ریاست کی رٹ اورخوف

ریاست کی رٹ اورخوف
 ریاست کی رٹ اورخوف

  

ملوکیت کا خوف، مشائخیت کا خوف، منصف کا خوف،مصلحت کا خوف اور ووٹ کا خوف ۔۔۔!کتنے خوف تھے جنہوں نے مرکز میں راعیوں اور پنجاب میں والیوں کے ہاتھ باندھے رکھے۔کتنے روگ ہیں حکام کی جان کے ساتھ کہ جن کے ساتھ انہیں جینا ہے۔

گویا ایسا جینا بھی کوئی جینا ہے ۔ملائی سلطانی کو بچھاڑنے نکلی تھی اور سلطانی نے اپنے بچاؤ کے لئے ریاست کی حاکمیت کوآگے کر دیا۔دھرنے کے دجل میں سب کے سب فاتح رہے کہ کوئی بھی نہیں ہارا۔کوئی آن بچا آیا تو کوئی جان بچا نکلا،کوئی بے سرو سامان نکلا تو کوئی زندگانی کے امکاں میں جا نکلا۔

مظاہرین بھی سر اٹھاتے رہے اور حکومت بھی سرخرو ہوئی تو اپوزیشن بھی سرفراز ٹھہری۔ادبار وانتشار کی اس دھوپ چھاؤں میں سب کے سب اپنی حیات بچا آئے مگر مملکت کی حا کمیت کو موت نے آلیا۔ پولیٹیکل سائنس کی جدیداصطلاح میں جسے ریاست کی رٹ کہتے ہیںیااہل زبان اسے ریاستی عملداری کا نام دیتے ہیں۔۔۔ وہ کیا ہوئی؟اس کے والی وارث،مالک و مختار کدھر مر گئے؟

گھر میں آگ لگی تھی اور چودھری نثار اوراحسن اقبال کی توپوں کے دہانے اپنے ہی خلاف شعلے اگلنے چلے تھے۔اس پر بھی انہیں لیڈری اور رہنمائی کا غرہ ہے؟خورشیدشاہ اور اعتزاز احسن دہکتے انگاروں پر پٹرول ڈال رہے تھے۔

کیا یہی ہے ان کا تدبر اور سیاست؟ساعت آخریں اپوزیشن لیڈرکی بکری کی طرح منمناتی آواز آئی کہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹ اورجمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے۔واہ جی واہ:

شہباز شریف کے رنگ برنگے بیانات اور پینترے بدلتے احساسات بھی ان شعلوں پرپنکھی سی جل گئے۔شاہد خاقان عباسی تو اس کڑے سمے میں مصلحت کی بکل مارے چپ لیٹے رہے اور نواز شریف ؟

مریض فرقت کا ہے یہ عالم کہ شام سے کچھ خبر نہیں

وہ آئیں گے دیکھنے سحر کو یہاں امید سحر نہیں

پانی جب سرسے گزرگیا تومیاں صاحب ہڑبڑا کر سپنے سے جاگے کہ ہائے ہائے کم بختویہ کیا کیا!کون کہے کہ ’’ ہیں ہنوز خواب میں جو جاگے ہیں خواب میں‘‘۔

دانشوروں نے کہاکہ اگر حکومت کے کہنے پر فوج نے کردار ادا کیا تویہ غیر آئینی کیسے ہوا؟ حساس اداروں کے اس کردار کوغیرآئینی سمجھنے سے دانشوروں کی منطق واقعی معذور رہی۔ارسطو کی منطق توخیراول روز سے ہی حقیقت کشائی نہ کرنے پرمجبور رہی ہے۔بقول امام فخرالدین رازی۔۔۔منطق کی مہارت میں اگر مدلول اور دلیل کی طاقت نہ ہوتو سمجھئے کہ منطق کے ماتھے پرشکست ثبت ہے۔

دفاعی تجزیہ نگاروں کو چھوڑیئے کہ انہیں کسی کی محبت محاسبہ نہیں کرنے دیتی اور دوسرے کی عداوت تجزیہ سے روکے رکھتی ہے۔سو سوالوں کاایک سوال کہ کیاحکومتوں نے بھی کبھی جتھوں اور جماعتوں سے مساوی طور پر معاہدے کئے ہیں؟ تسلیم و تائیدکہ حکام ریاست کے دستوری دائرے اور بنیادی چوکھٹے کے اندر کسی کو بھی رعایت و سہولت دینے کا حق فائق رکھتے ہیں۔یہ نہ ہوا،کبھی اور کہیں نہ ہوا کہ شہنشاہوں،ظل الہوں اورکج کلاہوں کی طرح کہا گیا ہومانگو کیامانگتے ہو!خیر جانئے اور امان پایئے کہ ادھر سے ابھی کسی گستاخ کا سر نہیں مانگا گیا۔

عمران خان اور طاہرالقادری کے عجوبہ روزگار دھرنے تو خیر کب کے خواب و خیال ہوئے، البتہ ان کے نقش پا باقی اور برقرار ہیں۔کیا عجب کل کلاں کوئی دوسرا گروہ مچل جائے اور مشتعل ہو کرانہی راہوں پر چل نکلے۔پھر بھی حکام ایسے ہی مذاکرات اورویسے ہی معاہدے کریں گے؟سوچا چاہئے کہ پریشر کا یہ تسلسل ،دباؤ کی یہ زنجیر،ریاستی عملداری کی یہ بے توقیری، حکمرانوں کی بے بسی اور دھرنے والوں کی دریدہ دہنی بلکہ من مانی کیا رنگ لائے یا گل کھلائے گی؟ سیاسیات کا بنیادی و جوہری اصول کہ کسی بھی حکومت کی اولین ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔اس کے ساتھ ہی دوسرا سنہری اصول کہ حکمرانوں کی سب سے بڑی اور کڑی ذمہ داری ریاست کی عملداری کو ہر صورت مقدم رکھنا ہے۔

شہریوں کے جان و مال اور سرکاری املاک کے اتلاف کا اگرچہ کوئی متبادل نہیں۔۔۔ریاستی عملداری کاتو سرے سے ہی کوئی متبادل نہیں۔ ریاست کی رٹ کے بغیر کوئی زمین جغرافیائی خطہ تو ہو سکتی ہے،اسے ملک کا نام دینا ممکن نہیں۔کہا جاتا ہے ریاست کی مرکزیت و عظمت کے لئے تو انتہائی وآخری اقدام بھی کرنا پڑے تو کر گزریں۔

چشم بینا نے دیکھا کہ یہاں موجودہ حکومت اپنی سب سے بڑی اور بنیادی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے سے بوجوہ قاصر رہی۔بات پھر وہی کہ جان کواگر ایک سوایک خوف لگے ہوں تو پھر کیا کیجئے۔چلئے چھوڑیئے آپ کچھ نہ کیجئے مگر سیاست کی اصطلاحی تعریف توکیجئے۔

جو آپ کا پڑھنا پڑھانا،اوڑھنا بچھونااور سونا جاگنارہی ہے۔ ’’سیاست ‘‘ناممکنات میں سے ممکنات کا راستہ بنانے کا نام ہے۔آپ ناممکن کو اگر ممکن نہیں بنا سکتے تو پھر سیاست کا جامہ آپ کی قامت پر جچتا نہیں۔

عہد صدیقی میں کچھ مسلمانوں نے مرکز کو زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کر دیا۔ان مانعین زکوٰۃ کاموقف بھی بڑا پیارا تھا۔وہ زکوٰۃ کی رقم کو مرکز کے حوالے کرنے کی بجائے مقامی فلاح و بہبود پر ہی خرچ کرنے کی دلیل اٹھا لائے۔تاریخ کا گہرا مطالعہ اور تنقیدی تجزیہ بتاتا ہے کہ اول اول کبار صحابہ کرامؓ ان لوگوں کے خلاف جنگ کو جائز نہ سمجھتے تھے۔

انہی ایام میں نجد کے بعض قبائل کا وفد اس پیشکش کے ساتھ مدینہ آیا کہ انہیں زکوٰۃ سے چھوٹ دی جائے تو وہ اسلام پر قائم رہیں گے ورنہ بغاوت کر دیں گے۔کہا جاتا ہے صورتحال کی نزاکت کے سبب کبار صحابہ بشمول حضرت عمرؓاور ابو عبیدہ بن جراحؓنے حضرت ابو بکرؓ کو مشورہ دیا کہ مصالحانہ رویہ اختیار کیا جائے۔(تاریخ الردہ۔

خورشید احمد)دلیل یہ دی کہ رسول اللہ ﷺکلمہ پڑھنے والے کو مسلمان سمجھتے تھے اورکلمہ گو کے خلاف جنگی کارروائی سے گریز ہی زیبا۔تاریخ گواہ ہے کہ خلیفہ اول نے ان کے مطالبات اور ساتھیوں کی مشاورت مسترد کر دی۔

دلیل انہوں نے یہ دی کہ اگر آج اس طرح کے مطالبات مان لئے گئے تو اس سے مدینہ(مرکز)کی کمزوری ظاہر ہو گی۔پھر کل کلاں نت نئے نا مناسب مطالبات کا دروازہ چوپٹ کھل جائے گا۔کہا جاتا ہے خلیفہ اول کے اس اجتہادی فیصلے کے پیچھے ریاست کی رٹ،عظمت و حشمت بحال کر نا تھا اور بس۔سو تمام تر اختلافات اور مشاورت کے باوصف بھی وہ بحال ہو کررہی۔

مزید : کالم