تمباکو نوشی کے نقصانات۔۔۔ہر روگ سے زیادہ ! (2)

تمباکو نوشی کے نقصانات۔۔۔ہر روگ سے زیادہ ! (2)
تمباکو نوشی کے نقصانات۔۔۔ہر روگ سے زیادہ ! (2)

  



تمباکونوشی انسان کو الگ الگ طریقوں سے مارتا ہے۔ ان میں سے کینسر، ہارٹ اٹیک اور ایک سے دوسرے کو پہنچناہے۔ تمباکو نوشی کے باعث انسانی جسم کے مختلف نوعیت کے سرطان کے مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، مثلاً جگر کا سرطان، منہ کا سرطان، آواز کا کینسر، سانس کی نالی کا کینسر، گردے کا کینسر، پیٹ، پھیپھڑے، لبلبے کا سرطان، Leukemia ان میں سب سے زیادہ تمباکو نوشی سے ہونے والا سرطان جگر کاہے۔ ہر سگریٹ انسان کی زندگی کے 14منٹ کم کردینا ہے۔

وہ آدمی جو سگریٹ نوشی کرتا ہے اس کے موت کی طرف بڑھنے کا رسک عام انسان جو کہ سگریٹ نوشی نہیں کرتا ہے، اس سے دس گنا زیادہ ہے۔

وہ لوگ جو سگریٹ نوشی میں مبتلا ہیں، ان کی عمر کے پندرہ سال عام انسان کی زندگی سے کم ہوجاتے ہیں۔ سگریٹ نوشی آہستہ آہستہ انسان کو موت کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ وہ آدمی جو سگریٹ استعمال کررہا ہے یہ نہ صرف اس کے لئے نقصان دہ ہے، بلکہ وہ شخص جو اس کے برابر کھڑا ہے، اس کے لئے بھی یہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ اسے تمباکو نوشی کی ایک قسمPassive Smoking کہاجاتا ہے۔

پچھلے پانچ برسوں میں تمباکو نوشی کا استعمال بے حد بڑھا ہے، جس کی وجہ میڈیا اور سماجی مسائل ہیں۔ خاص طور پر نوجوانوں میں اس کا استعمال کافی زیادہ ہوگیا ہے، صرف ترقی پذیرممالک ہی نہیں، ترقی یافتہ ممالک، خصوصاً امریکہ میں نوجوان نسل میں اس کا استعمال اس قدر زیادہ ہوگیا ہے کہ خود حکومت نے بھی اس سلسلے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جوان کسی بھی قوم کا سرمایہ اور مستقبل ہوتے ہیں۔ اسی لئے دُنیا بھر میں نوجوانوں کی کردار سازی اور صلاحیتوں کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ایک صحت مند نوجوان اپنے خاندان، ملک و قوم کے لئے مثبت اور تعمیری کام سرانجام دیتا ہے۔ دنیا بھر میں نوجوانوں کی صحت اور دیگر سماجی فرائض کے حوالے سے سکول سے ہی تربیت شروع کردی جاتی ہے، خاص طورپر تمباکو نوشی کے نقصانات کے حوالے سے ان کو بچپن سے ہی آگاہ کرنا شروع کردیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں تمباکونوشی کی وبا تنزلی کی جانب مائل ہے۔

عالمی صحت کو لاحق خطرات میں تمباکو نوشی کی وبا سب سے تباہ کن ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دُنیا بھر میں سالانہ60 لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوکر مرجاتے ہیں، جن میں سے چھ لاکھ سے زیادہ افراد خود تمباکونوشی نہیں کرتے، بلکہ تمباکونوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے دھوئیں کا شکار ہوجاتے ہیں ۔

دُنیا بھر میں ایک ارب سے زائد لوگ تمباکونوشی کرتے ہیں، جن میں سے80 فیصد لوگ ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، فلپائن، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں تمباکو نوش لوگوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس اضافے کا بڑا سبب ان ممالک کا نوجوان طبقہ ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں جاپان اور چین کے60 فیصد مرد حضرات سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہیں۔ سگریٹ نوش آبادی میں12 فیصد خواتین شامل ہیں، جبکہ روزانہ ایک لاکھ بچے سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں۔

سگریٹ، پائپ، سگار، حقہ، شیشہ اور تمباکو کو کھانے والا استعمال، جیسا کہ پان، چھالیہ، گٹکا وغیرہ اور تمباکو سونگھنا جیسی تمام عادات خطرناک ہوتی ہیں۔ تمباکو میں موجود نکوٹین دماغ میں موجود کیمیکل مثلاً ڈوپامائن اور اینڈروفائن کی سطح بڑھادیتا ہے، جس کی وجہ سے نشے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ یہ کیمیکل خوشی یا مستی کی حسیات کو بیدار کردیتے ہیں،جس سے جسم کو تمباکو مصنوعات کی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

ان عادات کو ترک کرنا کسی بھی فرد کے لئے بہت مشکل ہوجاتا ہے، کیونکہ جسم میں نکوٹین کی کمی سے طبیعت میں پریشانی، اضطراب، بے چینی، ڈپریشن کے ساتھ ذہنی توجہ کا فقدان ہوجاتا ہے۔ تمباکونوشی بہت آہستگی کے ساتھ جسم کے مختلف اعضا کو نقصان پہنچانا شروع کردیتی ہے اور ایک فردپر کئی برسوں تک اپنے اندر ہونے والے نقصانات واضح نہیں ہوپاتے اور جب یہ نقصانات واضح ہونا شروع ہوتے ہیں، تب تک جسم تمباکوکانشہ مکمل طور پر عادی ہوچکا ہوتا ہے اور اس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

تمباکو اور اس کے دھوئیں میں تقریباً چار ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں، جن میں اڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لئے نہایت نقصان دہ پائے گئے ہیں اور پچاس سے زائد ایسے کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔

ان میں سے چھ کیمیکل بینزین ٹرولیم کی پراڈکٹ)، امونیا (ڈرائی کلیننگ اور واش رومز میں استعمال)، فارمل ڈی ہائیڈ (مردوں کو محفوظ کرنے کا کیمیکل)اور تارکول شامل ہیں۔ تمباکو کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں، جس سے ہارٹ اٹیک اور سٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس دھوئیں میں موجود کاربن مونو آکسائیڈ گیس ہوتی ہے جو خون میں آکسیجن کی کمی کا باعث ہوتا ہے۔

سگریٹ نوش سانس کی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے، جس میں برونکائٹس (COPD) اور ایفی زیما (Emphysema) قابلِ ذکر ہیں۔ ایفی زیما میں پھیپھڑوں میں ہوا کی جگہیں بڑھ جاتی ہیں، اس سے سانس لینے میں دشواری اور انفیکشن،یعنی نمونیہ ہونے کاخطرہ رہتا ہے۔

اس حالت میں پھیپھڑوں کے ٹشو ہمیشہ کے لئے ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں، جس سے مریض کو شدید کھانسی،سانس لینے میں دشواری اور دمہ کی علامات پیدا ہوجاتی ہیں۔

پھیپھڑوں کا نمونیہ ہونے کی صورت میں پھیپھڑوں کو مناسب آکسیجن نہیں ملتی، جس سے دوسرے اعضا خاص طور پر دماغ بہت متاثر ہوتا ہے اور مریض کا سانس بند ہونے سے موت واقع ہوجاتی ہے۔تمباکو نوشی کی وجہ سے دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔

عام افراد کی نسبت سگریٹ نوش کو دِل کی بیماری ہونے کا خطرہ دوگنا ہوتا ہے۔ تمباکو کا دھواں خون کی شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتا ہے، جس سے دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے اور دِل کا دورہ پڑ جاتا ہے۔

سگریٹ نوشی سے دماغ کے سٹروک (Isechemic Stroke) جس میں دماغ کو خون کی فراہمی کم ہوجاتی ہے اور ہیمرج (Hemorrhagic Stroke) جس میں دماغ میں موجود خون کی شریانیں پھٹ جاتی ہیں، کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔

اس کے علاوہ سگریٹ نوشی کے دیگر نقصانات بھی ہیں، جیسا کہ ہڈیوں کا کمزور ہوکر کولہے کی ہڈی کا ٹوٹ جانا، معدے کا السر، چہرے اور جسم کی جلد پر جھریاں پڑجانا۔تمباکونوشی کا سب سے زیادہ اورخطرناک نقصان پھیپھڑوں کو ہوتا ہے۔

پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا تقریباً 90 فیصد لوگ موجودہ یا سابقہ تمباکو نوش ہوتے ہیں۔ جتنے زیادہ آپ سگریٹ پیتے ہیں، اتنا ہی پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

سگریٹ پینے والی خواتین میں بھی بریسٹ کینسر ہونے کا احتمال بہت بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح تمباکو نوشی منہ، گلا، خوراک کی نالی (ایسوفیگس)کا کینسر، معدے کا کینسر ، جگر کا کینسر ،مثانے کا کینسر،لبلبے اور گردے کے کینسرکا باعث بھی بنتا ہے۔ دل کی20 فیصد بیماریاں سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتی ہیں جبکہ دماغ کی کچھ نفسیاتی اور دیگر بیماریوں کا تعلق بھی تمباکو نوشی سے ہے۔ تمباکو چبانے اور سونگھنے والے افراد کو منہ، مسوڑھوں اور گلے کا کینسر ہونے کا بہت امکان ہوتا ہے۔

تمباکونوش وقت سے پہلے مرجاتے ہیں، جس سے جہاں ان کے خاندان اپنوں کی قربت سے محروم ہوجاتے ہیں، وہیں وہ ان کی آمدنی سے بھی محروم ہوجاتے ہیں ۔ اسی طرح تمباکونوش افراد کے خاندان کی صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور ملکی طور پر بھی صحت کے اخراجات میں اضافہ ہونے سے ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔(ختم شد)

مزید : کالم


loading...