یونیورسٹیوں کی زبوں حالی

یونیورسٹیوں کی زبوں حالی
یونیورسٹیوں کی زبوں حالی

  

2002ئ میں وجود میں آنے والا ہائر ایجوکیشن کمیشن 2017ء میں پندرہ سالہ جشن منا رہا ہے ۔ بہت سال کمیشن کی طرف سے پہلے اعلان ہوا کہ ہماری کمال ریسرچ کے نتیجے میں ہم مائیکرو ٹیکنالوجی میں مکمل خود کفیل ہو چکے اور اب مزید پیش قدمی جاری ہے۔

پھر اعلان ہوا کہ ہم نے نانو ٹیکنالوجی کے میدان میں قدم رکھ لیا ہے اور جلد اس پر عبور حاصل کر لیں گے۔ میں گزشتہ دس سال سے ڈھونڈ رہا ہوں۔ گلی محلوں اور گھروں میں تو دادو اور نانو بہت نظر آتی ہیں، مگر ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والی کوئی چیز نظرنہیں آتی۔سب زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں۔

تحقیق کے نام پر گل چھڑے اُڑائے جا رہے ہیں ۔ کانفرنس میں جانے کے نام پر غیر ممالک کی سال میں ایک آدھ دفعہ سیر ہر ریسرچر کا حق قرار پایا ہے اور اگر آپ با اثر ہیں تو سال میں پانچ اور چھہ دفعہ بھی سیر ممکن ہے۔ کوئی حساب نہیں ،کوئی پوچھتا نہیں کہ آپ رشتہ داروں سے مل کر آئے یا واقعی کسی کانفرنس میں شرکت کی۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ایجوکیشن کی کوئی خدمت نہیں کی فقط پی ایچ ڈی مافیا کو پوری طرح پنپنے کا موقع دیا ہے،بلکہ اس کی پوری پرورش کی ہے۔

آج کل پی ایچ ڈی مافیا کے لوگ بہت پریشان ہیں۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی نان پی ایچ ڈی شخص کو یونیورسٹی کا وائس چانسلر لگایا جا سکتا ہے۔اس فیصلے کے دو پہلو ہیں۔ نان پی ایچ ڈی اور کوئی بھی شخص۔ نان پی ایچ ڈی لگانے میں کوئی حرج نہیں،بشرطیکہ اس کا تعلق تعلیم ہی سے ہو۔

کوئی بھی شخص اگر تعلیم سے تعلق نہ رکھتا ہوتو اس کے لئے یہاں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے،مگر کیا کیا جائے کہ اس مافیا نے محکمہ تعلیم میں کوئی ایسا شخص رہنے ہی نہیں دیا،جو معقول سمجھ بوجھ رکھتا ہو، جو فہم و فراست کا حامل ہو،جو انتظامی معاملات کو سمجھتا ہواور پی ایچ ڈی بھی نہ ہو۔

یہاں سب ریسرچر ہیں۔ صرف سیاست کرتے ہیں، لیکن ریسرچ کا لیبل پوری طرح سجا رکھا ہوا ہے۔ کمال یہ ہے کہ ہر ریسرچر اپنے اصل کام ریسرچ سے فارغ ہے اور اس کی خواہش ہے کہ کوئی انتظامی عہدہ مل جائے، کیونکہ انتظامی عہدے پر کام کرنے کے فور اً بعد وہ ریسرچ پیپر اگلنے لگتا ہے۔

یونیورسٹی کے اس کے مضمون سے تعلق رکھنے والے ہر نئے پیپر میں اس کا نام ہوتا ہے۔ یہ نام اصل میں کام کا نہیں عہدے کا کمال ہوتا ہے۔ عہدہ ملنے پر لوگ با اثر لوگوں کا اپنے پیپر میں نام ڈالنا باعث فخر سمجھتے ہیں۔ ایک بندہ ہمت کرکے کہیں سے پیپر ڈھونڈ لاتا ہے۔

قطع برید کے بعد ایک نیا پیپر تیار ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے نام کے علاوہ بہت سے مستحقین ، ضرورت مندوں اور بااثر افراد کے نام بھی شامل کرتا ہے۔ پانچ چھ افراد کے نام تو ریسرچ پیپر میں معمولی بات ہے۔

روائتی طور پر یونیورسٹی کے کسی ماسٹر کے امتحان، یعنی MA/MSc یا MS یا M.Phil میں جو بچہ پہلی پوزیشن لیتا ہے اور جس کا سابقہ اکیڈمک ریکارڈ بہت اچھا ہوتا ہے، اسے یونیورسٹی اس کے مضمون میں لیکچرار کی نوکری دے دیتی ہے۔ لیکچرار بھرتی ہونے والے زیادہ تر وہ ہوتے ہیں جو پڑھانے سے پیار کرتے ہیں ، تھوڑی بہت ریسرچ بھی کرتے ہیں، مگر زیادہ ترلوگ ریسرچ میں بہت زیادہ ملوث نہیں ہوتے یا ریسرچ نہیں کرنا چاہتے، حالانکہ پڑھانے کی نسبت ریسرچ بہت آسان کام ہے۔

وہ لوگ جو اس وقت میرٹ پر نہیں آتے، جن کا سابقہ اکیڈمک بھی بہت اچھا نہیں ہوتا، وہ ریسرچ کرنا پسند کرتے ہیں، کیونکہ آج کے دور میں ریسرچ گریڈوں کی دوڑ ان کو فاتح بنا دیتی ہے۔بس پی ایچ ڈی کی اور سیدھے اگلے گریڈ میں۔

اب تو نسبتاً کچھ زیادہ لوگ پی ایچ ڈی کرنے لگے ہیں۔ چند سال پہلے تک کہیں مقابلے والی بات ہی نہ تھی ۔ پی ایچ ڈی کرو اور سیدھے اگلے گریڈ میں ۔ عجیب شارٹ کٹ ہے۔ کوئی یہ بھی نہیں پوچھتا کہ پہلا اکیڈمک ریکارڈ کیسا تھا۔زیادہ تر پی ایچ ڈی ایسے ملیں گے جنہوں نے میٹرک ، ایف ایس سی اور بی ایس سی میں سیکنڈ یا تھرڈ ڈویژن حاصل کی ہوتی ہے، مگر ان کی پی ایچ ڈی ان کے سارے عیب چھپا لیتی ہے۔

اب پی ایچ ڈی حضرات کی تعداد کچھ زیادہ ہو گئی ہے مگر پھر بھی بہت زیادہ مقابلہ نہیں۔ پڑھانے کے لئے آپ کو بہت زیادہ پڑھنا پڑتا ہے۔ ریسرچ میں آپ کام کم کرتے ہیں، مگر تاثر بے پناہ محنت کا دیتے ہیں،جبکہ ہمارے ہاں حقیقت میں ریسرچ کٹ اور پیسٹ سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔

سب سے مزے کی بات یہ کہ آج بھی اگر پی ایچ ڈی لوگوں کے ریسرچ پیپر چیک کئے جائیں تو پتہ چلے گا کہ 90فیصد کسی دوسرے کا پیپر لے کر اس پر کاٹ کر اپنا نام لکھا گیا ہے ،یا ہلکی پھلکی تبدیلی کے ساتھ اپنے لفظوں میں دوبارہ لکھا گیا ہے، مگر یہاں سب چلتا ہے۔پی ایچ ڈی کے لئے ویسے بھی آپ کسی دوسرے کا مقالہ اس کے نام کے ساتھ پورے کا پورا دوبارہ لکھ دیں اور آخر میں چھوٹا سا اختلافی نوٹ لکھ دیں، یہ بھی ریسرچ ہے اور ہر طرح قابلِ قبول ہے۔

پی ایچ ڈی کی ڈگری کا نتیجہ یہ ہے کہ آج وہ ہونہار جو ماسٹر میں پہلی پوزیشن اور سابقہ شاندار اکیڈمک ریکارڈکے بل بوتے پر پڑھانے کے لئے منتخب ہوئے تھے فارغ ہو جاتے ہیں اور نالائق لوگ بڑی تعداد میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

آج صورتِ حال بڑی عجیب ہے۔ پی ایچ ڈی مافیا نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ یونیورسٹیوں سے سب ہونہار نئے اور پرانے اساتذہ کو نکال باہر کیا ہے۔ نام نہاد ریسرچر تو بہت ملتے ہیں،مگر پڑھانے والا کو ئی نہیں ملتا۔مَیں بارہا یہ کہتا ہوں اور کہتا رہا ہوں کہ پی ایچ ڈی یا تو جعلی ہوتی ہے یا پھر جعل سازی سے ہوتی ہے۔

یہ بات حکومت کے ذمہ داروں کو بھی پتہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وائس چانسلرز کی پچھلی ساری سلیکشن میں مقامی پی ایچ ڈی حضرات کو بلایا ہی نہیں جاتا، مگر غیر ملکی یونیورسٹیوں کی ،ماسوائے چند ایک کے، صورتِ حال بھی کچھ بہتر نہیں۔

آج حکومت محسوس کر رہی ہے کہ یہ تمام پی ایچ ڈی کچھ ڈلیور نہیں کر سکے اور نہ ہی ڈلیور کر سکتے ہیں۔ یہ معاملات چلانے کے لئے کلرکوں کے محتاج ہوتے ہیں۔

ان کی نالائقی ہی یونیورسٹیوں کی زبوں حالی کا باعث ہے۔ اِس لئے یونیورسٹی کے انتظامی معاملات کے لئے انہیں ناکارہ قرار دے کر نئے لوگوں کو آزمانے کا سوچا جا رہا ہے۔ شاید اسی کو مکافات عمل کہتے ہیں۔

1990ء میں اساتذہ نے پہلی دفعہ سروس سٹرکچر میں چار درجاتی فارمولاحاصل کیا۔ اس حصول کے لئے جس گروپ نے تگ ودو کی، اس کی قیادت کرنے والوں میں ،میں بھی شامل تھا۔ سروس رولز بناتے وقت میں نے پوری کوشش کی کہ پی ایچ ڈی اور نان پی ایچ ڈی ساتھ ساتھ آئیں۔

پی ایچ ڈی والوں کو مالی فوائد تو دئیے جائیں، مگر انہیں قطار میں ہی آنا چاہئے، مگر حکومت نے انہیں براہ راست بھرتی کا فائدہ دیا۔ نتیجہ میں وہ سبھی سینئر ہو گئے، جس سے پالیسی میکنگ سب ان کے ہاتھ آ گئی اور تدریس میں دلچسپی لینے والے نان پی ایچ ڈی حضرات ترقیوں سے محروم ہوتے گئے۔

آج ہماری یونیورسٹیاں ریسرچ کے کرتب تو دکھا نے کی کوشش میں مصروف نظر آتی ہیں، مگر تدریسی نقطہ نگاہ سے بہت حد تک بانجھ ہو چکی ہیں۔

ذمہ داران اگر آج بھی یونیورسٹیوں ، تعلیم اور ملک کی بھلائی چاہتے ہیں تو پی ایچ ڈی اور نان پی ایچ ڈی دونوں کو پنپنے کا موقع دیں، جو شخص لیکچرار کے طور پر میرٹ پر بھرتی ہو۔ اس کے لئے ترقی کے تمام دروازے کھلے رکھے جائیں ۔

پی ایچ ڈی کرنے والوں کو مالی مراعات ضرور دی جائیں، مگر داؤ پیچ سے آگے بڑھنے اوران کے سیاست میں وقت ضائع کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے۔تمام انتظامی پوسٹوں پر ٹریننگ کے بعد نان پی ایچ ڈی لوگوں کی تعیناتی بہتر سمجھی جائے ۔

پی ایچ ڈی حضرات سے صرف ریسرچ کا کام پوری طرح لیا جائے اور انہیں انتظامی پوسٹوں پر تعینات کرنے سے گریز کیا جائے۔ پی ایچ ڈی لوگوں نے اپنی نا تجربہ کاری سے تعلیمی نظام میں،جو تباہی کی ہے اس کے ازالے کے لئے بہت سوچ بچار اور فہم و فراست سے انقلابی انداز میں کچھ ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ یہ نظام مزید تباہی سے دو چار ہو گا۔

مزید : کالم