چائلڈ لیبر، بانڈڈ لیبر کے خاتمے کیلئے کی گئی قانون سازی بھی سود مند ثابت ہو سکی

چائلڈ لیبر، بانڈڈ لیبر کے خاتمے کیلئے کی گئی قانون سازی بھی سود مند ثابت ہو ...

لاہور(لیاقت کھرل)چائلڈ لیبر اور بانڈڈ لیبر کے خاتمے کیلئے کی گئی قانون سازی میں جبری مشقت کو باقاعدہ جرم قرار، نئے قانون کے تحت مقدمات کا اندراج، چھ ماہ قید اور بھاری جرمانے کی سزا بھی سود مند ثابت نہ ہوسکی۔جبری مشقت کا شکار بچوں کو سکول بھجوانے کا ٹارگٹ فائلوں میں دفن کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔ رواں سال میں لاہور سمیت پنجاب بھر میں فیکٹریوں،کارخانوں ،ورکشاپوں اور ریسٹورنٹس پر ایک لاکھ سے زائد بچوں سے جبری مشقت لینے کے خلاف محکمہ لیبر کو ٹاسک دیا گیا تھاجس میں محکمہ لیبر نے ایک پرائیویٹ کمپنی کے ذریعے اپنے طور پر سروے کرایا جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو رپورٹ پیش کی گئی کہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں ایک لاکھ نہیں بلکہ پچاس ہزار کے قریب نو عمر لڑکے فیکٹریوں ،کارخانوں ،ورکشاپوں اور ریسٹورینٹس پر کام کر رہے ہیں جن کی عمریں بارہ سے اٹھارہ سال کے قریب ہیں ان بچوں سے جبری مشقت لی جارہی ہے۔ محکمہ لیبر نے ان میں سے پہلے مرحلہ میں 30ہزار بچوں کو سکول بھجوانے کا ٹاسک اپنے ذمہ لیا تھا۔ لیکن اس میں لیبر ایکٹ میں سزانہ ہونے کی وجہ سے محکمہ لیبر کاروائی نہیں کر سکتا جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر لیبر ایکٹ 1992میں ترمیم کر کے لیبر ایکٹ 2016کی منظوری دی گئی ۔لیبر ایکٹ 1992میں صرف پچاس ہزار تک جرمانہ تھا جبکہ چائلڈ لیبر اور بانڈڈ لیبر کے نئے قانون لیبر ایکٹ 2016میں چائلڈ لیبر اور بانڈڈ لیبر کو جرم قرار دیا گیا ہے، جبری مشقت پر چھ ماہ قید اور پچاس ہزار جرمانہ کے ساتھ ساتھ مقدمات کے اندراج کی بھی منظور دی گئی ۔ذرائع نے بتایا کہ محکمہ لیبر کی نگرانی میں کرائے گئے سروے میں سب سے زیادہ پانچ سو بھٹے قصور میں ،چار سو پچاس فیصل آباد ،دو سو اسی شیخوپورہ میں لاہور میں ایک سو ستر جبکہ ننکانہ میں ایک سو چھیانوے بھٹوں پر بانڈڈ لیبر پائی گئی جس میں محکمہ لیبر نے اپنی تیار کردہ رپورٹ میں تیس ہزار نو عمر لڑکوں کو جبری مشقت کا شکار ہونے پر سکولوں میں داخل کرانے کا ٹارگٹ اپنے ذمہ لیا ، باقی بیس ہزار بچوں کو اپنے ہی رپورٹ میں گول کر دیا ،محکمہ لیبر کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس سلسلہ میں لاہور سمیت فیصل آباد، گوجرانوالہ اور دیگر بڑے شہروں میں ایک کی جگہ دو دو ڈائریکٹر تعینات کئے گئے اس کے باوجود محکمہ لیبر اب تک اپنے ذمہ لئے گئے ٹارگٹ پورا نہیں کر سکا ، محکمہ لیبر کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ چائلڈ لیبر پر اب تک لاہور میں چار سو پچاس بچوں کو سکولوں میں داخل کرایا جا چکا ہے، لاہور میں مزید چار ہزار سے زائد بچے سکولوں میں داخل کرانے کے لئے ٹیمیں کام کر رہی ہیں اس حوالے سے ڈائریکٹر لیبر چوہدری نصراللہ نے بتایا کے چائلڈ لیبر اور بانڈڈ لیبر کی خلاف ورزی پر چار سو سے زائد مقدمات درج کرائے گئے ہیں اور ایک سو نوے سے زائد بھٹہ مالکان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جس میں سکول جانے والے بچوں کو یونیفارم کے لئے بارہ سو روپے جبکہ کتابوں کے لئے آٹھ سو روپے سالانہ جبکہ پانچ سو پچاس روپے ہر ماہ سکول فیس الگ دی جارہی ہے انہوں نے بتایا لاہور سمیت پنجاب بھر میں چائلڈ لیبر اور بانڈڈ لیبر کی سخت ممانت ہے جبکہ ڈائریکٹر جنرل پنجاب لیبر فاروق حمید شیخ نے بتایاکہ چائلڈ لیبر اور بانڈڈ لیبرکے حوالے سے ٹارگٹ کو مکمل کیا جارہا ہے انہوں نے بتایا کہ ابتک15ہزار سے زائد بچوں کو سکول بھجوا چکے ہیں اور سکول جانے والے بچوں کو یونیفارم کے لئے بارہ سو کی جگہ دو ہزار دیئے جانے کے لئے وزیر اعلیٰ کو سمری بھجوا دی گئی ہے اور محکمہ لیبر چائلڈ لیبر کے حوالے سے دیئے گئے ٹارگٹ کو پورا کرنے کے لئے شب وروز کوشاں ہے۔ جس میں ابتک لاہور، شیخوپورہ، ننکانہ، قصور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان سمیت دیگر اضلاع میں سینکڑوں کارخانوں ،فیکٹریوں اور ورکشاپوں کے مالکان کے خلاف مقدمات درج کرائے گئے ہیں اور 692 بھٹے سیل کئے گئے ہیں، رواں ماہ کے آخر تک ٹارگٹ پورا کر لیا جائے گا ۔

مزید : صفحہ آخر