حماس کے ملازمین اورتنخواہوں کے معاملے کے حل کی مصری پیشکش

حماس کے ملازمین اورتنخواہوں کے معاملے کے حل کی مصری پیشکش

قاہرہ(این این آئی)فلسطینی جماعتوں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ اور فتح کے درمیان مصالحتی معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹوں کے بعد مصر نے دونوں جماعتوں میں پائے جانے والے دیرینہ تنازعات کے حل میں مدد کی پیش کش کی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مصری حکومت کے ایک ترجمان نے کہاکہ ان کی حکومت حماس اور فتح کے قاہرہ میں اجلاس کے دوران حماس کے دور میں بھرتی ہونے والے ملازمین اور ان کی تنخواہوں کی ادائی کے معاملے پر نظر رکھنے کے لیے مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے اور دونوں جماعتوں میں پائے جانے والے اختلافات کو دور کرنے کے لیے ہرممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔مصر کی طرف سے یہ تجویزایک ایسے وقت میں پیش کی گئی ہے جب حماس اور فتح کے درمیان حالیہ ایام میں مصالحتی کوششوں کو ناکام بنانے کے الزامات کے تبادلے کے ساتھ معاہدے پرعمل درآمد کی خبریں آ رہی ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی نے حماس کے دور میں بھرتی ہونے والے ملازمین کو فلسطینی اتھارٹی کے دفاتر میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔تحریک فتح کی طرف سے غزہ کی پٹی میں حماس کے ملازمین کو اہم عہدوں پر برقرار رکھنے کے مطالبے کو مسترد کئے جانے اور حماس کے ملازمین کی تعداد نصف کرنے کے معاملے پر دونوں جماعتوں میں سخت تناؤ پایا جا رہا ہے۔تحریک حماس کی طرف سے فلسطینی حکومت پر قومی مصالحت کو سبوتاڑ کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ دو ماہ گذرنے کے باوجود حکومت نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی شہریوں پر عاید کردہ پابندیاں اٹھانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔حماس کی طرف سے فلسطینی حکومت کے سربراہ رامی الحمد اللہ کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ہے کہ حکومت غزہ کے عوام کے مسائل حل کرے اور غزہ پر عاید کردہ پابندیاں اٹھائے ورنہ گھر جائے۔

مزید : عالمی منظر