عصمت ریزی پر اکسانے کے الزام میں مصری وکیل کو تین سال قید

عصمت ریزی پر اکسانے کے الزام میں مصری وکیل کو تین سال قید

قاہرہ(این این آئی)مصر میں متنازع سمجھے جانے والے ایک وکیل کو خواتین کی عصمت ریزی پر اکسانے کے جرم میں تین سال قید اور20 ہزار مصری پاؤنڈز جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم 1132 ڈالر بنتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مصر کے نمایاں قدامت پسند وکیل نبی الوحش نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جو خواتین فحاشی اور عریانی پھیلاتے ہوئے چست یا نامناسب جینز پہنتی ہیں ان کا سزا کے طور پر ریپ کرنا چاہیے۔انھوں نے یہ بیان اکتوبر میں جسم فروشی پر مجوزہ قانون کے مسودے پر ٹی وی شو میں ہونے والی بحث کے دوران دیا تھا۔نبی الوحش نے کہا تھا کہ’کیا آپ خوش ہوں گے جب گلی میں چلتی ہوئی ایک لڑکی کا پیچھے سے نصف جسم نظر آئے۔

میرا کہنا تھا کہ جب آپ کسی ایسی لڑکی کو پیدل چلتا ہوا دیکھیں تو یہ محب وطن ہونے پر ذمہ داری ہے کہ اس کو جنسی طور پر ہراساں کیا جائے اور قومی ذمہ داری ہے کہ اس کا ریپ کیا جائے۔اس بیان پر عوام کے غصے کے بعد استغاثہ نے نبی الواح کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔مصر میں حقوق نسواں کی نیشنل کونسل نے نبی الواحش کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ عصمت دری کے لیے یہ ایک ’سنگین بیان‘ ہے جو مصری آئین کی ہر طرح سے مکمل خلاف ورزی ہے۔نبی الوحش نے اس سے پہلے ایک ٹی وی شو میں کہا تھا کہ’ اگر وہ کسی اسرائیلی کو دیکھیں گے تو اسے مار ڈالیں گے۔‘اس کے علاوہ گذشتہ برس اکتوبر میں ٹی وی شو کے دوران ایک عالم دین کے ساتھ جھگڑ پڑے تھے جب عالم دین نے رائے دی کہ خواتین کے لیے سکارف لینا ضروری نہیں ہے۔

مزید : عالمی منظر