ضلعی حکومت ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھا دیا‘ اسد کاشمیری

ضلعی حکومت ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھا دیا‘ اسد کاشمیری

شیرگڑھ( نامہ نگار )ضلعی نائب ناظم اسد علی کشمیری نے کہا ہے کہ مردان کی ضلعی حکومت نے مختصر عرصے میں کروڑوں روپوں کے ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھاکر ضلع کا نقشہ بدل دیا اس کے علاوہ خواتین کی فلاح وبہبود کیلئے بھی گراں قدر منصوبے بھی منظور کئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں ٹی ایم اے ہال مردان میں غیر سرکاری تنظیم سی پی ڈی آئی اورسائبان ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام ضلعی بجٹ کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پروگرام سے تحصیل کونسلر عبدائرشید پیرزادہ ایڈوکیٹ اور عامر فدا ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کی۔سائبان ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے محمد عارف نے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ سی پی ڈی آئی نے ضلعی سطح پر بجٹ سازی کے عمل پر مشتمل سروے رپورٹ جاری کر دی گئی رپورٹ کے مطابق عوامی شمولیت اور شفافیت کے اعتبار سے خیبر پختونخواہ میں بجٹ سازی کا عمل انتہائی مایوس کن رہا۔بجٹ کال لیٹرزدیر سے جاری کیے گئے ،اہم سٹیک ہولڈرز کیساتھ مشاروت نہیں کی گئی،صوبہ بھر میں صرف پانچ اضلاع کی ویب سائٹس فعال ہیں جبکہ ضلعی سطح پر بجٹ برانچز میں110آسامیاں خالی ہیں۔محمد عارف نے کہا کہ مقامی حکومتیں مختلف سٹیک ہولڈرز کو بجٹ سازی کے عمل میں شامل کرنے میں ناکام رہیں اور کسی بھی ضلع کی جانب سے پری بجٹ سٹیٹمنٹ جاری نہیں کی گئی۔ بجٹ رولز کے مطابق اس دستاویز کا جاری کیا جانا ضروری ہے تاکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادکی رائے شامل کی جاسکے ۔33فیصد اضلاع میں مختلف طبقہ فکر کے لوگوں کے ساتھ قبل از بجٹ مشاروت (پری بجٹ کنسلٹیشن)نہیں گئی ۔جن اضلاع میں یہ مشاورت ہوئی وہاں بھی.لوکل گورنمنٹ بجٹ رولز میں دی گئی .سٹیک ہولڈرز کی فہرست کی خلاف ورزی کرتے ہوئے. شہریوں اور مختلف طبقات کو نظر انداز کرکے محض ضلعی افسران اور منتخب نمائندگان کو اس میں شامل کیا گیا ۔بجٹ رولز کے مطابق بجٹ کال لیٹر ستمبر میں جاری ہوجانا چاہیے جو بجٹ سازی کا سب سے پہلا عمل ہے لیکن سروے کے نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے صرف 8اضلاع نے15نومبر2016تک یہ لیٹر جاری کیا جبکہ باقی اضلاع کی جانب سے31مارچ2017تک یہ لیٹر جاری ہی نہیں کیا گیا ۔ صرف8اضلاع ایسے تھے جنہوں نے30جون سے قبل بجٹ کو منظور کرلیا تھا۔ محمد عارف نے مزید کہا ہے کہ شفافیت کو فروغ دینے کے سلسلہ میں تمام اضلاع کی کارکردگی بہتر نہیں رہی ۔ اضلاع نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو استعمال میں لاکر شہریوں کی بجٹ تک رسائی کے حوالہ سے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔صرف5اضلاع کی ویب سائٹس فعال ہیں جن میں سے ایک ضلع ایسا ہے جس کا پچھلے تین سال کا بجٹ اس کی ویب سائٹ پرموجود ہے۔سروے کے مطابق کسی ایک ضلع نے بھی سیٹیزن بجٹ جاری نہیں کیاجس کا مقصد بجٹ کی اہم تفصیلات کو شہریوں تک عام فہم کاانداز میں پہنچانا ہوتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ضلعی سطح پر موجود بجٹ برانچز انسانی وسائل کی کمی کا شکار ہیں اور سروے کے مطابق ان برانچز کی406منظورشدہ آسامیوں میں سے صرف 296 پراہلکار تعینات ہیں جبکہ110آسامیاں خالی ہیں اسی طرح11اضلاع ایسے ہیں جہاں ڈسٹرکٹ آفیسر پلاننگ کی سیٹیں بھی خالی ہیں یہ صورتحال بھی بجٹ سازی کے عمل میں تعطل اور تاخیر کی وجوہات کو جزوی طور پرواضح کرتی ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر