جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی

جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی
جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی

  

فیض آباد دھرنے کا نتیجہ کچھ بھی نکلا ہو، حکومت کی ہار ہوئی ہو یا کسی ادارے کی جیت اس بحث سے قطع نظر، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ فیض آباد دھرنے اور پر تشدد مظاہروں نے دنیا کے سامنے ایک مرتبہ پھر پاکستان میں پائی جانے والی انتہا پسندی کو عیاں کیا، اگر ہم بالکل غیر جانبدار ہوکر بات کریں تو ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ یقیناًپا کستانی معاشرے میں دیگر نظریات کے ساتھ ساتھ انتہا پسندانہ سوچ بھی پائی جاتی ہے۔

مغربی میڈیا اور دانشوروں کی طرح پاکستان کے بعض لبرل حضرات یہ موقف اپناتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں انتہا پسندی اسلئے بڑھی کیونکہ یہاں پر جمہوری نظام کا تسلسل نہیں رہا، جمہوریت کو پنپنے کا موقع نہیں دیا گیا اس لئے پاکستان میں انتہا پسندانہ سوچ بھی بڑھتی گئی، مگر اب جو کچھ بھارت میں ہو رہا ہے، اس پر یہ لبرل حضرات کیا موقف اپنائیں گے؟ بھارت میں تو تسلسل کے ساتھ جمہوری نظام چل رہا ہے، مگر وہاں پر بھی انتہا پسندانہ سوچ میں شدت آتی جارہی ہے۔

اس کی تازہ مثال سنجے لیلا بھنسالی کی نئی فلم ’’پدماوتی‘‘ کے خلاف ہونے والے مظاہر ے ہیں۔ اس فلم کے باعث بھنسالی اور ہیروئن دیپکا پڈوکون کو باقاعدہ قتل کرنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔اس فلم کو روکنے کے لئے راجپوتوں نے ایک لشکر بھی بنالیا ہے، یہ لشکر بھنسالی اور دیپکا پڈوکون کاسر قلم کرنے والوں کو انعام دینے کی بات کر رہا ہے۔

مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ نے اعلان کر دیا ہے کہ اگر سنسر بورڈ اس فلم کو منظور کرلے تب بھی وہ مدھیہ پردیش میں اس فلم کی نمائش نہیں ہونے دیں گے۔

اس فلم کے خلاف احتجاج اس لئے کیا جا رہا ہے کہ پدماوتی ایک راجپوت رانی تھی اور ہندوستان کے بادشاہ علاؤالدین خلجی کو جب اس کے بے پناہ حسن کے بارے میں بتایا گیا تو ا س نے اس راجپوت رانی کو حاصل کرنے کے لئے راجستھان پر حملہ کر دیا، جبکہ بر صغیر کے اکثر مورخین’’پدماوتی‘‘ کو حاصل کرنے کے لئے خلجی کے راجستھان پر حملے کو سراسر خیالی تصور کر تے ہیں۔ ان کے مطابق ’’پدماوتی‘‘ کی کہانی خلجی کی موت کے بعد ایک شاعر نے لکھی تھی۔

اس کہانی کی ٹھوس تاریخی شہادت نہیں ملتی۔ مسئلہ صرف ایک فلم کا نہیں ہے بھارت میں نر یندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد انتہا پسندی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ گائے کی حفاظت کے نام پر مسلمانوں کو قتل کرنے کے واقعات میں اتنی زیادہ تیزی آتی جا رہی ہے کہ بھارت کے معروف سیاستدان اور’’آر جے ڈی‘‘ کے سربراہ لالو پر شاد یا دیو کے مطابق ’’پہلے لوگ شیر سے ڈرتے تھے، اب گائے سے ڈرنے لگے ہیں‘‘ لالو پرشاد کے مطابق ریاست بہار کے ضلع سارن میں ایشیا کا سب سے بڑا مویشیوں کا میلہ لگا کرتا تھا، مگر اب لوگ گائے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے ہوئے بھی ڈرنے لگے ہیں۔ اس میلے میں بھی اب زیادہ مویشی نظر نہیں آتے۔

ہندوستان میں آزادی سے پہلے اور اس کے بعد سیاست میں ایک حد تک ہندو انتہا پسندی کا اثر تو ضرور موجود رہا ہے، مگر کلی طور پر ریاست کا جھکاؤ ہندو انتہا پسندی کی جانب نہیں رہا۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہی تھی کہ ہندوستان میں ہندو قوم پرست جماعتیں کبھی بھی اپنے دم پر اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو پائیں۔

ہندو قوم پرستوں کی سب سے بڑی جماعت بی جے پی کو اقتدار میں حصہ لینے کے لئے کسی اور جماعت کی حمایت کرنا پڑتی تھی۔ جیسے 1977ء میں جن سنگھ (بی جے پی) مرار جی ڈیسائی حکومت کا حصہ بنی، یا 1989ء میں اس نے وی پی سنگھ کی نیشنل فرنٹ حکومت کو اپنی حمایت فراہم کی اور جب بی جے پی کو 1998ء اور پھر1999ء کے انتخابات میں دیگر جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ نشستیں حاصل ہوئیں تو اٹل بہاری واجپائی کو اپنی وزارت عظمیٰ بنانے کے لئے درجن سے زائد ایسی سیاسی جماعتوں کی ضرورت پڑی جو بی جے پی کے ہندو توا ایجنڈے پر اس کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں تھیں۔

یہی وجہ ہے کہ بی جے پی 6 سال تک مسلسل اقتدار میں رہنے کے باوجود اپنے ہندو توا ایجنڈے کو نافذ نہ کر پائی۔ مگر مئی 2014ء میں ہندوستان کی سیاست میں یوں ایک بہت بڑی تبدیلی رونما ہوئی کہ پہلی مرتبہ ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی محض اپنے دم پر 545 نشستوں میں سے 283 نشستیں لینے میں کامیاب ہوگئی۔

اب اسے اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لئے اپنے سیاسی اتحادیوں (این ڈی اے) کے ناز نخروں کی ضرو رت نہیں تھی۔بی جے پی اور اس کے سنگ پریوار میں شامل دیگر جماعتوں یا تنظیموں جیسے آر یس ایس، وشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل، سمسکار بھارتی، سیوا بھارتی، دھرم جاگرن سمیتی اور ہندو راشٹر سینا کے پاس اپنے نظریات کے نفاذ کا اس سے زیادہ سنہری موقع پہلے کبھی نہیں آیا۔

جیسا کہ کالم کے آغاز میں ذکر کیا گیا ہے کہ بھارت میں جمہوری نظام ایک تسلسل کے ساتھ موجود رہا ہے، مگر اس کے باوجود وہاں پر بھی انتہاپسندی بڑھتی جارہی ہے۔

دراصل کسی ملک میں اس کے سیاسی نظام کو بھلے وہ جمہوریت ہی کیوں نہ ہو،اس ملک کے سماجی اور معاشی ڈھانچے سے جدا کرکے نہیں دیکھا جاسکتا، اگر ہم بغور مشاہدہ کریں تو پاکستان میں انتہا پسندی کو 80ء کی دہائی میں با قاعدہ فروغ ملنا شروع ہوا، جبکہ بھارت میں بی جے پی جیسی ہندو انتہا پسند جماعت کی بنیاد بھی 1980ء میں ہی رکھی گئی تھی، اسی جماعت نے بعد میں بھارتی سماج کو تیزی کے ساتھ انتہا پسندی کی جانب دھکیلا۔

یوں 80ء کی دہائی سے لے کر اب تک بھارت اور پاکستان میں انتہا پسندی ایک دوسرے کے متوازی ہی چلے آرہے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ہمارے ہاں اس انتہا پسند سوچ نے 80ء کی دہائی میں اپنا رنگ روپ دکھانا شروع کر دیا تھا، جبکہ بھارت میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارتی سماج میں بھی انتہا پسندی کا بھیانک چہرہ با لکل عیاں ہو کررہ گیا ہے۔

بھارت اور پا کستان ہی نہیں، بلکہ اس وقت بنگلہ دیش میں بنگالی قوم پر ستی کے نام پر شیخ حسینہ واجد کا فاشسٹ طرز حکمرانی، برما میں بدھ بھکشوؤں کی دہشت گردی، سر ی لنکا میں بدھ حکمرانوں کا تامل ہندوؤں کے خلاف نسل پر ستانہ رویہ، یہ حالات ثابت کر رہے ہیں کہ اس وقت یہ خطہ بری طرح سے انتہا پسندی کے آسیب میں گھرا ہوا ہے اور اس انتہا پسندی کا تعلق ان ممالک کے سیاسی نظاموں سے نہیں بلکہ معاشی اور سماجی نظاموں سے ہے۔

دراصل ان ممالک کی اکثریت تک معاشی ترقی کے وہ ثمرات نہیں پہنچ رہے کہ جس سے چند فیصد طبقات ہی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ حکمران اور سیاسی جماعتیں ان ممالک کی تہذیبی پسماندگی کا فائدہ اٹھا کر عوام کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

نوجوان طبقات کو اپنا مستقبل زیادہ روشن نظر نہیں آرہا۔ اس مایوسی سے نوجوان نصابی کتابوں اور اپنے سماج میں درج ’’درخشاں ماضی‘‘ کے قصوں کو حقیقت سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔

یہی ذہنیت آگے چل کر دہشت گردی، انتہا پسندی، مذہبی عدم رواداری، نسل پر ستی اور تعصب کی مختلف شکلیں اختیار کرلیتی ہے۔ اس خطے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی جہاں یہ ثابت کرتی ہے کہ سماجی رویوں پر سیاسی نظام نہیں، بلکہ معاشی حالات اپنے زیادہ اثرات مرتب کرتے ہیں تو وہیں دوسری طرف یہ بات بھی ثا بت ہو رہی ہے کہ دہشت گردی کی طرح انتہا پسندی کا تعلق بھی کسی ایک مذہب سے نہیں ہوتا۔

آج بھارت اور برما میں انتہا پسندی کو فروغ دینے والوں کا تعلق اسلام سے نہیں بلکہ ہندومت اور بدھ مت سے ہے۔ اس خطے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کو دیکھ کر زیادہ دکھ اس لئے بھی ہوتا ہے کہ یہ خطہ انتہائی شاندار اور پر شکوہ تہذیبوں کا مسکن رہاہے، مگر آج چند انتہا پسند اس خطے کی تہذیبی میراث کو تباہ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔

مزید : کالم