جاوید ہاشمی،ہجر سے وصال تک

جاوید ہاشمی،ہجر سے وصال تک
جاوید ہاشمی،ہجر سے وصال تک

  

جاوید ہاشمی کے لئے عمر کے اِس مرحلے میں صرف دو راستے کھلے تھے، سیاست چھوڑ دیں اور باقی بزرگ سیاست دانوں کی طرح ایک سیاسی مبصر کے طور پر اپنا کردار ادا کریں یا پھر مسلم لیگ(ن) میں شامل ہو جائیں، تیسرا کوئی راستہ اُن کے لئے موجود ہی نہیں تھا۔

مُلک میں کوئی ایسی جماعت نہیں تھی جو اُن کے سیاسی قد کاٹھ اور مزاج سے لگا کھاتی ہو، حتیٰ کہ وہ جماعت اسلامی میں بھی نہیں جا سکتے تھے،جہاں سے انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز کیا۔

سو اُن کی دیرینہ خواہش تھی کہ کسی طرح باعزت طور پر اُن کی مسلم لیگ(ن) میں واپسی ہو جائے،مگر اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ چودھری نثار علی خان اور خواجہ آصف تھے۔

چودھری نثار علی خان مسلم لیگ(ن) کو غیر اعلانیہ خیر باد کہہ گئے اور خواجہ آصف اقامہ کیس میں اُلجھ کر اب اِس قابل نہیں رہے کہ پارٹی کے اندر کوئی بڑی لڑائی لڑ سکیں،پھر نواز شریف کو بھی آج کل تنکے کا سہارا بھی بہت اہم محسوس ہوتا ہے، وہ پارٹی کے تمام ناراض ارکانِ اسمبلی کو راضی کرنا چاہتے ہیں،سو ایسے میں جاوید ہاشمی کے لئے گنجائش نکل آئی اور شنید ہے کہ آج وہ نواز شریف سے ملاقات کر کے مسلم لیگ(ن) میں واپسی کا مرحلہ طے کر لیں گے۔اس لمحے تک آنے کے لئے جاوید ہاشمی نے بڑے پاپڑ بیلے ہیں۔

مَیں ذاتی طور پر اس کا شاہد ہوں کہ وہ کتنا چاہتے تھے کہ یہ واپسی ہو جائے۔پورے سیاسی منظر نامے پرانہیں سوائے مسلم لیگ(ن) کے اور کوئی دوسری جماعت ایسی نظر نہیں آتی تھی،جو اُن کے سیاسی سفر کو جاری رکھ سکے۔ انہوں نے نواز شریف کو متوجہ کرنے کے لئے بہت سخت باتیں بھی کیں، کام نہ چلا تو بہت نرم باتیں بھی کرتے رہے۔

حالیہ دِنوں میں انہوں نے نواز شریف کے بیانیہ کو آگے بڑھاتے ہوئے ججوں اور جرنیلوں پر بھی تابڑ توڑ حملے کئے، مقصد غالباً یہی تھا کہ پیا راضی ہو جائے۔ آج کل نواز شریف کو پیر بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ جاوید ہاشمی تو انہیں بہت عرصے سے پیران پیر کا درجہ دیئے ہوئے ہیں۔

جاوید ہاشمی کو بہرطور یہ کریڈٹ تو جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستانی سیاست کے حوالے سے کبھی خود کو غیر متعلق نہیں ہونے دیا۔انہیں سیاست میں اِن رہنے کا ہنر آتا ہے، وگرنہ ایسے سیاست دان بھی ہیں جو ایک بار مرکزی دھارے سے باہر ہوئے تو دوبارہ کبھی اُس میں شامل نہ ہو سکے۔

فخر امام، ذوالفقار علی خان کھوسہ، عابدہ حسین وغیرہ کی مثالیں موجود ہیں، مگر جاوید ہاشمی پچھلے تین سال سے کسی سیاسی جماعت میں نہیں، پھر بھی سیاست کے مرکزی دھارے میں شامل ہیں۔اُن کی بات بھی سنی جاتی ہے اور وہ اپنا اثر بھی رکھتے ہیں۔ انہیں میڈیا میں رہنے کا فن بھی آتا ہے اور آئے روز کی پریس کانفرنسیں بھی اُن کے بیانیہ کی بھرپور ترجمانی کرتی ہیں۔

پاکستان میں تو ایسی کوئی مثال موجود نہیں کہ کوئی سیاست دان فالج کے شدید حملے کا شکار ہوا ہو، دائیں ٹانگ اور دایاں بازو متاثر ہوا ہو، مگر اس کے آہنی عزم میں کوئی تغیر و تبدل نہ آیا ہو۔ وہ عملی سیاست میں موجود رہا ہو۔ جلسوں اور ریلیوں میں بھی شرکت کرتا ہو، اور اس کے لہجے کی گھن گرج بھی برقرار ہو۔۔۔ یہ صرف جاوید ہاشمی ہے جو اب بھی ایک متحرک سیاست دان ہے، جس کے پاؤں میں تو لرزش ہے، مگر پائے استقلال میں کوئی لرزش نہیں آئی۔

جاوید ہاشمی اگر عملی سیاست سے کٹ ہو گئے ہوتے تو آج قصۂ پارینہ کہلاتے، لیکن وہ سیاست سے جڑے رہے۔ ان کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جائے کہ ان کی مسلم لیگ (ن) میں واپسی ایک بڑی سیاسی خبر کے طور پر مُلک کے طول و عرض میں سنی گئی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نوازشریف نے جاوید ہاشمی کو پارٹی میں شمولیت کے لئے گرین سگنل دے دیا ہے، لیکن ملتان میں مسلم لیگی کارکن ان کی شمولیت کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔

یہ آگے جا کر مسلم لیگ (ن) کے لئے ایک مسئلہ بنتا ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر زمینی حقائق یہ ہیں کہ جاوید ہاشمی جس حلقے سے ایم این اے بننا چاہتے ہیں، وہ پہلے ہی مسلم لیگی رہنما طارق رشید نے از خود اپنے لئے مختص کر رکھا ہے۔

دوسرا بڑا چیلنج پنجاب کے گورنر ملک رفیق رجوانہ ہیں، جو اپنے بیٹے آصف رجوانہ کو قومی حلقہ 149 سے انتخاب لڑانا چاہتے ہیں اور ان کی گورنری کا ملتان میں محوری نقطہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جاوید ہاشمی اپنی بات کیسے منواتے ہیں؟ میرا نہیں خیال کہ آج ہونے والی ملاقات میں وہ نوازشریف سے اس بات کا کوئی وعدہ لیں گے کہ انہیں قومی حلقہ 149 کا ٹکٹ دیا جائے گا، تاہم اصل امتحان نوازشریف کا ہوگا کہ وہ جاوید ہاشمی کو پارٹی میں شامل کرنے کے بعد ان تمام لوگوں کو مطمئن کریں جو لاہور یا اسلام آباد کے ساتھ ساتھ ملتان میں بیٹھے ہوئے جاوید ہاشمی کی سرگرمیوں کو بڑے غور سے دیکھ رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) نے کل ہی اپنی مرکزی اور ایگزیکٹو کمیٹیوں کا اعلان کیا ہے، ظاہر ہے ابھی ان میں جاوید ہاشمی کا نام موجود نہیں، لیکن انہیں ان سے باہر نہیں رکھا جا سکتا۔ اِس لئے دیکھنا یہ ہے کہ جاوید ہاشمی کو کس کمیٹی میں شامل کیا جاتا ہے اور کیا نوازشریف انہیں پارٹی میں کوئی عہدہ بھی دیتے ہیں؟ ملتان کے سیاسی حلقے تو یہ کہتے ہیں کہ جاوید ہاشمی کو اب انتخابی سیاست سے دستبردار ہو جانا چاہئے۔ نوازشریف کے پاس یہ آپشن موجود ہے کہ وہ انہیں مارچ میں ہونے والے سینٹ کے انتخابات میں پنجاب سے سینٹر منتخب کرا دیں، اس طرح ملتان میں حلقہ 149 کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور جاوید ہاشمی جیسا مقرر بھی پارلیمینٹ میں پہنچ سکے گا۔

اب دیکھنا یہ بھی ہے کہ جاوید ہاشمی اپنی اس عادت پر کیسے قابو پاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اکثر پارٹی کے اندر ناپسندیدہ قرار دیئے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے مجھے کئی مرتبہ یہ کہا ہے کہ پارٹی اجلاس ہو یا ماضی میں کابینہ کا اجلاس،وہ جو بہتر سمجھتے تھے، نوازشریف کے سامنے کہہ دیتے تھے، اسی وجہ سے معتوب قرار پائے

۔ یہی عادت چودھری نثار علی خان نے اپنائی تو انہیں بھی پارٹی کے کونے میں بٹھا دیا گیا۔ اب تو حالات اور زیادہ گھمبیر ہو چکے ہیں۔ نا اہل ہونے کے بعد کم از کم مسلم لیگ (ن) کے اندر نواز شریف کا مرتبہ بلند ہو گیا ہے۔

وہ پارٹی صدر سے اوپر اُٹھ کر پیرو مرشد کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔ اب اُن کی موجودگی میں زبان کھولنا بے ادبی کے زمرے میں بھی آئے گا۔ ایسے میں جاوید ہاشمی کیسے اپنے آزادانہ خیالات کو روکیں گے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔

مجھے اس سے بھی زیادہ اِس بات کی فکر ہے کہ کہیں جاوید ہاشمی حبِ نواز شریف میں حد سے گزرتے ہوئے عدلیہ اور فوج پر چڑھائی نہ کر دیں۔وہ نواز شریف سے پہلے ہی بہت متاثر ہیں۔

انہوں نے نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کو جمہوریت دشمنی قرار دیا ہے، اب نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہو کر اس بیانیہ کو اور کہاں تک لے جائیں گے۔ مَیں نہیں سمجھتا کہ یہ اُن کے لئے کوئی بہتر راہ ہو گی۔

جاوید ہاشمی جیسے سینئر رہنما کی موجودگی میں حالات کو بہتری کی طرف جانا چاہئے نہ کہ ابتری کی طرف۔ ابھی تک تو جاوید ہاشمی ایک آزاد سیاست دان کی حیثیت سے عدلیہ اور فوج کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ سینئر ہونے کے احترام میں اُن کے ایسے سب بیانات نظر انداز کئے جاتے رہے،لیکن اب جبکہ وہ مسلم لیگ(ن) کے پلیٹ فارم سے اُس بیانیہ کو آگے بڑھائیں گے، جو نواز شریف کا ہے تو اُن کے بیانات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا، پھر اپوزیشن بھی اُن کا جواب شدت سے دے گی اور کشیدہ فضا میں، جو پہلے ہی انتشار کا باعث بنی ہوئی ہے، مزید بڑھ جائے گی۔

میری خواہش ہے جاوید ہاشمی کے خلاف وہ تاریخ نہ دہرائی جائے، جس کے صدمے سے وہ برین ہیمرج کا شکار ہوئے۔نواز شریف اگر انہیں مسلم لیگ(ن) میں لے گئے ہیں تو انہیں پارٹی کے اندر نظر انداز کئے جانے کا احساس نہ ہونے دیں۔

مَیں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ جاوید ہاشمی کو نواز شریف سے بڑی محبت ہے۔ یہ محبت مفادات سے بہت بالاتر ہے۔ نواز شریف کی طرف سے نظر انداز کئے جانے کے بعد جاوید ہاشمی ایک بار شدید ڈیپریشن کا شکار ہو کر برین ہیمرج کا شکار ہوئے اور دوسری بار انہوں نے ایک ناراض محبوب کی طرح ردعمل میں مسلم لیگ(ن) چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔

یہ دونوں اضطراری عمل تھے، اُن کا پُرسکون اور سوچا سمجھا عمل یہ ہے جو انہوں نے مسلم لیگ(ن) میں شمولیت اختیار کی ہے۔ مجھے یقین ہے آج رات وہ سکون سے سوئیں گے،کیونکہ ایک طویل ہجر کے بعد انہیں وصال کی شب میسر آئی ہے۔

مزید : کالم