کرنل پر کینہ پرور عورت کا جادو اثر کرگیا

کرنل پر کینہ پرور عورت کا جادو اثر کرگیا
کرنل پر کینہ پرور عورت کا جادو اثر کرگیا

  


تحریر:پیر ابو نعمان سیفی

کینہ ایک زہر ہے جو ایک انسان ہی نہیں اسکی نسلوں کو بھی برباد کردیتا ہے۔ اس زہر کی تاثیر یہ ہے کہ کسی کو کینہ کا جام پلانے والا خود بھی اسکے زہریلے اثرات سے محفوظ نہیں رہتا۔اللہ اور رسول اللہﷺ کے ارشادات کی روشنی میں یہ اصول واضح ہے کہ ایسی قوم میں محبت عام نہیں ہو سکتی جو کینہ سے بھر پور ہو، جو دشمنی مول لے، اور انتقام کیلئے موقع کی تلاش میں رہے ۔وہ ہمیشہ عذاب میں مبتلا ، اور پریشانیوں میں اوندھے منہ پڑے رہتے ہیں۔مسلمان سے بلاوجہ شرعی کینہ وب±غض رکھنا حرام ہے، یعنی کسی نے ہم پر نہ تو ظلم کیا اور نہ ہی ہماری جان ومال وغیرہ میں کوئی حق تلفی کی پھر بھی ہم اس کے لئے دل میں کینہ رکھیں تو یہ ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

چند ماہ پہلے میرے پاس ایک کرنل صاحب تشریف لائے ۔وہ قوی العزم انسان دکھائی دیتے تھے لیکن اس وقت انکے چہرے پر غم و اندوہ نے مایوسی کا سایہ تان رکھا تھا۔

”پیر صاحب مجھے یقین نہیں تھا لیکن اب میں جب خود ایسے واقعات سے گزررہا ہوں تو سمجھ آرہی ہے کہ کوئی گڑبڑھ ضرور ہے۔ہم خوش حال لوگ ہیں ۔اچھا بھلا بزنس تھا میرا۔پھر جب میرے بیٹے نے کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کرکے اپنا کاروبار شروع کیا۔کوئی کہتا ہے اس پر جادو ہوگیا۔وہ انتہائی قابل نوجوان ہے۔اسکی مارکیٹ میں مانگ ہے۔اسکے آئیڈیاز کو دنیا مانتی ہے اور اسکے ساتھ معاہدے کرتی ہے لیکن جب وہ کام کرتا ہے تو اسکی پے منٹ رک جاتی ہے اور اکثر بنا بنایا کام بگڑجاتا ہے۔ ہم پر زوال کسی عذاب کی صورت نازل ہواہے۔کوئی کہتا ہے کہ امتحان ہے لیکن یہ کیسا امتحان ہے جو ختم ہونے کو نہیں آرہا۔ہماری حالت یہ ہے کہ ایک کنال کے عالی شان گھر میں رہ رہے ہیں،گاڑیاں ہیں لیکن گھر کا نظام چلانے کے لئے پیسہ نہیں ہے۔کاروبار چلانا تو دور کی بات۔مجھے کسی نے بتایا تھا کہ آپ سے دعا کرائی جائے کیونکہ اللہ آپ جیسے بندوں کی زیادہ سنتا ہے۔“

میں نے کرنل صاحب کو حوصلہ دیا اور کچھ سوالات کرکے استخارہ کیا۔معلوم ہوا کہ انہیں جادو وغیرہ سے بندش نہیں لگی ہوئی بلکہ یہ کسی بہت قریبی خاتون کے کینہ کا شکار ہوگئے ہیں۔میں نے انہیں بتایا تو بولے۔”اس بارے میں کیا کہوں کہ وہ عورت کون ہوسکتی ہے جس کا کینہ ہمارے گھر اور کاروبار کو کھا گیا ہے‘ اور کیا کینہ میں اتنی نحوست اور سحر ہوتا ہے کہ وہ کسی کو برباد کرسکتا؟ “

میں نے انہیں کینہ کی بابت حدیث نبوی سنائی۔ حضور ﷺ کاارشاد مبارک ہے کہ کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے دشمن ہیں۔ عرض کیا گیا” یا رسول اللہ !وہ کون لوگ ہیں؟ ارشاد فرمایا” وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کی وجہ سے دوسروں پر حسد کرتے ہیں“

امام محمدبن محمد غزالیؒ فرماتے ہیں ”کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، ا±س سے دشمنی وب±غض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔“ مثلاً کوئی شخص ایسا ہے جس کا خیال آتے ہی آپ کو اپنے دل میں بوجھ سا محسوس ہوتا ہے، نفرت کی ایک لہر دل ودماغ میں دوڑ جاتی ہے ،وہ نظر آجائے تو ملنے سے کتراتے ہیں اورز±بان ،ہاتھ یاکسی بھی طرح سے ا±سے نقصان پہنچانے کا موقع ملے تو پیچھے نہیں رہتے تو سمجھ لیجئے کہ آپ اس شخص سے کِینہ رکھتے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی بات بھی نہیں بلکہ ویسے ہی کسی سے ملنے کو جی نہیں چاہتاتو یہ کینہ نہیں کہلائے گا۔

دیکھا جائے تولوگوں کے تعلقات کو کینے سے زیادہ کسی چیز نے خراب نہیں کیا، یہی مخفی بیماری ، پھیلنے والا شر ہے جو کہ آبادیوں کو منہدم اور خزانوں کو خالی کر سکتا ہے، قربت اور دوستی کو ختم کر کے لڑائی کی وجہ بنتا ہے۔

اس روز طے پایا کہ ہم انکے گھر جا کر باقی روحانی معاملات بھی دیکھتے ہیں۔یہ لاہور کی پوش آبادی میں بہترین گھر تھا لیکن اندر سے یاسیت اور ویرانی دیکھ کر مجھے دکھ ہوا۔دنیا کیا جانے کہ باہر سے خوشحال نظر آنے والوں کی زندگیاں کتنی اداس اور برباد ہوچکی ہوتی ہیں لیکن رکھ رکھاو¿ ان کا بھرم قائم رکھے ہوتا ہے۔ میں نے ایک نظر گھر پر ڈالی،یہاں کسی آسیب وغیر کے اثرات بھی نہیں تھے لہذا میں نے ان سے پوچھا ” کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کے خاندان یاجاننے والوں میں سی کوئی ایسی عورت ہو جو آپ سے حسد کرتی اور کینہ و بغض کی وجہ سے آپ کو اچھا نہ سمجھتی ہو“

اہل خانہ سوچ میں پڑ گئے۔غور کرنے لگے کہ وہ کون ہوسکتی ہے جو ان کا برا بھلا چاہتی ہوگی۔

” کرنل صاحب کبھی آپ نے کسی خاتون کا دل توڑا یا اسکونظر انداز کیا ،اسکا کوئی کام نہ کیا ہو ۔کیونکہ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایسی عورت کینے میں آپ کی دشمن بن جاتی ہے“ میں نے سوال کیا۔

” ہاں ۔میں بھی یہی سوچ رہا ہوں “ پھر انہوں نے تین خواتین کے نام لئے جن سے انکو ایسی بات کی توقع ہوسکتی تھی۔

میں ان خواتین کے متعلق استخارہ کیا اور پھر ان میں سے ایک خاتون کے بارے میں کھٹک گیا۔اسکے اپنے حالات بہت خراب نظر آرہے تھے،

” کیا باقی دو میں سے یہ خاتون زیادہ خطرناک نہیں ہے“ میں نے اس کا نام لیا تو کرنل صاحب چونکے۔” بالکل ،کچھ ایسا ہی ہے۔“

میں نے استخارہ کی رو سے اُس خاتون کے حالات معلوم کئے تو اشارہ ہوا کہ وہ خاتون کس وجہ سے کرنل صاحب کی دشمن بنی اور اسکا کینہ کیوں اس ہنستے بستے گھر کو اجاڑنے پر تلا ہوا تھا۔لیکن میں نے کرنل صاحب سے اس بارے میں بوجوہ مزید بات نہ کی نہ انہوں نے اصرار کیا۔میں نے انہیں تعویذات دئےے اور روحانی علاج سے کینہ سے جنم لینے والی شیطانی اثرات کا تدارک کیا ۔الحمد اللہ ان پر اللہ کا کرم ہوا۔

کینہ کی وجہ سے گھر اجڑجاتے ہیں اور یہ نمونہ میرے سامنے تھا ۔ہر مسلمان کو کینہ کے عذاب کو اپنے دل میں پناہ دینے سے ڈرنا چاہئے کیونکہ یہ اسکو بھی برباد کردیتا ہے۔

(پیر ابو نعمان سیفی جامعہ جیلانیہ رضویہ حسنین آباد آباد لاہور کینٹ کے منتظم اور باکمال صوفی بزرگ ہیں ۔ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔snch1968@gmail.com)

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

مزید : مافوق الفطرت