بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے پر تیز رفتار اور بلا تعطل کام جاری رکھنے کی ہدایت

بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے پر تیز رفتار اور بلا تعطل کام جاری رکھنے کی ہدایت

پشاور (سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے پر تیز رفتار اور بلا تعطل کام جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ منصوبے کی بروقت تکمیل ایک چیلنج ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ ڈیزائن کی تبدیلی یا کسی بھی قسم کی تاخیر کی قطعاً گنجائش نہیں ۔متعلقہ حکام ہفتہ وار مشترکہ اجلاس کریں اور پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیں ٹیکنکل نوعیت کے مسائل روزانہ کی بنیاد پر آپس میں ملکرحل کریں۔ جس کسی مسئلے میں حکومت کی ضرورت پڑے تو فوراً رابطہ کریں مگر کام کی رفتار میں کمی یا رکاوٹ نہیں آنی چاہیئے ۔یہ ہدایات اُنہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں بی آر ٹی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ صوبائی وزیر میاں جمشیدالدین کاکا خیل ، سٹرٹیٹجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں ، کمشنر پشاور اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس میں زیر تعمیر بی آر ٹی کے کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ ایک بہترین بی آر ٹی پراجیکٹ ہوگا جس کی دیر پا، محفوظ ترین اور معیاری تکمیل ناگزیر ہے۔ اس منصوبے کو آئندہ پانچ ماہ میں بہر صورت مکمل کرنا ہے۔کوئی بھی ٹیکنکل مسئلہ ٹھیکیداروں کے کام میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیئے۔وزیراعلیٰ نے اوور ہیڈ بریج پیر زکوڑی کی پیش رفت طلب کی جس پر بتایا گیا کہ اس سلسلے میں بڈنگ پیکج کا فیصلہ کیا جاچکا ہے ۔دو بڈرز سامنے آئے تھے جن میں سے ایک نے کوالیفائی کیا ۔آئندہ پندرہ دنوں میں مشتہر کردیں گے اور 31 دسمبر تک بڈنگ کا تمام عمل مکمل ہو جائے گا۔ اجلاس کو کوریڈور کے سات فیڈر روٹس کے حوالے سے بھی بریف کیا گیا ۔وزیراعلیٰ نے بی آر ٹی کی مقررہ وقت کے اندر تکمیل کیلئے مطلوبہ رفتار سے کام یقینی بنانے کیلئے کنٹریکٹرز ، آرکیٹیکٹس، ڈیزائنررز اور تمام متعلقہ حکام کا مشترکہ اجلاس بلانے کی ہدایت کی جس پر بتایا گیا کہ ڈیزائنرز بیرون ملک سے 5 دسمبر کو اسلام آباد پہنچیں گے جن کے پہنچتے ہی اجلاس بلایا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ بی آر ٹی کی بروقت اور مطلوبہ معیار کے مطابق تکمیل ہمارا مشترکہ چیلنج ہے۔متعلقہ حکام ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں ، پراگرس شیئر کریں اور فنی نوعیت کے مسائل باہمی مشاورت سے حل کرکے تیز رفتاری سے آگے بڑھیں ۔ یہ عوامی فلاح کا بہترین پراجیکٹ ہے جو پشاور ٹریفک کے مسائل کا کل وقتی حل اور فن تعمیر کا بہترین شاہکار ہو گا۔

پشاور (سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے تحریک انصاف کے عوامی نمائندوں، عہدیداروں اور کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ خود بھی تبدیلی کی ضرورت کو سمجھیں اور عوام کو بھی اس کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ عوام نے تحریک انصاف کو گلیوں ، نالیوں اور سڑکوں کی تعمیر کیلئے نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی اور اداروں کی بحالی کیلئے ووٹ دیا تھا ۔ترقیاتی کام اپنی جگہ ضرور اہم ہیں اور اُن پر کام بھی جاری ہے تاہم بنیادی مسئلہ عوام کو معیاری تعلیم ، صحت اور دیگر خدمات کی آسان فراہمی اور نظام کی شفافیت کا ہے جس پر ماضی میں کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ہم صوبے کو سو فیصد ٹھیک کرنے کا دعویٰ نہیں کرتے تاہم ہر شعبے میں تبدیلی کی دیر پا بنیادیں رکھ دی ہیں۔ سسٹم اپنے پاؤں پر کھڑا ہے ۔ماضی کے خیبرپختونخوا اور موجودہ خیبرپختونخوا کا موازنہ کریں فرق واضح نظر آئے گا۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں صوبائی وزیر محمد عاطف خان کی سربراہی میں پی کے۔23 ،27 اور28 ضلع مردان سے تحریک انصاف کے نمائندوں اور کارکنان پر مشتمل نمائندہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ عوام نے تبدیلی کا شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ تبدیلی کے عمل میں عوام کا تعاون کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ہمیں معلوم ہونا چاہیئے کہ قومیں گلیوں، نالیوں کی تعمیر سے نہیں بلکہ نظام سے بنتی ہیں۔ تحریک انصاف واحد سیاسی جماعت ہے جس نے انتخابی مہم میں دیئے گئے اپنے منشور پر عمل درآمد کیا اور عوام کو تعلیم ، صحت ، پولیس ، پٹوار اور دیگر محکموں میں خدمات کی فراہمی کا قابل عمل سسٹم دیا جو بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اب صو بہ استحکام کی طر ف بڑھ رہا ہے ، خوشحالی کے دریچے کھل چکے ہیں اور صنعتوں کی بحالی شروع ہو چکی ہے۔ہم نے اطلاعات تک رسائی ، خدمات تک رسائی اور وسل بلوئر جیسے قوانین بنا کر نظام کی شفافیت کو دیر پا بنا دیا ہے۔پولیس کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب وہ حکومت میں آئے تو پولیس سیاستدانوں کی غلامی پر مجبور تھی اُس کی عزت نفس ختم کرکے بد نام ترین محکمہ بنا دیا گیا تھا۔صوبائی حکومت نے پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد کیا اور ایک بااختیار فورس بنا لیا۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں ترقیاتی کاموں میں بھی بے پنا ہ کرپشن کی گئی ۔ صوبے بھر کی سڑکیں تباہ حال اور عمارتیں دو نمبر بنائی گئیں۔ پورے صوبے کے انفراسٹرکچر اور سڑکوں کو ٹھیک کرنے کی ضرورت تھی ۔صوبائی حکومت نے دستیاب وسائل کے مطابق ترقیاتی سکیموں کا نہ صرف اجراء کیا بلکہ ان کا معیار بھی یقینی بنایا ۔ہمارے تعمیراتی منصوبوں کا ماضی سے موازنہ کریں تو زمین آسمان کا فرق نظر آئے گا۔ ہمارے سسٹم میں غلط کاری کی گنجائش موجود نہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر تخت بائی 1122 سروس کو ملحقہ علاقے تک توسیع دینے کی منظوری دی جبکہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں عوامی فلاح کی سکیموں پر عمل درآمد کیلئے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں۔ اُنہوں نے سرکاری وسائل سے تعمیر ہونے والے حجروں تک عوام کی رسائی یقینی بنانے کیلئے متعلقہ ڈپٹی کمشنر ز کے نوٹس میں لانے کی ہدایت کی اور کہاکہ سرکاری وسائل سے تعمیر ہونے والے سکیموں پر فرد واحد کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیئے اُن کا مفاد عامہ میں استعمال یقینی بنایا جائے۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام سے صوبے میں تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوار ٹر ہسپتالوں کو آلات کی فراہمی پر بھی پیش رفت طلب کی جس پر بتایا گیا کہ ہسپتالوں کو مطلوبہ آلات اور سامان کی سپلائی کا عمل جاری ہے جو عنقریب مکمل کرلیا جائے گا۔

مزید : کراچی صفحہ اول