین کی آمد نے کاغذی لفافوں کی مارکیٹ ختم کر دی۔ اب تیس سال ہونے کو ہیںکہ پولیتھین کے شاپر بیگوں نے پاکستان میں ماحول کو آلودہ کیا ہوا ہے، گٹر بند ہو رہے ہیں، نالیاں شاپر بیگ اور چپس کے بیگوں سے اٹی پڑی ہیں۔ کوڑے کیساتھ انہیں جلانے سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔پنجاب حکومت پولیتھین کے شاپر بیگ بنانے والوں کے خلاف کریک ڈاو¿ن جاری رکھے ہوئے ہے ۔ ہماری حکومت اورضلعی انتظامیہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ پلاسٹک کے شاپنگ بیگز ہی ہمارے سیوریج سسٹم کی ناکامی کے ذمہ دار ہیں۔جس کی روک تھام کیلئے پنجاب حکومت صوبے بھر میں بلا امتیاز کارروائیاں کر رہی ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تو پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال پر پابندی لگائی جاچکی ہے اور کئی ممالک پابندی لگانے پر غور کرر ہے ہیں۔پلاسٹک کے تھیلے یا پولیتھین بیگ کو عالمی سطح پر ناقابل استعمال قرار دیا جا چکا ہے۔ لیکن اسکا متبادل ذریعہ دریافت نہ کرنے کی وجہ سے اب یہ ہمارے معاشرے کا لازمی جز بن چکا ہے۔جب مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوا تو اس وقت پلاسٹک بنانے والی کمپنیاں مشرقی پاکستان کے حصے میں چلی گئی تو موجودہ پاکستان میں پلاسٹک کے بیگ کی جگہ کپڑے، کاغذ، مزری کی بنی ٹوکریں استعمال میں لائی جانے لگی۔ بعد میں کاروباری مافیا نے یہ دیکھتے ہوئے کہ اس ملک میں پولیتھین بیگزکی تیاری بڑا کاروبار بن سکتا ہے تو انہوں نے پلاسٹک کے بیگ کی کمپنیاں بنا نا شروع کر دیں۔اب ہزاروں لوگوں کا کاروبار اسی صنعت سے وابسطہ ہو چکا ہے۔

پلاسٹک کے تھیلے کے خریدار وہ دوکاندار ہیں جو اپنے گاہکوں کوسامان اسی میں پیک کرکے دیتے ہیں۔ نہ گاہک کو پتہ چلتا ہے کہ اس سے ماحول اور خود انکی صحت پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور نہ ہی دوکاندار کو اسکی خامی کا پتہ ہوتا ہے۔ ماہرین پلاسٹک کے تھیلوں کے حوالے سے کہتے ہیں کہ اسے گل سڑنے میں وقت لگتا ہے اگر اسے زمین کے اندر دفنا دیا جائے تو بھی اسے مٹی کے ساتھ مکس ہونے میں ہزاروں سال لگتے ہیں ۔پھر لوگ کیا کرتے ہیں کہ انہیں پلاسٹک کے تھیلوں کو جلاتے دیتے ہیں جس سے نہ صرف سانس کی بیماریاں پھیل رہی ہیں بلکہ اسکے دھویں سے لوگوں کو کینسر کا مرض بھی لاحق ہو سکتا ہے۔یہ کیمیکل دھواںماحولیاتی آلودگی کو برقرار رکھتا ہے۔ اگر بارشیں ہوں تو اس میں ایسڈبھی شامل ہو جاتا ہے جس سے موحولیاتی توازن میں بگاڑ پیدا ہو تا ہے۔

اگر ایک شخص جس نے سودا سلف لینا ہوتا ہے تو اسکے ہاتھ میں دس سے بارہ پلاسٹک کے تھیلے نظر آرہے ہوتے ہیں جن کو صرف پانچ منٹ کے استعمال کے بعد پھینک دیا جاتا ہے۔ہماری ناسمجھی کا یہ عالم ہے کہ سمندر کے کنارے پکنک منانے والے افراد واپسی پر پلاسٹک کے تھیلے وہیں پر پھینک کر چلے جاتے ہیں جوکہ سمندری مخلوق کی غذا کے طور پر استعمال ہو کر انکی سانس کی نالیوں کو بند کرنے کا سبب بنتے ہیں جن سے انکی موت واقع ہو جاتی ہے۔

محکمہ تحفظ ماحول پنجاب نے صوبے بھر میں عوام کو پولیتھین بیگز کے استعمال سے پیدا ہونے والے اثرات سے بچاو¿ کے لیے جاری آپریشن کے دوران1674 ایسے مقامات کے دورے کیے جہاں غیرقانونی پلاسٹک بیگز تیار ہو رہے تھے ۔خلاف ورزی کے مرتکب 317یونٹس میں سے 257 یونٹس کے خلاف چالان کر کے مقدمات ماحولیاتی ٹربیونل کو برائے کارروائی بھیج دیئے گئے ہیں ۔وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر پنجاب کو آلودگی سے پاک صوبہ بنانے کیلئے تما م اضلاع میں بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں ۔حکومت پنجاب پولیتھین بیگز آرڈیننس 2002 کے تحت پہلے ہی ایسے پلاسٹک بیگزکی تیاری پر مکمل پابندی عائد کر چکی ہے۔محکمہ ماحول کی خصوصی ٹیموں نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں باقاعدگی سے مہم جاری رکھی ہوئی ہے جس کے دورس نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

پلاسٹک بیگزکی تیاری کوروکنے کے لیے ضروری ہے کہ پلاسٹک بیگ کی کمپنیوں پر پابندی عائد کرکے جو کہ پنجاب حکومت کر بھی رہی ہے اس سے جڑے لوگوں کے لئے متبادل ذریعہ معاش کا انتظام کیا جائے۔ دوکانوں کے لئے ضرورت کے مطابق حکومتی سرپرستی میں کپڑے کے تھیلے بنائے جائیںجبکہ سبزی فروٹ وغیرہ کی خریداری کے لئے ٹوکریوں کا استعمال عمل میں لایا جائے۔ پلاسٹک کے کم استعمال سے ماحول کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ بشرطیکہ ماحولیاتی آلودگی، اسباب اور حل کے لیے عوامی سطح پر شعور و آگاہی کا انتظام کیا جائے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

مزید : بلاگ