وہ گاڑی جو لڑکیوں کو ہراساں کرنے میں استعمال ہورہی ہے، تصویر سامنے آگئی

وہ گاڑی جو لڑکیوں کو ہراساں کرنے میں استعمال ہورہی ہے، تصویر سامنے آگئی
وہ گاڑی جو لڑکیوں کو ہراساں کرنے میں استعمال ہورہی ہے، تصویر سامنے آگئی

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) شہرقائد میں ایک کار اس وجہ سے بدنام ہوگئی کہ اس میں سوار افراد مبینہ طورپر ایسی گاڑیوں کا پیچھا کرتے ہیں جن میں خواتین سوار ہوں اور جنسی ہوس بجھانے کیلئے انہیں اغواءکرنے کی کوشش کرتے ہیںاور کراچی کے مکین اس کی کہانیاں سوشل میڈیا پر شیئرکررہے ہیں۔

ڈیلی پاکستان گلوبل کے مطابق ایک’ متاثرہ ‘نے کہاکہ ’ان کمینوں نے جوہر ٹاﺅن سے کراچی یونیورسٹی تک ہمارا پیچھاکیا ، اس گاڑی میں پانچ لڑکے تھے ، اگراس گاڑی کا تعلق آپ کے گھر سے ہے تو مہربانی کرکے اپنے بیٹے یا بھائی کو تھوڑی غیرت دلائیے‘۔

ایک اور لڑکی کا کہناتھاکہ ’چاردنوں میں یہ تیسرا واقعہ سنا ہے ، ایسے واقعات ہورہے ہیں اور ملینیم سے جوہر تک لڑکے لڑکیوں کی گاڑیوں یا حتی کہ رکشوںکا پیچھا کرتے ہیں جن میں لڑکیاں سوارہوں ، لڑکیو،اپنی آنکھیں کھلی رکھیں ، وہ صرف ہراساں نہیں کرتے بلکہ ریپ کیلئے اغواءکرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں، یہ ایسی بات ہے جو میں نے کئی لڑکیوں سے سنی‘۔

ایک لڑکی نے اس کار میں سوار افراد کی طرف سے ہراساں کیے جانے کی تفصیلات بتاتے ہوئے لکھاکہ ’گاڑی نے زمزمہ سے باتھ آئی لینڈ تک اس کا پیچھا کیا، میں نے غلط اشارہ دے کر اپنا روٹ بدل لیا اور یوں ان سے جان چھوٹی ، میرے شوہر نے ہدایت کی کہ اگلی مرتبہ ایسا ہوتو پولیس کو اطلاع کریں‘۔

انتہائی حیران کن بات ہے کہ سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہونے کے باوجود کراچی پولیس اور دیگرمتعلقہ ادارے خاموش ہیں جبکہ بی ایچ بی 145نمبری سفید آلٹو کار کھلے عام گھوم رہی ہے اور لڑکیوں کو ہراساں کیاجارہاہے ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس