سیرت النبیؐ کی روشنی میں قومی بیانیہ کی تیاری

سیرت النبیؐ کی روشنی میں قومی بیانیہ کی تیاری

صدرِ مملکت ممنون حسین نے دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ سیرت النبیؐ کی روشنی میں تیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جیدّ علماء،دانشوروں اور سیاسی و سماجی ماہرین کو اِس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔انٹرنیشنل سیرت النبیؐ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ شدت پسندی ایک ناسور ہے،فکری یکسوئی کے لئے قوم کا متفقہ بیانیہ ضروری ہے۔ تمام مسائل کا حل اسوۂ حسنہ میں پوشیدہ ہے۔ صدرِ مملکت نے بجا طور پر دہشت گردی اور شدت پسندی کو ناسور قرار دیا ہے۔اِس کو جڑ سے اکھاڑنے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے قوم کی توجہ اِس جانب مبذول کرائی ہے کہ نبی اکرمؐ کی حیاتِ طیبہ سے رہنمائی حاصل کر کے اِس سنگین مسئلے کو حل کیا جائے۔بلاشبہ نب�ئ رحمت حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دُنیا کی واحد شخصیت ہیں، جن کی زندگی سے ہر معاملے میں رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔خاص طور پر21ویں صدی میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کا چیلنج ساری دُنیا میں موجود ہے اور سخت پریشانی کا باعث بنا ہُوا ہے۔یہ ایسا سنگین اور پیچیدہ مسئلہ ہے،جو تعمیر و ترقی، استحکام اور خوشحالی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ بنا ہُوا ہے۔عہدِ رسالت سے قبل بھی دورِ جہالت کی وجہ سے دُنیا کو ایسے ہی مسائل اور چیلنج درپیش تھے۔ نبی آخر الزماںؐ نے امن، بھائی چارے اور باہمی احترام کا پیغام دیا اور اس کی وجہ سے ایک انقلابی دَور کا آغاز ہُوا۔

اِس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آج بھی حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کر کے درپیش سنگین مسائل سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ قوموں اور ممالک میں مفاد پرستی نے جڑیں پکڑ لی ہیں۔منافقانہ پالیسیوں کی وجہ سے حالات خراب ہو چکے ہیں۔قول و فعل کے تضاد سے ہر جگہ دہشت گردی اور شدت پسندی پھیل رہی ہے۔ہمارا پاک وطن پچھلے تیس برسوں سے دہشت گردی کا شکار چلا آ رہا ہے۔ہزاروں فوجی اور سویلین شہید ہو چکے ہیں اور ہماری معیشت اِسی وجہ سے مستحکم نہیں ہو سکی۔موجودہ حالات میں ضرورت اِس بات کی ہے کہ اسوۂ حسنہ سے رہنمائی حاصل کر کے قومی بیانیہ تیار کیا جائے۔اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ محض باتیں نہیں،بلکہ فوری عمل کو یقینی بنایا جائے اور مُلک و قوم کو مشکلات اور مسائل کی دلدل سے نکالا جائے۔ وطنِ عزیز میں کامیابی کے بعد دوسرے ممالک کو بھی ہمارے فارمولے اورتجربے سے فائدہ اُٹھانے کی سہولت ہو گی۔

مزید : اداریہ